عاطف توقیر

برسوں پہلے کی بات ہے، جب میں کراچی کی ایک غریب بستی میں مفت تعلیم مرکز چلایا کرتا تھا۔ وہاں گھر گھر جا کر بتانا کہ بچوں کے لیے تعلیم کتنی ضروری ہے اور یہ وہ واحد راستہ ہے، جو ان بچوں کو کوئی بہتر زندگی دے سکتا ہے ۔ رفتہ رفتہ اس علاقے میں لوگ مجھے بازو کھول کر ملنے لگے اور جب جب اس علاقے میں جاتا، تو محبت ان یہاں وہاں موجود لوگوں کی آنکھوں سے چھلک چھلک کر بکھرتی دکھائی دیتی۔ محبتوں کے وہ قرض اب تک مجھے اپنے کندھوں پر محسوس ہوتے ہیں۔
منظور کالونی کے اس علاقے میں اسکول کے قریب ہی ایک حکیم صاحب کا مطب ہوا کرتا تھا اور وہ حکیم صاحب خود اپنے پیر صاحب کے کہنے پراپنا علاقہ چھوڑ چھاڑ کر اس جگہ پر رہ رہے تھے۔ ہمیشہ کہا کرتے تھے، ’’کاکا پیراں نے ایتھے کل چھڈیاں تے ایتھے ہاں، بلا لین گے، تو ٹر جاں گے (بیٹا پیروں نے یہاں بھیج دیا ہے، بلا لیں گے، تو لوٹ جاؤں گا)۔

جب کبھی مجھے فرصت ہوتی، میں ان کے مطب میں جا بیٹھتا اور ان کی عشق حقیقی اور حبِ محمدی میں ڈوبی باتیں سنتا رہتا۔
میں جاتا تو وہ چائے منگا لیتے۔ میں اس وقت خود بھی طبیعیات (فزکس) کا طالب علم تھا اور وہ مجھ سے جوہر، مادے، کائنات کی وسعت، ستاروں کے فاصلوں، سورج، زمین اور زندگی کی ابتدا کی سائنسی توجیہات سے متعلق سوال کیا کرتے اور بیچ بیچ میں ’اللہ اللہ‘ کہا کرتے، یا درود پڑھنے لگتے۔
ایک دن کہنے لگے، ’’کاکا اللہ کو خود سے بڑا سمجھنا چاہیے، ورنہ کم از کم اپنے برابر ضرور سمجھنا چاہیے۔‘‘
میں نے ایک لمحے کے لیے چونک کر ان کی طرف دیکھا اور پھر کہا کہ حکیم صاحب، یہ بات تو سوچنا بھی محال ہے کہ اللہ کو ہم اپنے برابر سمجھیں۔ اللہ کی بڑائی تو اس کائنات کی اپنی وسعتوں سے نظر آتی ہے۔
کہنے لگے، بیٹا اللہ کو اپنے سے بڑا سمجھنا بے حد مشکل کام ہے، بلکہ برابر سمجھنا بھی آسان نہیں۔
میں نے کہا ذرا وضاحت کیجیے، تو کہنے لگے، “عید سے بہت پہلے ہی ہم اپنے بچے کے لیے لباس اور جوتوں کا سوچنا شروع کر دیتے ہیں، پھر بازار لے جا کر 30، 30 دکانیں گھومتے ہیں، پھر اپنی جیب اور اوقات کے مطابق بہتر سے بہتر شے اپنے بچے کے لیے خریدتے ہیں، مگر ہمیں اپنے پڑوس میں ایک یتیم بچے کا خیال نہیں آتا، وہ بچہ اللہ کا بچہ ہے۔ خیال آ جائے، تو ہم اسے بازار نہیں لے جاتے، بازار لے جائیں، تو اسے اپنے بچے کی طرح 30۔30 دکانیں نہیں گھماتے، دکانیں بھی گھما لیں، تو اپنی جیب اور اوقات کے مطابق بہتر سے بہتر شے لے کر نہیں دیتے اور اگر ایسا بھی کر لیں، تو پھر اللہ برابر ہوتا ہے۔”
اللہ کو بڑا سمجھنے والے اپنے بچے اور اپنی ذات سے کہیں بڑھ کر اس یتیم بچے کا خیال کرتے ہیں۔ میں ایک طویل عرصے تک ان کی یہ بات سوچ سوچ کر خود پر عائد ایک انتہائی بوجھ محسوس کرتا رہا ہوں۔ زبان سے خدا کی بڑائی کا اقرار جتنا آسان ہے، عمل سے اسے ثابت کرنا واقعی مشکل ہے۔
برسوں بعد بھی حکیم صاحب کی آواز کان میں سنائی دیتی رہتی ہے۔ ’’کاکا اللہ نوں برابر سمجھنا وی آسان نئیں۔‘‘

اقبال صاحب نے فرمایا تھا
خرد نے کہہ بھی دیا لاالہ تو کیا حاصل
دل و نظر سے کہو لاالہ الا اللہ