آصف خان بنگش

حالیہ دنوں میں پھر سے ڈیم بناؤ ملک بچاؤ تحریک سوشل میڈیا پر نظر آرہی ہے تو ہمیں بھی توفیق نصیب ہوئی کہ کچھ اس موضوع پر پڑھ لیا جائے۔ کافی سارا مواد چھاننے کے بعد بات کچھ یوں سمجھ آئی کہ ڈیم بناو کا مطالبہ تو بالکل درست ہے لیکن اس کی سمت بالکل الٹ ہے۔ پاکستان کا مسئلہ یہ ہے کہ یہاں جو بھی چیز اسلام اور حب الوطنی کے نام پر بیچوں خوب بکتی ہے۔ تو نیا ایک منجن یہ بیچا جا رہا ہے کہ کالاباغ کی حمایت کرو نہیں تو غداری کی مہر ہمارے پاس موجود ہے۔

اس بات میں کوئی شبہ نہیں کہ پاکستان میں پانی کا مسئلہ سنگین ہے، عزیز ہم وطنوں نے تین دریا بیچ دئیے اور باقی کے دریاوں پر بھارت 32 ڈیم بنا کر بیٹھ گیا ہے۔ حکمرانوں کی نااہلی دیکھیں کہ وہ عالمی عدالتوں میں اپنا مقدمہ ہی نہیں پیش کر سکے۔ خیر یہاں بات کریں گے کہ مسئلہ کا حل کرنے کے لئے کیا کیا جا رہا ہے۔ یہاں یہ بات سمجھنے لائق ہے کہ مشرقی دریاوں کو تو بھارت نے قبضہ کر کے تقریبا خشک کردیا اب رہ گئے مغربی دریا جس پر ہم اتنا پانی اکٹھا کر سکتے ہیں کہ ہمیں زیر زمیں پانی استعمال کرنے کی بھی ضرورت نہیں پڑے گی اور بجلی بھی اپنی ضرورت سے زیادہ بنا سکتے ہیں۔

کالاباغ ڈیم جو کہ 40 سال سے متنازعہ ہے کو ہر سیلاب کے بعد اچھالا جاتا ہے کہ اگر یہ ڈیم نہ بنا تو پاکستان ڈوب جائیگا اور بجلی کا مسئلہ کبھی حل نہیں ہوگا۔ تو آئیے سمجھتے ہیں کہ اس ڈیم کے فوائد اور نقصانات کیا ہیں اور کس وجہ سے یہ نہیں بن پایا۔ اس ضمن میں اگر یہ کہا جائے کہ یہ ایک سیاسی مسئلہ ہے نہ کہ انتظامی تو غلط نہیں ہوگا۔

کالاباغ کا علاقہ 3 صوبوں کے سنگم پر واقع ہے اور یہاں پر ڈیم کی جو لوکیشن ہے وہ پنجاب کے حصہ میں آئے گی، چونکہ پانی گلگت چترال سے ہوتا ہوا آتا ہے تو اسے ایک ایسے علاقے میں جمع کرنا جس سے صرف ایک صوبہ کو فائدہ ہو باقی صوبوں کو قابل قبول نہیں۔ اب آتے ہیں تکنکی وجوہات کی جانب۔ رپورٹس یہ کہتی ہیں کہ یہ ڈیم تقریبا 3600 میگاواٹ بجلی بنائیگا اور اسے زرعی اراضی سیراب کرنے کیلئے بھی کام میں لایا جائیگا۔ ساتھ ہی یہ بھی کہا جاتا ہے کہ اس سے سیلاب کو روکنے میں مدد ملے گی تو ایک تکنکی نقطہ یہ ہے کہ جوڈیم سیلاب کا پانی روکنے کے لئے بنائے جاتے ہیں انھیں خشک ڈیم کہا جاتا ہے تا کہ سیلاب آتے وقت ڈیم میں پانی کم ہو اور وہ پانی زخیرہ کر لے جو ڈیم بجلی بنانے کے لئے استعمال ہوتے ہیں ان سے پانی کا مسلسل اخراج لازمی ہوتا ہے اور اس کے لئے وہاں پانی زخیرہ کرنا بھی لازم ہے۔ اس لئے دو کام تو ایک ساتھ نہیں ہو سکتے۔ اگر آپ اسے سیلاب سے روکنے کے لئے بناتے ہیں تو پھر زرعات اور بجلی بنانے کے کام نہیں لا سکتے۔ دوسری اہم بات یہ کہ یہ ڈیم ایسے علاقہ میں ہے کہ جہاں ڈیم کی لائف بہت کم ہوگی کیوں کہ دریا اپنے ساتھ مٹی لے کر آتے ہیں جو کالاباغ تک پہنچتے وقت گدلہ ہوگا اور تمام مٹی ڈیم میں چھوڑ جائیگا۔ ڈیم کی سطح کو اگر بلند کریں تو اس کی بنیادیں ایک خاص مقدار میں بوجھ برداشت کر سکتی ہیں۔ نتیجہ یہ نکلے گا کہ مون سون میں ڈیم پانی کا بوجھ برداشت نہیں کر پائیگا اور ایک زبردست سیلاب علاقے کو تہس نہس کر دیگا۔

کالاباغ ڈیم سے بجلی اور پانی کی تمام رائلٹی پر صرف صوبہ پنجاب کا حق ہوگا اور باقی صوبوں کو اس میں سے کوئی حصہ نہیں ملے گا۔ ہاں البتہ کسی حادثے اور سیلاب کی صورت میں تباہی تمام صوبوں میں آئے گی۔ اس وجہ سے تین صوبوں کی اسمبلیوں سے متفقہ قرارداد پاس ہوئی کہ یہ ڈیم نہیں بننا چاہئے۔ سوائے پنجاب کے جو اپنا پانی بھارت کے ہاتھوں کھو چکا ہے اور اب اس کی نظر مغربی پانی پر ہے جس پر کبھی بھی صوبے متفق نہیں ہونگے اور یہ مسئلہ فیڈریشن کو کمزور کرنے کے مترادف ہوگا اس لئے یہ مسئلہ دفن کر دیا گیا ہے۔

اب آتے ہیں کہ اگر کالاباغ ڈیم نہیں بنے گا تو اس کا متبادل بھی موجود ہے؟ تو ایک متبادل جس سے پنجاب اور پختونخواہ دونوں کو فائدہ ہو وہ کالاباغ بیراج ہے جو کہ ڈیم سے کچھ کلومیڑ اوجچائی پر بنایا جاسکتا ہے۔ 100 فٹ کے اس ڈیم پر 60 فٹ کا بیراج بنایا جائے جو کہ ڈیم سے مٹی کا اخراج کرنے کے بھی کام آئے اور پانی بھی زخیرہ کرے۔ قدرے چھوٹا ڈیم ہونے کے ناطے اس کے آبادی کو زیادہ خطرات بھی لاحق نہیں ہونگے اوراس کے پانے کو دو رخوں پر موڑ کے بجلی کے کچھ منصوبے پختونخواہ اور باقی پنجاب میں لگائے جاسکتے ہیں جس پر دونوں صوبے راضی ہونگے اور دونوں صوبوں کو برابر کا حصہ ملے گا۔ اس کی لاگت بھی قدرے کم آئے گی اور تقریبا 3 ارب ڈالر میں بننے والا یہ ڈیم 2000 میگاواٹ سے زیادہ بجلی بنا سکے گا۔ یٹہ تو ایک فوری حل ہے تنازعہ کو ختم کرنے کا۔

اب آتے ہیں کہ اگر کالاباغ ڈیم نہیں بنے گا تو اس کا متبادل بھی موجود ہے؟ تو ایک متبادل جس سے پنجاب اور پختونخواہ دونوں کو فائدہ ہو وہ کالاباغ بیراج ہے جو کہ ڈیم سے کچھ کلومیڑ اوجچائی پر بنایا جاسکتا ہے۔ 100 فٹ کے اس ڈیم پر 60 فٹ کا بیراج بنایا جائے جو کہ ڈیم سے مٹی کا اخراج کرنے کے بھی کام آئے اور پانی بھی زخیرہ کرے۔ قدرے چھوٹا ڈیم ہونے کے ناطے اس کے آبادی کو زیادہ خطرات بھی لاحق نہیں ہونگے اوراس کے پانے کو دو رخوں پر موڑ کے بجلی کے کچھ منصوبے پختونخواہ اور باقی پنجاب میں لگائے جاسکتے ہیں جس پر دونوں صوبے راضی ہونگے اور دونوں صوبوں کو برابر کا حصہ ملے گا۔ اس کی لاگت بھی قدرے کم آئے گی اور تقریبا 3 ارب ڈالر میں بننے والا یہ ڈیم 2000 میگاواٹ سے زیادہ بجلی بنا سکے گا۔ یٹہ تو ایک فوری حل ہے تنازعہ کو ختم کرنے کا۔

اصل توجہ جہاں میں دلانا چاہ رہا ہوں وہ ہے کٹزرا ڈیم جو کہ سکردو کے مقام پر بنایا جاسکتا ہے۔ یہ اتنا بڑا اور مضبوط بنیادوں پر قائم ڈیم ہوگا کہ جس کو چند سالوں میں 9 ارب ڈالر کی رقم سے بنایا جاسکتا ہے۔ یہ ڈیم 6 کالاباغ کے برابر گلیشیرز سے آنے والا صاف پانی زخیرہ کرے گا اور پانی کی شفافیت کی وجہ سے اس کی عمر 1000 سال بتائی جاتی ہے۔ اس ڈیم کے بننے سے بھاشا ڈیم کی عمر میں بھی 800 سال کا اضافہ ہو جائیگا جو کہ ابھی 80 سال ہے۔ کٹزرا میں جہاں 35ملین ایکٹر فٹ پانی جمع ہوگا جو کالاباغ کے 5 یا 6 سے 6 گنا زیادہ ہے وہاں ہی اس سے 15000 میگاواٹ بجلی بھی بنائی جاسکتی ہے جو کہ موجودہ بجلی کے تقریبا آدھے سے بھی زیادہ ہوگی۔ اور لوڈشیڈگ سے ہمیشہ کیلئے چھٹکارہ حاصل ہوگا۔ اس منصوبہ کو واپڈہ نے اپنے 10 سالہ پلان سے ہٹا دیا کیونکہ یہ ایک چھوٹے صوبہ میں واقع ہے اور اس کا مالیاتی فائدہ بڑے صوبے کو نہیں پہنچ سکے گا۔

کٹزرا کے بعد بھاشا اور داسو ڈیمز جو کہ گلگت اور کوہستان میں بنائے جاسکتے ہیں اور دونوں سے تقریبا 10000 میگاواٹ بجلی بنائی جاسکتی ہے۔ بھاشا پر کام کئی سالوں سے شروع ہے لیکن ابھی تک نامکمل ہے۔ بھاشا اور داسو کے بننے کے بعد اگر کٹزرا کے مقام پر ڈیم بنایا جاتا ہے تو سیلاب، بجلی اور پانی کا مسئلہ سرے سے حل ہوسکتا ہے لیکن واپڈا اور باقی کے قومی ادارے کالاباغ ڈیم آر نو ڈیم کی گردان سنائے جارہے ہیں۔ جس سے ایک طرف تو پانی کامسئلہ گھمبیر ہوتا جارہا ہے دوسری طرف افغانستان اس کا فائدہ اٹھا کر ڈیم بنانے لگا ہے۔ اگر پاکستان نے کڑزرا کے مقام پر ڈیم نہ بنایا اور بھاشا اور داسو کی بروقت تکمیل نہ کی تو اسے مشرقی دریاوں کے بعد مغربی دریاوں سے بھی ہاتھ دھونا پڑ سکتا ہے۔

آخر میں صرف ایک بات عرض کروں گا کہ ان ڈیموں کی تعمیر سے جہاں ملک اور قوم کا فائدہ ہوگا وہا چھوٹی اکائیوں کو بھی حوصلہ اور مالیاتی فاہدہ ہوگا جو کہ فیڈیریشن کی مضبوطی کا باعث بنے گا۔ ایسا نا کرنے سے جہاں پاکستان کو نقصان ہوگا وہاں ہی متنازعہ کام کرنے سے چھوٹے صوبے اور گلگت محرومی کا شکار ہونگے بلکہ آنے والے وقتوں میں اس کے نتائج انتہائی بھیانک ثابت ہو سکتے ہیں۔