عفاف اظہر

چڑیا گھروں کی ایک حقیقت بہت اذیت دیتی ہے، جنگلوں میں بند جنگلی جانور!
جنگلی جانور، جن کی فطرت خالصتا جنگل سے ہی وابسطہ ہوتی ہے اور جو بنے ہی جنگل کے لیے ہیں، انہیں انسان اپنی تفریحَ طبع کی غرض سے جنگل سے اٹھا کر یہاں انسانی بستیوں میں لا بساتا ہے۔ بہ ظاہر تو یہ ایک معمولی سی بات ہے، مگر درحقیقت یہ بھی ایک طرح کی نسل کشی ہے۔ وہ جانور جن کی فطرت جنگل میں چیر پھاڑ اور شکار کے پیچھے بھاگ دوڑ سے عبارت ہوتی ہے اور وہ شکار جن کی فطرت اپنی زندگی کا ہر ممکن بچاؤ اور گھیراؤ پر منحصر ہے، جنگل کی مخصوص فطرت کی ڈور میں جڑے اور ایک دوسرے سے بندھے ہوتے ہیں۔ یہی دوڑ دھوپ ان کی زندگی ہے اور یہی زندگی اور بقا کی رسہ کشی ان جانوروں کو ایک دوسرے کے لیے لازم و ملزوم بناتی ہے۔ انہیں ان کی مخصوص فطری کی بنیاد سے دور کر کے چڑیا گھروں میں لے جانا، بنیادی طور پر ان کی فطرت کو مسخ کرنا ہے۔

جنگل سے اٹھائے جانے والے جانوروں کی چڑیا گھر میں پہنچنے والی پہلی نسل ہمیشہ چڑیا گھر کی اس قید کو موت کی سی اذیت میں کاٹتی ہے۔ ہاں پھر ان سے پیدا ہوئی اگلی نسل خود بہ خود چڑیا گھر کی ہی بن کر رہ جاتی ہے، کیوں کہ قید میں آنکھ کھولنے والوں نے جنگل کی آزادی کو نہ کبھی دیکھا اور نہ کبھی محسوس کیا ہوتا ہے۔

ان کے لیے تو بس چڑیا گھر ہی کل کائنات ہوتا ہے اور پھر انہی جنگلی جانوروں اور درندوں کی ہر اگلی نسل جنگل یعنی اپنی فطرت سے دور ہٹتی ہوئی پالتو یعنی وفادار بنتی چلی جاتی ہے۔ جو درندے جنگل میں خود شکار پر جھپٹتے ہیں، وہ چڑیا گھر آ کر اب اپنی طرف پھینکی ہوئی خوراک شوق سے کھانے لگتے ہیں۔ ان کی زندگی کا مقصد اب دوسروں کے لطف و سیر و تفریح بننا باقی رہ جاتا ہے اور بس اور ہاں اب ذرا چڑیا گھر کی پیداوار پالتو و وفادار ان درندوں کی نسل کو کبھی جنگل میں واپس لے جا کر چھوڑ دیا جائے تو یہ وہاں کچھ لمحے بھی زندہ نہ رہ پائیں گے۔ کیوں یہ اب بہ ظاہر درندے ہی سہی مگر یہ جانور فطرتا جنگلی نہیں رہے۔

یہی حال سبھی جانداروں کا ہے اور بالکل یہی حقیقت ہے انسان کی بھی، جسکی فطرت میں تجسس ہے، تلاش ہے، خرد و فکر ہے اور بہ طور خاص انفرادیت ہے۔ اب اگر پیدا ہوتے ہی بچوں پر وراثتی عقائد، رسوم و رواج کی قلعی کمال مہارت سے چڑھا دی جائے اور پھر انہیں ہمیشہ انہی وراثتی عقائد و رسوم کو سچ، بہتر اور حق ماننے اور ثابت کرنے پر سال ہا سال مخصوص روایتی دائروں میں گھمایا جاتا رہے تو ظاہر ہے انہیں بعد میں ہوش آ بھی جائے تو بھی وہ پالتو و وفادار بن کر چڑیا گھر کے جانوروں کے مانند اسی دائرے کو اپنی کل کائنات سمجھنے لگیں گے کیوں کہ وہ اس دوران اپنی انفرادیت کھو چکے۔

تلاش و تجسس کی کبھی ضرورت محسوس کی نہ ہی آگہی کی، خرد و فکر کی چڑیا اڑنے سے قبل ہی عقیدت کے شکروں نے دبوچ لی، ان کی کل کائنات بھی اب یہی دائرے ہیں۔ ان کی زندگی کا مقصد بھی اب انہی وراثتی عقائد و روایات کی نگہبانی اور عقیدت ہے اور بس۔ اور یوں ان کی بھی فطرت مسخ کر دی گئی ہے اور ہاں یہ بھی بہ ظاھر انسان نظر آتے ہوئے بھی، فطرتا انسان نہیں رہے۔

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here