وقاص احمد

’’چھوٹو! کدھر ہو تم؟ ادھر آؤ بدتمیز لڑکے، آج پھر تم نے اپنی باجی کی الماری سے اس کی چاکلیٹس بنا اجازت نکال کر کھا لیں؟ آج میں تمہیں چھوڑوں گی نہیں’’ اماں چیختی ہوئی اپنے بدتمیز اور شرارتی بیٹے کے پیچھے لپکیں مگر وہ چھوٹو ہی کیا جو ہاتھ آ جائے۔ بجلی کی سی تیزی سے بھاگا اور دادی جان کے کمرے میں پہنچ گیا۔ پیچھے پیچھے اماں بھی پہنچ گئیں۔ دادی جو سارا معاملہ بھانپ چکیں تھیں، جھپٹ کر اپنے لاڈلے پوتے کو اپنی اوٹ میں کرتے ہوئے بولیں ’’اے ہے، کیا ہوگیا بہو؟ بچے نے ایک چاکلیٹ ہی تو کھائی ہے، اب جان لو گی کیا اس کی؟‘‘

اماں بولیں، ’’امی جان، بات ایک چاکلیٹ کی نہیں، یہ روز کا معاملہ ہے، کبھی اس کی چیز چھپا، کبھی اس کو تنگ کر اور کبھی اس کو ستا، آج میں اس کو چھوڑوں گی نہیں۔’’

دادی بولیں، ’’اچھا چل اس دفعہ رہنے دے، میں سمجھا دوں گی ناں، تم اسے ہاتھ مت لگائیو ورنہ مجھ سے برا کوئی نہیں ہوگا۔‘‘

یہ سننا ہی تھا کہ سہما ہوا چھوٹو، سینہ چوڑا کر کے دادی کے پیچھے سے نکلا، ماں کو منہ چڑایا، باجی کی چٹیا کھینچی اور دندناتا ہوا گھر میں مٹر گشت کرنے لگا اور اماں ہر دفعہ کی طرح بے بسی کی تصویر بنی رہ گئی۔

آپ سوچ رہے ہوں گے کہ عنوان کرپشن کا اور کہانی چھوٹو کی؟ چہ معنی؟

حضرت یہ کہانی تو صرف محاورتاً پیش کی گئی ہے، مقصد تو آپ کی توجہ ان ازلی ‘‘چھوٹوؤں‘‘ کی طرف مبذول کروانا ہے جو ریاست پاکستان کی ابدی ’’دادی جان‘‘ کے لاڈلے ہیں مطلب طاقتور اسٹیبلشمنٹ کے لاڈلے۔

اس دادی جان کے کچھ بنیادی تقاضے ہیں جن کو پورا کر کے آپ ان کے لاڈلے بن سکتے ہیں اور ان تقاضوں میں سب سے بنیادی تقاضہ یہ ہے کہ ‘‘چھوٹو تم ہمیشہ میرے بن کر رہو گے، اور میں تمہیں جب بھی پکاروں تم بھاگتے ہوئے میرے سرہانے آن کھڑے ہوگے’’۔

یہ چھوٹو آپ کو پاکستان کی ہر سیاسی جماعت کے ساتھ منسلک نظر آئیں گے لیکن یہ رشتہ عارضی ہوتا ہے۔ یہ صرف سیاسی لوگ نہیں بلکہ کاروباری برادری، صحافی، عدلیہ اور بیوروکریسی بھی اس میں شامل ہے۔ اسٹیبلشمنٹ جب بھی ’’پاکستان کے وسیع تر مفاد میں‘‘ ادھر سے ادھر ہو جانے کو کہے، یہ ہو جاتے ہیں۔ ’’پاکستان کے وسیع تر مفاد میں‘‘ میں یہ عدالتی فیصلے بھی دیتے ہیں، ’’پاکستان کے وسیع تر مفاد میں‘‘ میں یہ مقدمات بنانا اور خارج کرنا بھی شروع ہو جاتے ہیں، ’’پاکستان کے وسیع تر مفاد میں‘‘ میں میڈیا پر ہیرو کو زیرو اور زیرو کو ہیرو بنا دیتے ہیں، ملزم کو مجرم کہنا اور ناسور کو مسیحا بنانا ان کے بائیں ہاتھ کا کام ہے۔

لیکن یہ سب مفت نہیں ہے، ان خدمات کا صلہ بھی ہے اور وہ صلہ یہ ہے کہ یہ لوگ  untouchable ہو جاتے ہیں۔ ان کو کھل کر کھانے اور ننگے ہو کر چوک میں نہانے کی اجازت عام مل جاتی ہے، یہ چاہیں تو EOBI کے سکینڈل میں اربوں روپے کا گھپلا کر دیں، ڈی ایچ اے کے پلاٹ کھا جائیں، این جی او کی بسیں روٹ پر چلا دیں، یہ چاہیں تو جھوٹے الزامات کی میڈیا پر بوچھاڑ کر دیں، یہ چاہیں تو آئین و قانون سے بالاتر فیصلے دے دیں، یہاں تک کہ یہ چاہیں تو پاکستان کو تباہ و برباد کر دیں لیکن اگر یہ king’s party میں ہیں تو ان کا کوئی بال بیکا نہیں کر سکتا۔ اگر قانون ان پر ہاتھ ڈالے تو قانون کے ہاتھ ٹوٹ جاتے ہیں، اگر آئین ان کو ٹوکے تو آئین معطل ہو جاتا ہے، اگر حکومت ان کو احتساب کے کٹہرے میں لانے کی کوشش کرے تو حکومتیں الٹ جاتی ہیں، اگر کوئی صحافی ان کے پردے فاش کرے تو قتل کروا دیا جاتا ہے، اگر کوئی وکیل ان کے خلاف مقدمہ لڑے تو اٹھوا دیا جاتا ہے۔ سوال یہ ہے کہ یہ ایسے بے دھڑک کرپشن کیسے کر لیتے ہیں؟

کیونکہ پاکستان کے ہر کرپٹ انسان کو پتہ ہے کہ پاکستان کی ایک ’’دادی جان‘‘ ہیں، وہ کچھ بھی کر لیں، کچھ بھی کھا پی جائیں، کیسی ہی کرپشن کر لیں، ان کے پاس دادی جان کی اوٹ موجود ہے۔ سو جناب! جو مرضی کرو پر دادی جان کے ساتھ بنا کر رکھو، اگر دادی جان آپ کے ساتھ ہیں تو نا ہی آپ کو کوئی ہاتھ لگا سکتا ہے اور نا ہی آپ کی بدتمیزیوں، چوریوں، غنڈہ گردیوں اور بدمعاشیوں پر کسی کی پکڑ ہو سکتی ہے۔

کرپشن ختم کرنا چاہتے  ہو؟ دادی کے مرنے کا انتظار کرو، اس سے پہلے چھوٹو قابو نہیں آنے کا۔

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here