عابد حسین

ایک شہری بانکا اور اس کے دوستوں کے سر پہ گاؤں گھومنے کا شوق سوار ہوا اور وہ گاؤں کی راہ نکل پڑے۔ شہری بانکے کو اُس کے دوستوں نے گاؤں کی زندگی اور گاؤں کے رہن سہن کے بارے میں جو بتا رکھا تھا اُس خیالی دنیا کے مطابق گاؤں کی زندگی نہایت ہی آسان اور سادہ تھی۔ گاؤں میں کسی قسم کا کوئی مسئلہ حقیقت میں سِرے سے ہی نہیں تھا۔

گاؤں میں سب سہولیات آسانی سے میسر آ سکتی تھیں مگر گاؤں کے مکینوں نے خوداپنی زندگی کو مشکل بنا رکھا تھا اور ان تمام مشکلات کا حل بھی تو شہری بانکے کے نزدیک ایک عام سی بات تھی۔

معجزاتی طور پہ سفر بہت جلدی طے ہوا اور گاؤں میں داخل ہوتے ہی شہری بانکے کی نظر ایک کسان پر جا ٹکی جو کہ کھیت کو زرخیز کرنے اور اس میں بوئی فصل کی پیداوار کو مزید بہتر بنانے کیلئے بیل جوئے ہل چلا رہا تھا۔ کسان یہ سب کام پوری توجہ اور محنت سے کر رہا تھا تا کہ گاؤں کے باسیوں کی خواراک کا دیرینہ مسئلہ حل ہوسکے۔

شہری بانکے اور اس کے دوستوں نے اپنی سوچ تئیں بیل جوتنے۔ ہل چلانے اور فصل اگانے کے اس کام کو بڑا آسان سمجھتے ہوئے آوازیں کسنا شروع کردیں اور شور مچانے لگے کہ دیکھو بوڑھے کسان کا کھیت میں کام کرنے کا طریقہ ہی صحیح نہ ہے۔ اس سے فصل کی پیداوار میں بہتری نہیں آ سکے گی۔

اس لیے کیونکہ کسان نے ایک ہاتھ سے بیل کے نتھنوں میں ڈالی ہوئی رسی کو پکڑ رکھا ہے دوسرے ہاتھ سے لکڑی کی ہتھی کو پکڑے ہل چلا رہا ہے غور سے دیکھیں تو ہل بھی کہیں کہیں صحیح نہی چل رہا جس وجہ سے فصل بھی بہت خراب ہوگا اور یہ سب اس بوڑھے کسان کی وجہ سے ہے اس کا ذمہ دار یہ بوڑھا کسان ہے۔ جبکہ شہری بانکا یہ سب مسئلے نئے اور آسان جادوئی طریقوں سے حل کر سکتا ہے۔

شور شرابے کی یہ آواز کسان کے کانوں تک جا پہنچی تو کسان نے شہری بانکے اور اس کے دوستوں سمجھایا کہ ُپتر فصل کے نقصان کا سارا دوش مجھے نا دو زیادہ نقصان تو اس بڑے نتھنوں والے بیل کی وجہ سے ہوا ہے جو تمہارے آنے سے پہلے تین چار دفعہ منہ زور ہو کے کھیت میں بھاگ نکلا تھا مجھ سے پہلے تو ایک کسان کی یہ جان بھی لے چکا ہے اور مجھ پر بھی جان لیوا حملہ کرچکا ہے اور اب بھی اس بیل ہی کی وجہ سے ہل کہیں کہیں صحیح نہیں چل رہا جبکہ تھوڑا بہت موسم اور آب و ہوا کا بھی اس میں ضرور اثر ہے۔ اگر تم نے کھیت کی پہلے والی حالت دیکھی ہوتی جو میرے آنے سے پہلے تھی اور اس سے آگاہ ہوتے تو میری ہمت کی داد دیتے۔

اس سے پہلے کہ کسان مزید کھیت میں کام کرتا شہری بانکا آگے بڑھا بیل کی رسی کو کسان سے لے کر اپنی گردن میں ڈال لیا اور ہل کی ہتھی کو پکڑنے کی بجائے اُس ہتھی پہ بیٹھتے ہوئے بولا۔ بوڑھے کسان اب کھیتوں میں کام تمہارے پرانے طریقوں سے نہیں ہو گا بلکہ نئے طریقوں سے ہوگا۔ اب ہل نئے انداز سے چلے گا اور بیل بھی نئے طریقے سے قابو میں رہے گا۔

کسان بولا میاں چھیلے بازآ یہ تمہارے بس کی بات نہیں ہے نہ ہی تمہارا نئے طریقوں والا چورن نتیجہ دے گا۔ شہری بانکا بولا بوڑھے کسان مجھے تھوڑا وقت دو اور دیکھتے جاؤ کہ اب میں کھیتوں میں کیسے کام کرتا ہوں ہر طرف ہریالی ہوگی اناج کے ڈھیر ہونگے گاؤں میں بھوک نام کا لفظ ناپید کر دوں گا۔

بوڑھے کسان نے بات کاٹی اور بولا ابے چھیلے بکواس بند کر تیری اہلیت تو تیرے ہل پہ بیٹھنے اور رسی کو گردن میں ڈالنے سے ہی مجھ پہ واضح ہو گئی ہے۔ براہء کرم کسان ۔ شہری بانکے ۔ اور بیل کی اس کہانی کو پاکستان کے حالات اور سیاسی منظر نامے میں زیادہ سیریس نہ لیا جائے۔