شیزا نذیر

دریائے سوات اور کنہار کے برعکس دریائے نیلم قدرے پر سکون دریا ہے۔ ناران کاغان اور سوات میں میری بڑی خواہش تھی کہ ہمارا ہوٹل دریا کنارے ہو جہاں ہم دریا کا نظارہ کر سکیں۔ کشمیر کے سالخہ گاؤں میں ہم جس ہوٹل میں ٹھہرے اُس کے سامنے دریائے نیلم کسی کشمیری حسینہ کی طرح بڑی شان سے بہہ رہا تھا جیسے اُسے کسی بات کی جلدی نہ ہو۔

لفظ نیلم ذہن میں آتے ہی گمان ہوتا ہے کہ اِس دریا کا پانی نیلا ہو گا لیکن ایک بار تو ہمیں مایوس ہوئی کہ نیلم کا پانی نیلا نہیں تھا بلکہ تھوڑا گدلا لگ رہا تھا۔ کیل جاتے ہوئے ڈرائیور نے بتایا کہ ابھی بارشوں کی وجہ سے پانی تھوڑا گدلا ہے ورنہ سردی کے موسم میں اِس کا رنگ گرین یعنی کہ سبز ہو جاتا ہے لیکن نیلا پھر بھی نہیں ہوتا۔ ہلکی سی سبزی اب بھی باقی تھی۔ ایک بات جو مجھے کشمیر میں پسند نہیں آئی وہ تھی دھول اور گرد و غبار۔ میں تھوڑی حیران تھی کہ پہاڑی علاقے میں اتنی دھول مٹی کہاں سے آ گئی۔

ڈرائیور کا ہیلپر بھی ساتھ تھا جس نے ہمیں ایک ایکسیڈنٹ کے بارے میں بتایا کہ بہت سال پہلے اِسی روڈ پر ایک سو پچیس مسافروں کی بس دریا میں گر گئی (جس میں ہیلپر کے دادا بھی تھے) اور کسی کا ناموں نشان نہ ملا۔ غوطہ خور گئے لیکن اُنہوں نے بتایا کہ یوں معلوم ہی نہیں ہوتا کہ یہاں کوئی چیز گری بھی ہے کہ نہیں۔ لاشیں تو دُور کی بات بس کا ایک چھوٹا حصہ بھی نہ مل سکا۔ شادرہ میں بھی ایک کرنل کا خاندان ڈوب گیا تھا اور غوطہ خور ٹیم کو ایک لاش بھی نہ مل سکی۔

ہم پہاڑ پر کوئی سو فٹ سے زیادہ بلندی پر سفر کر رہے تھے اور نیچے وسیع گہرا نیلم بہہ رہا تھا۔ گاڑی کی چھت پر بیٹھے نیلم پر نظر ڈالتے ہوئے مجھے پہلی بار خوف محسوس ہوا، کیونکہ دریا کی طرف سڑک کی ڈھلوان عمودی تھی اور اگر خدانخواستہ تھوڑی سی بھی بھول چونک ہو گئی تو سیدھا نیلم کے پانی میں ہوں گے۔
ہم حیران تھے کہ لاشیں پانی کے اوپر آ جاتی ہیں لیکن نیلم میں ایسا کوئی سین نہیں ہوتا۔ دریا کہاں سے کتنا گہرا ہے اُس کا کوئی پتا نہیں۔ تو ایسے دریا میں کاغذ کی کشتی کی کیا اوقات۔

کشمیر سے آئے ابھی چند دن ہی ہوئے تھے اور میں دوستوں کو کشمیر کا حسن بتانے میں مصروف تھی کہ ایک افسوس ناک خبر سُنی۔ چالیس سے زائد سیاح دریائے نیلم میں پل ٹوٹنے سے دریا میں بہہ گئے۔ چار کی لاشیں ملیں چھے زخمی حالت میں جبکہ باقی لاپتا۔ پہاڑوں میں بہنے والے دریاؤں کا پانی یخ ٹھنڈا ہوتا ہے۔ تین چار منٹ سے زیادہ آپ اس میں ہاتھ پاوں نہیں رکھ سکتے وہ بھی اگر آپ نے شرط لگائی ہے تو۔

تفصیل کچھ یوں تھی کہ کنڈل شاہی نامی پل کے ساتھ ہی انتظامیہ نے انتباہ لکھ کر لگایا ہوا تھا کہ ایک وقت میں چار سے پانچ لوگ پل پر سے گزریں۔ لیکن چالیس سے زائد افراد پر مشتمل گروپ ایک ہی وقت میں پل پر چڑھ گیا اور یہی نہیں بلکہ پل کو جھلانے لگے۔

مجھے اس واقعہ کا بہت افسوس یے کیونکہ ابھی چند دن پہلے ہمراہی کا گروپ کشمیر گیا۔ خدا کا شکر ہے کہ ہم سلامتی سے اپنے گھروں میں پہنچ گئے۔ لیکن مجھے اکثر ایسی باتوں پر غصہ آتا ہے جب لوگ ایسی جگہوں پر جا کر اتاولے ہو جاتے ہیں۔ ایسے پل کے اوپر جس کے بارے میں انتباہ موجود ہو اسے ہلانے کی کیا ضرورت تھی۔ ایڈونچر ضرور کریں لیکن عقل مندی کے ساتھ۔، زندگی سے بڑھ کر کچھ نہیں۔ کشمیر بہت خوبصورت جگہ ہے اس کو وزٹ کریں لیکن اختیاط لازمی ہے۔ ایسے علاقوں میں جگہ جگہ خبردار کیا گیا ہوتا ہے۔ میں خود اِس بات کی گواہ ہوں کہ ہم میدانی لوگ جب پہاڑی علاقوں میں جاتے ہیں تو اِن دریاؤں کو دریائے راوی ہی سمجھتے ہیں اور لکڑی سے بنے پل کو آہنی پل سمجھتے ہوئے اُس پر اُچھل کود کرنا شروع کر دیتے ہیں۔

دریائے کہنار میں ایک خادثہ ہوا تھا کہ ماں بیٹی سیلفی بناتے بناتے دریا میں گر گئی، اُن کے پیچھے باپ نے بھی چھلانگ لگا دی اور پھر تینوں کی لاشیں بھی نہ مل سکیں۔ یہ سب کچھ بتانے کا مقصد ڈرانا نہیں بلکہ یہ بتانا ہے کہ کبھی بھی لاپراہی نہ کریں اور زندگی سے زیادہ ضروری سیلفی نہیں ہوتی۔

میں اور رفعت سڑک سے نیچے اتر کر دریا کے پاس قدرے دُور پتھروں پر بیٹھ گئی تو ایک مقامی خاتون نے کہا کہ آپ کو یہاں نہیں جانا چاہئے تھا۔ میں نے کہا کہ ہم وہاں تک ہی گئے جہاں ایک دن پہلے ایک مقامی خاتون کپڑے دھو رہی تھی۔ وہ بولیں کہ ہمیں معلوم ہے کہ ہم کہاں تک جا سکتے ہیں لیکن آپ کو معلوم نہیں یے اس لئے دریا سے دُور ہی رہیں۔ پھر اُنہوں نے ہمیں چند پوائینٹس بتائے کہ یہاں آپ بیٹھ سکتے ہیں۔ مہربانی سے ایسی جگہوں پر جا کر اختیاط کیجئے۔ مقامی لوگ جو کہتے ہیں وہ مان لیا کریں۔

تمام ہمراہی سالخہ گاؤں کی سیر کو نکل چکے تھے۔ ثمینہ اور رابعہ کسی کشمیری کے گھر میں مہمان تھیں، مَیں اور رفعت بھی گاؤں کی سیر کو نکل گئیں۔ پھر ہم دریائے نیلم کے کنارے بیٹھ کر تصاویر بنانے لگیں۔ نیلم کا پانی زیادہ ٹھنڈا تو نہ تھا لیکن تین چار منٹ سے زیادہ آپ اِس میں پاؤں ڈال کر نہیں بیٹھ سکتے۔

میں کچھ دیر خاموشی سے دریا کنارے بیٹھنا چاہتی تھی۔ ہم نے کٹن جانے کا پلان کینسل کیا اور گاؤں ہی میں رہنے کا فیصلہ کیا اِس لئے ہمارے پاس کافی وقت تھا کہ دریا کنارے بیٹھ کر دھیان گیان کیا جائے۔ نیلم کے ٹھنڈے پانی کی سطح سے ہوا جب چھو کر آتی تو ساری تھکاوٹ دُور ہو جاتی۔ زہنی اور جسمانی تازگی کا یہ احساس پہلے کبھی نہ ہوا تھا۔

نیلم میں ہوئے خادثات سُننے کے بعد بھی مجھے نیلم بڑا ہی بھولا بھالا، معصوم لیکن تھوڑا موڈی سا لگا۔ موڈی اِس لئے کہ کبھی کبھی پانی کی قدرے پرسکون سطح پر جنبش ہوتی جیسے نیلم کہہ رہا ہو کہ زیادہ فری ہونے کی ضرورت نہیں ہے۔ نیلم کنارے بیٹھے ہوئے کاغذ کی کشتی بنانے کو دِل کیا لیکن پھر خیال آیا کہ ہماری کشتی کبھی بھی پار نہ جا پائے گی۔

میں وہاں سے واپس آ کر بھی جب نیلم کنارے والی تصاویر دیکھتی ہوں تو وہیں پہنچ جاتی ہوں۔ آج نیلم کنارے بیٹھے چند بزرگ یاد آ گئے جو فش فارم کی دیکھ بھال پر معمور تھے۔ فش فارم کی طرف جاتے ہوئے ہم نے اُن کو سلام کیا۔ تو اُنہوں نے ہمیں اپنے گھر آنے کی دعوت دی۔ یہاں گاؤں میں آپ کسی کو سلام کریں تو وہ فوراً چائے کھانے کی دعوت دے گا۔ اُن سے بات چیت کر کے جب ہم واپس آنے لگیں تو بزرگ کہنے لگے کہ اگر ہم سے کوئی غلطی ہوئی تو معاف کر دینا۔ پھر پوچھا کہ ہمارا علاقہ کیسا لگا، اور ساتھ ہی کہنے لگے کہ جو بھی غلطی ہوئی ہمیں بتائیں لیکن واپس جا کر ہمارے علاقے کی بدنامی نہ کریں۔ مجھے اُن کی معصومیت پر بہت پیار آیا۔