وقاص احمد

یہ قصہ ہے ایک عدالتی پیشی کا۔ مجرم تھا ٹی وی پر آنے والا ایک جوکر اور منصف تھا، جسٹس لیگ آف بنانا ریپبلک کا سربراہ بیٹ مین۔
بیٹ مین:- آپ کے مجرمانہ جھوٹ سے ہمیں صدمہ پہنچا۔

جوکر:- اجی اب چھوڑیے بھی۔ آپ تو شرمندہ کر رہے ہیں۔

بیٹ مین:- لیکن آپ تو کہہ رہے تھے کہ اگر آپ غلط ثابت ہوئے تو آپ کو پھانسی دے دی جائے۔

جوکر:- لو آپ تو سنجیدہ ہی ہو گئے۔ ہاہاہ

بیٹ مین:- آپ کو سزا ضرور ملے گی۔ لیکن چل بیلیا تیرے واسطے اسپیشل ڈسکاونٹ، آپ خود بتا دیں کتنی سزا دی جائے آپ کو؟

جوکر:- یار اگر اتنا ہی اصرار ہے تو سنا دو کوئی ایک دو مہینے کی پابندی۔

بیٹ مین:- ابے یار کوئی میری بھی عزت رکھ لے میں نے عبرت کا نشان بنانے کی پھڑیں ماری تھیں۔ چھ مہینے کی سزا سناؤں گا تمہیں۔

جوکر:- ابے یار چھ مہینے تو بہت زیادہ ہیں، اچھا نا تیری گل نا میری گل۔ تین مہینے کی سزا ۔پٹھان ریٹ ۔ڈن؟؟

بیٹ مین:- ڈن۔ فیصلہ لکھو جی، اینکر کو 3 مہینے تنخواہ کے ساتھ چھٹی پر بھیجا جاتا ہے۔

جوکر ۔۔۔ اوکے ڈئیر، پھر ملیں گے۔ بائے

بیٹ مین:- بائے

SHARE
Previous articleراستہ دو
Next articleپشتین

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here