مہناز اختر، کراچی

مہاجر لفظ سے مراد ایک ایسا شخص ہے جس نے “ہجر” یعنی جدائی سہی ہو یا عزیز و اقارب، دوست احباب و محبوب یا وطن سے جدا کر دیا گیا ہو۔ پاکستان میں عام اصطلاح اور وکی پیڈیا کے مطابق تقسیم ہند کے بعد ہندوستان سے ہجرت کر کے پاکستان آنے والوں کو ’مہاجر‘ کہا جاتا ہے۔ پاکستان میں کچھ لوگوں کے نزدیک یہ لفظ ’گالی‘ ہے اور کراچی و حیدرآباد اور پاکستان کے دیگر علاقوں میں بسنے والے ’ہندی مہاجروں‘ کواب اپنی نئی شناخت کا تعین کرلینا چاہیے اور خود کو پاکستان میں شناخت کے چار مشہور خانوں (پنجابی/ پختون/ بلوچ/ سندھی) میں سے کسی ایک میں “فِٹ” کرلینا چاہیے۔
عام طور پر ہندی مہاجروں کو نئی شناخت اپنانے کے لیے دو انتہائی کمزور دلیلیں دی جاتی ہیں، نمبر ایک، مہاجروں کو ہجرت کیے ہوئے کئی عشرے گزر گئے ہیں، ان کی نئی نسلیں جو یہاں پیدا ہوئی ہیں، ان کا خود کو ہندوستانی یا مہاجر کہلانا پاکستانیت کی فصیلوں میں دراڑیں ڈالنے کے مترادف ہے اور نمبر دو، اس دنیا میں اردو جن کی مادری زبان سمجھی جاتی ہے ان کی تعداد تقریباً 15 کروڑ ہے اور جو اسے رابطے کی پہلی زبان کے طور پر استعمال کرتے ہیں ان کی تعداد 33 کروڑ سے بھی اوپر ہے، جب کہ کراچی کے وہ اردو بولنے والے جو خود کو مہاجر کہلوانے پر اصرار کرتے ہیں 50 لاکھ بھی نہیں ہیں۔ اب یہ ان مہاجروں پر منحصر ہے کہ وہ ایک غیر اہم اقلیت بن جائیں یا ایک عظیم اردو قوم کا اہم عنصر۔

میں یہاں ” مکّی مہاجر اور مدنی انصار” والی مثال کی مضبوط دلیل پیش نہیں کروں گی کیونکہ یہ دلیل بار بار دی جاتی ہے ہاں مگر کچھ سوالات پیش خدمت ہیں۔ کیا کراچی میں پیدا ہونے والے اور کئی عشروں سے بسنے والے پنجابی، پختون، بلوچ اور افغان افراد نئی شناخت اختیار کرکے خود کو “سندھی” کہلوانا چاہیں گے؟

ہم نے انگریزوں سے آزادی حاصل کی تھی مگر آج تک انگریزی زبان کے اسیر ہیں ہماری دفتری زبان انگریزی ہے اور ہماری اشرافیہ کی زبان اور رہن سہن بھی ” انگریزی” ہے تو کیا ہم اس بڑی ” انگریزی/انگریز” قوم کا حقیقتاً حصہ ہیں؟ اور کیا مہاجروں کو ” غیر اہم اقلیت ” تسلیم کرلیا گیا ہے؟

کراچی و حیدرآباد کے مہاجروں نے صرف 70 سالوں میں دو مرتبہ پاک وطن پاکستان کی خاطر اپنے آبائی وطن سے ہجرت کی، جان ومال اور عزت وآبرو کو قربان کیا اور اپنی نسلی شناخت اور آبائی وطن سے زیادہ پاکستانیت کو ترجیح دی اور اپنی الگ الگ زبانوں اور بولیوں کو پرے رکھتے ہوئے اردو کو اپنی قومی زبان کا درجہ دیا۔ شاید میرے پنجابی، پختون، بلوچ اور سندھی بھائیوں کو میرا مہاجروں کو ” ہندی” مہاجر کہنا ناگوار گزرے مگر ازراہ مجبوری یہ لفظ میں نے اقبال سے مستعار لیا ہے تا کہ مہاجروں کی جغرافیائی شناخت کا تعین آسان ہو جائے۔

تقسیم ہند کے بعد مختلف قومیتوں کے مسلمانوں نے پاکستان ہجرت کی۔ ہندوستانی پنجاب ، گجرات اور بمبئی کے مسلمانوں کا انضمام پاکستان میں نسبتاً آسان رہا مگر بہار، یوپی، بنگال اور دیگر علاقوں کے مسلمانوں کی جداگانہ شناخت ہمیشہ برقرار رہی(یا رکھی گئی) اور انہوں نے خود کو ” ہندوستانی” کہلوانا پسند کیا تاکہ مہاجرت کے ساتھ ساتھ ان کی جغرافیائی شناخت بھی برقرار رہے۔
اسی طرح مشرقی پاکستان کی پاکستان سے علیحدگی کے بعد دوسری بار مسلمانوں نے بڑی تعداد میں ہجرت کی جو عرف عام میں “بہاری” کہلاتے ہیں۔ یہی ہندوستانی اور بہاری مہاجرین خود کو بحیثیت قوم ” مہاجر” کہتے ہیں اور عام طور پر ایم کیو ایم ان کی نمائندہ جماعت کہلاتی تھی اسکے علاوہ مہاجروں کی قلیل تعداد مہاجر قومی موومنٹ، پی پی پی، مسلم لیگ، پاکستان تحریک انصاف ، جماعت اسلامی اور دیگر جماعتوں کے ساتھ بھی نظر آتی ہے۔

ماضی میں شہری سندھ کے مہاجروں نے ہمیشہ اپنے ووٹ کے ذریعے کراچی اور حیدرآباد میں ایم کیو ایم کو فتح یاب کرکے پورے پاکستان کو اپنی اہمیت کا احساس دلایا ہے۔ مگربدقسمتی سے آج سوچے سمجھے منصوبے کے تحت مہاجروں کی اسی سیاسی طاقت کو منتشر کرکے کراچی میں 2018 کے الیکشن کے لیئے پی پی پی، تحریک انصاف اور جماعت اسلامی کے لیئے میدان صاف کردیا گیا ہے۔

کہا جاتا ہے کہ مہاجر قومی موومنٹ کا قیام اور الطاف حسین اسٹیبلشمنٹ کی پیداوار تھے مگرمیں تو یہ بھی تسلیم کرنے کو تیار ہوں کے انکا خاتمہ بھی ” اسٹیبلشمنٹ” کا کارنامہ ہے۔ کیونکہ مہاجر ووٹرز کو ایک دن اچانک بتایا جاتا ہے کہ جس جماعت کو وہ اپنی نمائندہ جماعت سمجھتے تھے وہ پاکستان کی بدترین دہشت گرد سیاسی تنظیم ہے اور الطاف حسین غدار اور انڈین ایجنٹ ہے اور ہندوستان کشمیر کی جنگ کراچی میں لڑنا چاہتا ہے۔ حالانکہ ہندوستان کے ساتھ ذاتی تعلقات اور کاروبار تو “نواز اینڈ فیملی ” کے ہیں ۔ خیر بالا ہی بالا اسٹیبلشمنٹ نے الطاف حسین سمیت کچھ لوگوں کو “کک آؤٹ” کردیا اور کچھ لوگوں کو لانڈری بھیج دیا گیا، بعد ازاں لانڈری سے نکال کر دو تین ریڈی میڈ کلین چٹ والی جماعتوں کو مہاجر عوام کے سامنے رکھ دیا گیا ہے۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ ایم کیوایم لندن کی پخ اب تک باقی ہے۔

یوں تو مہاجروں کے خلاف ریاستی، عدالتی اور سیاسی دہشت گردی کی تاریخ کئی عشروں پرانی ہے مگر ذوالفقار مرزا کے دور میں جس طرح کراچی اور مہاجروں کا سیاسی و معاشی استحصال کیا گیا اور مہاجروں کی نسل کشی کی گئی اس کا ایک ایک منظر وقت نے تاریخ کے صفحات میں محفوظ کرلیا ہے۔ کراچی کی آنکھوں نے ایک ایسا وقت بھی دیکھا ہے جب کراچی کی عوام کو ایم کیوایم، پی پی پی ، مذہبی جماعتوں اور اے این پی کے دہشت گردوں ،بھتہ خوروں اورٹارگٹ کلرز کے آگے ڈال دیا گیا ، کراچی خون میں نہا گیا، ماضی میں کراچی کا کوئی ایک دن ایسا نہیں گزرا جب کسی بے گناہ کی زندگی کا چراغ دہشت گردی اور ٹارگٹ کلنگ کے نتیجے میں گل نہ کیا گیا ہو۔

یہ عناصر کراچی کے عوام کی زندگیوں کے چراغ بجھاتے رہے کراچی کی املاک کو آگ میں پھونکتے رہے کراچی کی مائیں، بہنیں، بیٹیاں فریاد کر تی رہیں مگر نجانے کس منصوبے کے تحت کراچی میں جاری سول وار اور بلاوجہ کی ہڑتالوں پر پاکستان کے تمام اداروں نے خاموش تماشائی کا کردار ادا کیا۔ کراچی کی بدقسمتی یہ رہی کے اس وقت بابا رحمتے موجود نہ تھا ،اور ناہی عمران خان اور طاہرالقادری کو انقلاب کا آئیڈیا سوجھا تھا اور مصطفی کمال ، فاروق ستار اور ایم کیوایم کے دیگر ذمہ داران کے ضمیر خواب خرگوش کے مزے لے رہے تھے۔

کراچی جلتا رہا ، سانحہ بلدیہ ٹاؤن میں سینکڑوں افراد زندہ جلا دیئے گئے، سانحہ قصبہ علیگڑھ ہو گیا ، لیاری داعش کے قبضے والےشام کا منظر پیش کرنے لگا مگر وفاق،سندھ کی صوبائی حکومت، عدلیہ اور فوجی جرنیل مراقبہ میں مصروف رہے اور اسکی سب سے بڑی وجہ یہ تھی کے کراچی ان میں سے کسی کا آشیانہ نہ تھا ۔ وفاقی حکومتوں کے لیئے مہاجروں کے ووٹ غیر اہم ہیں اور پی پی پی دیہی سندھ کے ووٹوں سے سندھ پر بادشاہت کرتی ہے اور سندھ کے شہری ووٹرز کے حقوق کچلتی ہے۔
پاکستان کا معاشی ہب کراچی تقسیم کے بعد سے اب تک مہاجروں کا مسکن رہا ہے پھر چاہے وہ ہندی مہاجر ہوں یا سندھی مہاجر، پختون مہاجر ہوں یا افغان مہاجرغرض یہ کہ پورے پاکستان سے لوگ مختلف وجوہات کی بناء بر کراچی ہجرت کرتے ہیں اور انکے پاس واپسی کا راستہ بھی موجود ہے مگر مہاجروں کے آگے صرف اور صرف بحیرہ عرب بانہیں پھیلائے کھڑا ہے ۔ ہم کتنا ہی قومی یکجہتی اور اخوت کے ترانے گنگنا لیں مگر ہم سب یہ اچھی طرح جانتے ہیں کہ تمام تر پاکستانی چاہے ان کا تعلق کسی علاقے سے ہو کراچی کی گود میں پناہ لے سکتے ہیں مگر مہاجروں کو کسی دوسرے صوبے یا شہر میں امان نہیں ملے گی اوراسکی بنیادی وجہ ہم پاکستانیوں کا نسلی تفاخر اورقومی تعصب ہے۔

یہاں میں فروغ نسیم کے اس بیان سے 100 قیصد اتفاق کرتی ہوں کہ کراچی کا روایتی مہاجر ووٹرآئندہ الیکشن میں ایم کیو ایم کے علاوہ کسی کو ووٹ دینے کے لیئے گھر سے باہر نہیں نکلے گا ، مگر کیوں، ذرا سوچیے!

کیونکہ پاکستان میں صرف پنجابی،سندھی اور پختون ووٹ کی طاقت کو تقدّس حاصل ہے، ان کے علاوہ دیگر اقوام کے ووٹ غیراہم شمار کیے جاتے ہیں۔ مہاجر ووٹر متحدہ اور الطاف حسین سمیت سیاسی اور ریاستی سازشوں سے مایوس ہیں اور شکوک و شبہات میں مبتلا نظرآتے مگر انکی خاموشی کے پیچھے کچھ سوالات بھی موجود ہیں۔

نمبر ایک آخر کن بنیادوں پر ایم کیو ایم کے قائد اور کچھ ارکان کو کراچی کی سیاست سے آؤٹ کیا گیا اور کچھ کو کلین چٹ دے دی گئی۔ انکے خلاف مقدمات عدالتوں میں کیوں نہیں چلائے گئے ، کسی تحقیقاتی کمیٹی کا قیام کیوں عمل میں نہیں لایاگیا؟ نمبر دو، پاکستان میں الطاف حسین کے نام کو شجر ممنوعہ قرار دے دیا گیا ہے مگر یوٹیوب پر الطاف حسین کی نئی تقاریر دستیاب ہیں اور مہاجر ووٹر تذبذب کا شکار ہے کہ پابندی سے پہلے نظر آنے والے بے انتہا فربہ مگر لاغر اور مدہوش اول فول بکتے الطاف حسین اور تازہ ویڈیوز میں چست اور تندرست نظر آنے والے الطاف حسین میں سے کون سا کردار سچا ہے اور کون سا کردار شازس ہے یا سازش کا شکار ہے؟

نمبر تین، ایم کیو ایم اور مہاجر ووٹ پر شب خون مار کر وہی پرانے چہرے ڈمی کرداروں کی طرح لا کر کراچی کی عوام کے سامنے رکھ دیئے گئے ہیں مگر کراچی کی تباہی کے دوسرے ذمہ داران ، پی پی پی، ذوالفقار مرزا، شرجیل میمن، ڈاکٹر عاصم اور بدنام زمانہ عزیر بلوچ اب تک قانون کے شکنجے سے باہر کیوں ہیں؟

نمبر چار، جماعت اسلامی کے عہدیداران کے القائدہ سے روابط کا چرچا زبان زدو عام ہے ۔ خیبر پختونخواہ ، بلوچستان اور کراچی سب سے زیادہ مذہبی دہشت گردی اور بم دھماکوں کا نشانہ رہے ہیں لیکن کراچی سمیت پورے پاکستان میں انتہا پسند مذہبی جماعتیں نا صرف قانون کے شکنجے سے باہر ہیں بلکہ انہیں سوچے سمجھے منصوبے کے تحت دوبارہ سے پاکستان کے قومی سیاسی دھارے میں مرکزی حیثیت دی جارہی ہے ، آخر کیوں؟

آج صورتحال یہ ہے کہ پاکستان میں چند بڑی قومیتوں کے علاوہ دیگر تمام قومیتیں اور مہاجر سیاسی حقوق کے حوالے سے اپنی بقا کی جنگ لڑنے میں مصروف ہیں اور سیاسی استحصال کا شکار ہیں ۔ مہاجروں کی نام نہاد نمائندہ جماعتیں بے شرمی کے ساتھ سیاسی گٹھ جوڑ میں مصروف ہیں۔ اس وقت خان صاحب سمیت دیگر سیاسی قائدین سیاسی یتیم مہاجر ووٹرز کو گود لینے کی کوششوں میں مصروف نظرآرہے ہیں ۔ آنے والے وقت میں الیکشن کے ذریعے ہی پاکستان کے جمہوری مستقبل کا فیصلہ ہونا ہے اب دیکھنا یہ ہے کہ مہاجروں کی یہ ” غیر اہم اقلیت ” اپنے ووٹوں کا استعمال کیسے کرتی ہے۔ کیونکہ یہ تو طے ہے کہ مہاجر اپنی جداگانہ شناخت کے حوالے سے کسی کا بھی مشورہ قبول کرنے کو تیار نہیں ہیں۔

سیاسی طور پر مہاجر قوم کے افراد اپنے ووٹ کی اہمیت سے بخوبی آگاہ ہیں اور آنے والا وقت ہی یہ طے کرے گا کہ مہاجروں کے ووٹ کا سیاسی اونٹ کس کروٹ بیٹھے گا۔

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here