حمزہ سلیم

چیمپینز ٹرافی فائنل 2017 کی شکست کے بعد پورے بھارت میں یہ سوال بہت زیادہ گردش کرتا رہا ،کہ فائنل کنتے کا بکا یا اس کا سودا کنتے کا ہوا؟ عوام کے جزبات اور میچ فکس ہونے یا نہ ہونے سے قطح نظرایک بات یقینی ہے کہ ایک میچ سے بڑے جواریوں اورسٹے بازوں نے اربوں کمائے ہوں گے۔ کرکٹ کی یہ ہاراور پیسے کی یہ جیت گزشتہ کئی برسوں سے ایک دائرے میں گردش کر رہی ہے۔

پاکستان اور بھارت کی عوام کو نفسیاتی طور پر لاغر رکھنے والا نشہ کرکٹ ہے۔

جس کی وجہ سے دونوں ملکوں کے درمیان کھیل، کھیل نہیں ایک جنون بن گیا ہے۔ حکمران طبقہ اس نفسیات کو قوم پرستی اور شاؤنزم کو ابھارنے جبکہ میڈیا پیسے بنانے کے لیے استعمال کرتا ہے۔ آئی سی سی چیمپینز ٹرافی کے فاٰئنل میں پاکستان اور ہندوستان کی ٹیمیں جب بھی مد مقابل ہوں، کچھ ایسی ہی صورت حال دیکھنے کو ملتی ہے۔ دونوں ملکوں کی کرکٹ کو اگر تاریخی پس منظر میں جانیں تو برصیغر کی خونی تقسیم کے فوری بعد پاکستان 1949 میں ہی آئی سی سی کا حصہ بن گیا،

1951،52 میں پاکستان کی ٹیم پانچ ٹسیٹ میچیز کھیلنے ہندوستان گئی۔ چند سال پہلے جو کھلاڑی ایک ہی ٹیم میں کھیلا کرتے تھے،اب میدان میں ایک دوسرے کے مد مقابل تھے۔ دہلی میں کھیلے گے میچ میں ہندوستان کی فتح ہوئی اور لکھنو میں پاکستان نے میزبان ٹیم کو شکست دی توتقسیم کے زخم تازہ ہو گئے ہندوستانی ٹیم کو شدید غصے کا سامنا کرنا پڑا۔ یہ وہ وقت تھا جب کرکٹ کھیل کھیل نہیں رہا، ایک جنون کی شکل اختیار کر گیا۔ گوکہ ہندوستان تیسرا میچ جیت گیا مگر تب تک رقابت اور شائقین کا دباؤ اس نہج کو پہنچ چکا تھا کہ اگلے دونوں ٹیسٹ مقابلوں میں دونوں طرف کے کھلاڑی ہار سے بچنے کے لیے دباؤ میں دفاعی کیھل کیھلتے رہے یوں نہ صرف یہ دونوں میچ بلکہ 1955 میں ہونے والی ٹیسٹ سیریز کے پانچوں مقابلے بھی بے نتیجہ اختتام پذیر ہوئے۔ تناؤ اس حد کو جا پہنچا کہ ایمپائروں کی غیر جانبداری پر انگلیاں اٹھنا شروع ہو گئیں۔ اس کی بعد ہندوستان میں ہونے والی 1961ء کی سیریز کے پانچوں میچ بھی بغیر ہار جیت کے فیصلے کے انجام کو پہنچے۔ تاہم اس قدر مخاصمت کے باوجود بھی کرکٹ کے میدان میں کھلاڑیوں نے شائستگی کا دامن نہ چھوڑا۔

اس کے بعد کرکٹ پاک و ہند میں حکم ران طبقات کے سیاسی مفادات کا شکار ہونا شروع ہو گئی۔ کبھی جنگ کی وجہ سے دونوں حریفوں میں کرکٹ نہ ہو پائی۔ کبھی اندھرا گاندھی کا قتل اس کے تعطل کا بہانہ بنا۔ کبھی ممبئی حملوں کا نام لے کر کرکٹ تعلقات منقطع کر لیے گئے اور کبھی اسی کرکٹ کو دونوں ممالک کے حکم ران طبقے نے باہمی کشیدگی کو ٹھنڈا کرنے کے لیے استعمال کیا۔ 87۔1986ء کی جنگی کشیدگی تو بہت سوں کو یاد ہو گی جب آپریشن براسٹیک کے دوران ہندوستان راجستھان سیکٹر پر اپنی 6,00,000 سپاہ پاکستانی حدود سے محض سو میل کے فاصلے تک لے آیا تھا۔ جنگی مبصرین کے بقول دوسری عالمی جنگ کے بعد یہ کسی فوج کی سب سے بڑی موبلائزیشن تھی۔ اِس کشیدگی کو تباہ کن حد تک پہنچنے سے روکنے کے لیے بھی حکمران طبقات نے کرکٹ کا استعمال کیا۔ اس کے بعد بھی حکمران طبقہ کرکٹ کو حسب ضرورت کبھی حالات بگاڑنے اور کبھی سدھارنے کے لیے استعمال کرتا رہا۔ یہی وہ وقت تھا جب دونوں ممالک ریاستی سرمایہ داری سے ہٹ کر آزاد منڈی کی معیشت کو اپنے ہاں فروغ دے رہے تھے۔ سرمایے کا ناگ ہر شعبے کو ڈس رہا تھا۔ پاکستان میں ضیائی آمریت کے لگائے بیج زہریلے پھل دینے لگے تھے۔ فلم میں سماجی مسائل کی جگہ نمبرداروں اور گنڈاسوں نے قبضہ کر لیا تھا۔ ثقافت، سیاست اور صحافت تک، ہر شعبہ انحطاط کا شکار تھا، وہاں کھیل کے میدان اور کرکٹ کیسے بچ سکتے تھے۔ کرکٹ جو کبھی بہت شائستگی، تسلی اور نفاست سے کھیلا جانے والا کھیل تھا، اب کمرشلائز ہو کر کم سے کم وقت میں زیادہ سے زیادہ پیسہ بنانے کا میدان بن گیا۔ ٹیسٹ کہ جگہ ون ڈے اور پھر T-20 آگئے۔ جوا، میچ فکسنگ، جوڑ توڑ، کارکردگی بڑھانے کے لیے غیر قانونی ادویات کا استعمال، کرکٹروں اور سیاسی و ریاستی آقاؤں کا گٹھ جوڑ وغیرہ اب کس سے چھپا ہے۔

ہندوستان اور پاکستان کے حکمران اپنے اپنے ملکوں میں تو ٹیلیویژن، اخبارات، درسی کتب اور مذہب کو استعمال کرتے ہوئے دونوں طرف کی عوام کو ایک دوسرے سے متنفّر کرنے کی کوشش کرتے رہے ہیں مگر یہاں ترقی یافتہ مغربی ممالک میں صورت حال بالکل مختلف ہے۔ مغربی ممالک میں لاکھوں پاکستانی اور ہندوستانی آباد ہیں۔ ہندوستان اور پاکستان کے حکم ران قوم پرستی اور شاؤنزم کا جو زہر عوام کے ذہنوں میں گھولتے ہیں، اس کا اثر یہاں آتے ہی زائل ہونا شروع ہو جاتا ہے۔ یہ سب ایک ساتھ مغربی ممالک کے مختلف علاقوں میں آباد ہیں۔ ان کے معاشی حالات بھی ایک سے ہیں۔ ان کے بچے ایک ہی اسکول میں ساتھ ساتھ پڑھتے ہیں۔ ایک سے ہوٹلوں اور ریستورانوں میں کھاتے پیتے ہیں۔ عید، شب رات، ہولی، دیوالی جیسے تہواروں پر ہندوستانی پاکستانی کا فرق کیے بغیر ایک دوسرے کو مبارکبادیں دیتے ہیں۔ مگر کرکٹ میچ کے دوران میڈیا اپنے پیسے بنانے اور حکم ران اپنی سیاست چمکانے کے لیے جو بڑھ چڑھ کر ایک دوسرے پر بیان بازی کی مشق کرتے ہیں، اس کی زد میں کچھ دیر کو یہاں کے ہندوستانی اور پاکستانی بھی آجاتے ہیں۔ لیکن یہاں کے معاشی حالات میں ان میں سے اکثر کی ٹوٹی کمر کسی اور بوجھ کو برداشت کرنے کی متحمل نہیں ہوتی۔

جب ساٹھ پاؤنڈ کا ٹکٹ چھ سو پاؤنڈ میں بک رہا ہو جو وہاں بسنے والے ہندوستانیوں اور پاکستانیوں کی اکثریت کی اوسط ہفتہ وار آمدنی سے بھی زیادہ ہے تو محنت کش تو میچ دیکھنے اسٹیڈیم جا ہی نہیں پاتے۔ ہندوستان اور پاکستان کا فائنل اسٹیڈیم میں ایک مراعات یافتہ اقلیت ہی دیکھ سکتی ہے۔ زیادہ تر افراد اپنے گھر یا کام پر ہی یہ فائنل دیکھنے کو ترجیح دیتے ہیں۔

کرکٹ میں سرمائے کا نفوذ بہت بڑھ گیا ہے، لیکن اس سے جڑی خبریں شازونادر ہی عوام تک رسائی حاصل کر پاتی ہیں۔ آئی سی سی اور کرکٹ کھیلنے والے ممالک کے کرکٹ بورڈز اپنے زیادہ تر معاہدوں کو پبلک نہیں ہونے دیتے۔ مگر جب جب یہ معاہدے اخبارات کی زینت بنتے ہیں تو حیران کن انکشافات سامنے آتے ہیں۔ مثال کے طور پر آئی سی سی اور اسٹار چینل کے مابین 2015ء سے 2023ء تک 18 ٹورنامنٹس کے نشریاتی حقوق کا معاہدہ دو کروڑ ڈالر میں طے پایا۔ یاد رہے کہ حالیہ آئی سی سی چیمپینز ٹرافی کے مقابلے پانچ براعظموں کے لگ بھگ 200 ممالک، جغرافیائی اور سیاسی اکائیوں میں دیکھے گے۔ اسی نوعیت کے نشریاتی حقوق کے معاہدے اسکائی ٹی وی، فوکس، فجی ٹی وی، وِلو ٹی وی، او ایس این، سوپر اسپورٹس، ٹین سپورٹس، اے ٹی این، پی ٹی وی اسپورٹس اور بہت سے دیگر نشریاتی اداروں  نے بھی کر رکھے ہیں، جن کی تفصیلات منظر عام پر نہ آ سکیں۔

نشریاتی حقوق، اشتہاری حقوق، لائسنسنگ حقوق، آفیشل پارٹنرز اور اس جیسے نہ جانے کتنے ناموں سے بے انتہا پیسہ کھیل کے نام پر اس جنون کو پروان چڑھانے میں استعمال ہوتا ہے۔ 18 جون کو جب انڈیا اور پاکستان چیمپینز ٹرافی کے فائنل میں ایک دوسرے کے مد مقابل  ہوئے  تو یہ روایتی حریفوں کے درمیان محض ایک میچ ہی نہیں ہوگا۔ اشتہارات کی دنیا کے ماہرین کے مطابق اس فائنل میچ کے دوران ٹی وی اشتہارات سے تقریباً 500 کروڑ کی کمائی ہوئی۔ یعنی فائنل میں 100 اوور کے میچ میں ہر ایک اوور میں تقریباً پانچ کروڑ کی کمائی۔ یہ صرف ایک کھیل کے ایک میچ کی کیفیت ہے۔

اب ان دونوں ممالک میں پھیلے سماجی، مسائل، بھوک، افلاس، غربت، ناخواندگی اور دیگر امور کو سامنے رکھیے، جو صرف اور صرف سرمایے کی عدم دستیابی سے جڑے ہیں۔

یعنی کروڑوں افراد جنہیں بھوک اور افلاس کا سامنا ہے، جنہیں پیسے کے صاف پانی تک رسائی نہیں، جہاں لاکھوں بچے جبری مشقت کا شکار ہیں اور فقط ایک وقت کی روٹی کے لیے انہیں غیرقانونی اور غیراخلاقی مشقت کی چکی میں پسنا پڑتا ہے، جہاں بیمار ادویات کی عدم دستیابی سے ہلاک ہو جاتے ہیں اور جہاں تعلیم کے شعبے میں سرمایے کی شدید قلت ہے، ایسے ممالک میں اربوں روپے ایک خاص طبقے فقط کرکٹ سے حاصل کرنے اور اپنی امارت میں اضافے کے لیے جیت جانے میں کامیاب ہو جاتا ہے۔

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here