مہناز اختر

چیف جسٹس ثاقب نثار نے 12 اکتوبر کو لاہور میں وکلاء اور جج صاحبان سے تاریخی خطاب کیا , میں نے اسے تاریخی خطاب اس لیۓ کہا کیونکہ یہ شاید پہلا موقع ہے جب چیف جسٹس نے میڈیا کی موجودگی میں اپنے اصل علاقے یعنی عدالتی نظام پر تنقید کی ہے۔ وکلاء اور جج صاحبان کوانکی ذمہ داریوں کا احساس بھی دلایا اور انکی غفلت اور کوتاہیوں پر روشنی ڈالی ہے۔ میں اس خطاب کو مثبت انداز سے دیکھ رہی ہوں۔ آگے بڑھنے سے پہلے میں اس خطاب کے چند اہم نقاط یہاں نقل کیۓ دیتی ہوں۔ چیف جسٹس کے خطاب کا پس منظر حضرت علیؓ کا یہ قول ہے، ”حکومت کفر سے تو چل سکتی ہے لیکن ظلم و ناانصافی سے نہیں”۔

چیف جسٹس نے اپنے خطاب میں فرمایا, ” ہم 1872 کے انگریزوں کے بناۓ ہوۓ قوانین کے ذریعے آج کے مساٸل حل کرنا چاہتے ہیں, ہمیں تفتیش اور عدالتی نظام کو جدید خطوط پر استوار کرنا ہوگا, جج صاحبان اگر فیصلوں میں تاخیر کریں گے تو ساٸلین کا اعتماد عدالت اور نظام عدل سے اٹھ جاۓ گا,جن غریبوں اور مظلوموں کے کیس کی تاریخیں ہر پیشی پر آگے بڑھا دی جاتیں ہیں انکے گھروں میں موت کا سا سماں پیدا ہوجاتا ہے۔ جناب ثاقب نثار صاحب نے 1884 کے قانون شہادت پر کڑی تنقید کی اور کہا کہ کیا ہمیں معلوم نہیں کہ پاکستان میں جھوٹے گواہ اور ثبوت تیار کرنا کتنا آسان ہے“۔ چیف جسٹس نے ایک فلاحی ریاست کے قیام کے لیۓ بنیادی انسانی حقوق کے تحفظ کی بات کی اور ریاست سے سوال کیا کہ کیا بنیادی انسانی حقوق کی شقیں صرف دکھاوے کے لیۓ آئین میں شامل کی گئی ہیں؟

میں یہاں چیف جسٹس ثاقب نثار کی 13 اکتوبر کی اس تقریر کا حوالہ بھی دیتی چلوں جو انہوں نے لاہور میں محترمہ عاصمہ جہانگیر کی یاد میں منعقد کی گٸی تعزیتی تقریب میں کی۔ آپ نے زبردست الفاظ میں محترمہ عاصمہ جہانگیر کو خراج تحسین پیش کیا ۔ چیف جسٹس نے بتایا کہ پاکستان میں بنیادی انسانی حقوق کے تحفظ کی جدوجہد میں وہ عاصمہ جہانگیر کو اپنا رہبر سمجھتے ہیں۔ اس تقریر میں محترم ثاقب نثار نے پاکستان میں انسانی حقوق کے تحفظ کے لیۓ جمہوریت کو ناگزیر قراردیا۔ چیف جسٹس کا یہ پیغام اس لحاظ سے انتہاٸی اہم ہے کہ پاکستان میں موجود مذہبی شدت پسند طبقے ہمیشہ سے عاصمہ جہانگیر اور جمہوریت کے خلاف نفرت انگیزی کرتے آٸے ہیں۔

محترم چیف جسٹس صاحب بے شک آپ نے اپنی دونوں تقاریر میں قوم کو ایک مثبت اور حوصلہ سے بھرپور پیغام دیا ہے مگر قوم آپ سے کچھ زیادہ کی توقع کرتی ہے۔ پاکستان کے عدالتی نظام کے جن نقائص کا آپ نے ذکر کیا اس پر تو ہم جیسے عام لوگ بھی بات کرسکتے ہیں لیکن آپکا عہدہ اور طاقت آپ سے اس سے بھی زیادہ بےباک اور کڑی تنقید کا متقاضی ہے۔ آپکو پاکستان کے عدالتی نظام میں پاۓ جانے والے ان نقاٸص اور چور دروازوں پر کھل کر تنقید کرنی چاہیے تھی جس پرسوال اٹھانے والوں کی زبانیں بند کروا دی جاتی ہیں۔

محترم چیف جسٹس صاحب آپ پر لازم تھا کہ آپ عدالت اور انصاف پر اثر انداز ہونے والے سیاسی اور مذہبی شدت پسند عناصرکو تنبیہ کرتے۔ افسوس سے کہنا پڑتا ہے کہ پاکستان کا نظام عدل فی الحال نظام استحصال ہے۔ آٸینی عدالتوں کے ہوتے ہوئے شرعی عدالتوں کی موجودگی اس بات کا ثبوت ہے کہ ہمارا عدالتی نظام نامکمل ہے۔ عدالتوں کی موجودگی میں انصاف کی دھجیاں اڑانے کے لیۓ پنچایت اورجرگے موجود ہیں۔ آج بھی پنچایت کے فیصلوں پر انسان قتل کردیۓ جاتے ہیں, خواتین کی ناموس کو سرعام کچلا جاتا ہے اور کبھی خواتین بھیڑ بکریوں کی طرح ایک مرد کی تحویل سے دوسرے مرد کی تحویل میں دے دی جاتی ہیں۔

پاکستان میں کسی بھی وقت کوئی بھی مولوی یا مفتی اپنے نام نہاد فتووں سے ریاست کے قانون کو چیلنج کرسکتا ہے۔ توہین رسالت اور مذہب کے نام پر مشعل خان کا بہیمانہ قتل, سلامت مسیح اور رحمت مسیح کے معاملے میں جسٹس عارف اقبال بھٹی کا قتل ,اور آسیہ بی بی کے معاملے میں گورنر پنجاب سلمان تاثیر کا قتل کن لوگوں کے فتوٶں اور شہہ کے نتیجے میں ہوا کیا آپکو معلوم نہیں؟ کس جج نے حاضر سروس ہونے کے باوجود ممتاز قادری کی لاش کو چوما اور آج مولوی خادم حسین رضوی آسیہ بی بی کے کیس میں جج صاحبان کو کھلے عام قتل کی دھمکیاں دے رہا ہے , آج پیر افضل قادری پھر سے عدلیہ کو یاد دہانی کروا رہا ہے کہ اسکے فتوے کی بنیاد پر جسٹس عارف بھٹی کو قتل کیا گیا اوراگر آسیہ بی بی کے کیس کا فیصلہ اسکی مرضی کے مطابق نہ آیا تو پھر اسکے جانثاران آسیہ بی بی سے ہمدردی کرنے والوں کا وہی انجام کریں گا جو ماضی میں جسٹس عارف بھٹی کا کیا تھا, کیا یہ باتیں آپ کے علم میں نہیں ہیں؟

آپ نے بنیادی انسانی حقوق کی بات تو کی لیکن آپ نے یہ نہیں بتایا کہ پاکستان میں مذہبی اقلیتوں اور خواتین کے ساتھ متعصابانہ رویوں کو آٸینی تحفظ حاصل ہے۔ آپ نے توہین رسالت اور توہین مذہب کا الزام لگا کر انسانوں کو بے دردی سے قتل کردٸیے جانے کی مذمت نہیں کی۔ آپ نے تحفظ ناموس مذہب کے قوانین کے غلط استعمال پر بات نہیں کی۔ آپ نے ماوراۓ عدالت قتل پر بات نہیں کی ۔ آپ نے نقیب اللہ,انتظار حسین اور مشعل خان کو انصاف دلانے کی بات نہیں کی۔ آپ نے جنسی زیادتی کا شکار ہونیوالی خواتین کو بروقت اور باعزت طریقے سے انصاف دلانے کی بات نہیں کی۔ آپ نے اندرون سندھ وڈیروں اور مولویوں کی سرپرستی میں کمسن لڑکیوں کی جبری مذہب کی تبدیلی اور شادی پر بات نہیں کی۔ آپ نے شادی شدہ خواتین پر ازدواجی جنسی زیادتی اور تشدد جیسے معاملات پر بات نہیں کی۔ آپ نے یہ نہیں بتایا کہ ریاستی دہشت گردی یا ملّاگردی کے شکار پاکستانیوں کے لیئے عدالتوں سے انصاف کا حصول ناممکن ہے.

آپ نے پاکستان میں اسلام کی آڑ میں خون بہا اور قوانین حدود کے غلط استعمال کی مذمت نہیں کی۔ آپ نے کھل کر کیوں نہیں کہا کہ پاکستان میں انصاف بااثر وڈیروں,جاگیرداروں اور مولویوں کے گھر کی لونڈی ہے۔ آپ نے پاکستان میں دہشگردی کے خلاف جنگ کی آڑ میں پاکستانیوں خاص طور پر پختونوں اور بلوچوں کے ساتھ ہونیوالی زیادتی کا ذکر نہیں کیا۔ آپ نے ریاست کی سرپرستی میں ہونیوالے سانحہ ماڈل ٹاٶن اور سانحہ ١٢ مٸی کا ذکر نہیں کیا۔ جناب چیف جسٹس صاحب اگرچہ میں آپکے حالیہ خطبات کو مثبت انداز سے دیکھ رہی ہوں لیکن یہ بات خود میرے لیۓ خوفناک ہے کہ آپ بحیثیت چیف جسٹس, پاکستان کے عدالتی نظام پر اثرانداز ہونیوالے مذکورہ عناصر پر تنقید کرنے سے خوفزدہ ہیں۔ پاکستان میں موجود یہ مذہبی یا سیاسی شدت پسند عناصر جب چاہتے احتجاج, توڑ پھوڑ اور خونریزی کے ذریعے ریاست اور عدلیہ کو اپنے مطالبات تسلیم کرنے پر مجبور کردیتے ہیں تو جناب چیف جسٹس ثاقب نثار صاحب! آپ ہی بتائیں کہ ان حالات میں ہم کس طرح آپکی باتوں کواہمیت دیں اور عدلیہ پر بھروسہ رکھیں۔