عاطف توقیر

سوشل میڈیا پر  بھارتی ٹی وی چینل آج تک کی ایک ویڈیو کلپ دیکھنے کو ملا، جس میں ایک ٹی وی میزبان، جنہیں صحافتی ذمہ داریاں ادا کرنا چاہئیں تھیں، وہ پوری قوت سے یہ ثابت کرنے میں مصروف تھے کہ پتھراؤ کرنے والے کشمیریوں کو فوجی جیپوں کے ساتھ باندھ کر سڑکوں پر گھسیٹنا اور مظاہرہ کرنے والوں پر براہ راست گولیاں داغنے میں کوئی مضائقہ نہیں۔

میڈیا اور صحافیوں کو بنیادی کام ایک طرف تو عوام کو باخبر رکھنے کا ہوتا ہے اور دوسری جانب قانون اور دستور کی کسی بھی خلاف ورزی پر بات کرنا تاکہ ملک میں انسانی حقوق پامال نہ ہوں اور انسانی حقوق کی خلاف ورزی کا کوئی بھی واقعہ عوام کی نگاہ سے پوشیدہ نہ رہے۔ مگر بدقسمتی سے ہمارے ہاں بھی اور ہندوستان میں بھی میڈیا پر بیٹھے دوست عوامیت پسند بیانیوں یا پاپولر نیریٹیو اور عوامی مقبولیت یا ریٹنگ کے چکر میں پڑ کر اس بنیادی نکتے کو فراموش کر دیتے ہیں۔

اس کلپ میں موصوف صحافی کا کہنا تھا کہ بھارتی زیرانتظام کشمیر کی اسمبلی میں عمر عبداللہ صاحب کی جانب سے اس فوجی کارروائی کی مذمت کرنا، جس میں پتھراؤ کے الزام پر ایک کشمیری کو جیپ کے ساتھ باندھ کر گھسیٹا گیا اور اس متاثرہ شخص کی مالی اعانت کرنا، ایک وطن دشمن اور فوج مخالف مطالبہ تھا۔ یعنی بھارتی فوج کو یہ اجازت ہونا چاہیے کہ وہ قانون اور دستور کی خلاف ورزی کرے اور کسی شخص کو اس پر اعتراض کرنے کا حق بھی حاصل نہیں ہونا چاہیے۔

اس حوالے سے میری ایک مذمتی پوسٹ پر کچھ ہندوستانی دوستوں کا ردعمل یہ تھا کہ پاکستان اگر کشمیر کو ایک سال کے لیے چھوڑ دے تو بھارت وہاں سب اچھا کر دے گا اور پھر راوی چین ہی چین لکھے گا۔ یہ بیانیہ خود یہ بتا رہا ہے کہ عام بھارتی شہری حقیقتِ حال سے کس قدر ناآشنا ہیں۔ اس بھارتی دوست سے گفت گو ہوئی، تو اس فوجی کارروائی کے دفاع میں اس کا کہنا تھا کہ آپ اپنی فوج کے ہاتھوں بلوچستان اور دیگر مقامات پر لوگوں کی ہلاکتوں اور گم شدگیوں کا ذکر کیوں نہیں کر رہے۔

پہلی بات تو یہ ہے کہ کشمیر پاکستان اور بھارت کے درمیان کسی جغرافیے یا علاقے کا مسئلہ نہیں بلکہ یہ لاکھوں کشمیری باشندوں کا مسئلہ ہے، چاہے وہ پاکستان کے زیرانتظام ہو یا بھارت کے۔ دوسری بات اگر آپ کو یہ احتمال ہے کہ پاکستان سے لوگ فوج پر پتھراؤ کرنے کے لیے کشمیر جاتے ہیں، تو پھر نصف ملین سے زیادہ فوج سرحد پر ہونا چاہیے تھی نہ کہ کمشیری شہروں اور گلیوں میں۔

تیسری بات کشمیر میں عسکریت پسندی 80 کی دہائی میں شروع ہوئی مگر یہ مسئلہ کئی دہائیوں پرانا ہے، اس وقت یقیننا پاکستان کشمیر میں دخل اندازی نہیں کر رہا تھا، اگر مسئلہ حل کیا جا سکتا، تو ہو چکا ہوتا۔

کشمیری عوام کے بنیادی حق کے مقابلے میں انسانوں کے قتلِ عام کی حمایتعاطف توقیرجب میڈیا ’’قوم پرستی‘ اور ’حب الوطنی‘ ک…

Posted by Atif Tauqeer on Friday, 2 February 2018

چوتھی بات کشمیر کے عوام کے مستقبل کا فیصلہ کرتے ہوئے چاہے پاکستان اور بھارت ایڑھی چوٹی کا زور لگا دیں، تمام دماغ جوڑ لیں، تمام تر علم استعمال کر لیں، تمام تر شفافیت اختیار کر لیں، تمام تر قانون اور انسانی حقوق پر عمل کر لیں، مگر تب تک اس علاقے میں سکون نہیں ہو سکتا، جب تک پاکستان اور بھارت کی بجائے کشمیر کے عوام خود اپنے مستقبل کا فیصلہ نہیں کرتے۔

اور آخری بات، پاکستان میں انسانی حقوق کی کسی خلاف ورزی، بلوچوں یا سندھیوں یا مہاجروں یا پشتونوں یا کسی بھی اور برادری، قومیت یا زبان سے تعلق رکھنے والے افراد کے خلاف کوئی بھی کارروائی یا انسانی حقوق کی کوئی بھی خلاف ورزی کشمیریوں کے حقوق غصب کرنے کی اجازت نہیں ہو سکتی۔

پاکستان میں ہونے والی انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں اور قانون شکنی یا کسی بھی ماورائے آئین و قانون رویے یا اقدام کے خلاف ہماری آوازیں موجود ہیں، کم از کم ہم آپ کی روش پر چل کر اپنی کوتاہیوں، اپنی خرابیوں، اپنی قانون شکنیوں یا اپنی غلط پالیسیوں کو جائز قرار نہیں دیں گے، نہ دیتے ہیں۔

ٹھیک آپ ہی کا بیانیہ استعمال کر کے پاکستان میں انسانی حقوق کی کوئی بھی خلاف ورزی کی جا سکتی ہے۔عام شہریوں کے خلاف فوج کا استعمال غلط ہے، وہ چاہے پاکستان میں ہو یا بھارت میں۔ عام شہریوں پر سرکاری گولی اور بندوق کا یوں استعمال یا شہریوں کے بنیادی حقوق کی خلاف ورزی غلط ہے، چاہے وہ پاکستان میں ہو یا بھارت میں۔ شدت پسندی اور قوم پرستی ایک تباہ کن شے ہے، چاہے وہ پاکستان میں ہو یا بھارت میں۔

اس لیے کشمیریوں کے حقوق کی خلاف ورزی جائز قرار دینے کے لیے یہ دلیل نہایت فرسودہ اور بے ہودہ ہے کہ چوں کہ فلاں ملک میں فلاں کام ہو رہا ہے، اس لیے مجھے بھی فلاں کام کرنے کی اجازت ہونا چاہیے۔

اس خطے میں امن کی ضمانت فوج کی طاقت میں اضافہ اور جدید ترین ہتھیاروں سے نہیں بلکہ عام افراد کو ان کے بنیادی حقوق دینے سے عبارت ہے۔ ہندوستانی سول سوسائٹی اور خصوصا میڈیا کو حکومتی بیانیوں کی حمایت پر مبنی پروپیگنڈا مواد نشر کر کے انسانوں کے درمیان نفرت اور تناؤ پیدا کرنے کی بجائے غیرجانب دارانہ طور پر قانون، دستور اور انسانی تکریم کے لیے آواز اٹھانے کی ضرورت ہے۔

سرحد کے اس طرف ہم اپنے دیس میں اگر کسی بھی قانون شکنی کے خلاف پوری قوت سے کھڑے ہوتے ہیں، تو سرحد کے اس طرف آپ سے بھی یہی امید کرتے ہیں کہ ہم انسانی وقار کو سیاسی مفادات کی بھینٹ نہ چڑھنے دیں۔

کشمیر کے لاکھوں افراد آپ کی اور ہماری غیرجانب داری اور انسانی ہم دردی کے منتظر ہیں۔ اب تک پاکستان اور بھارت کشمیر کو مسئلہ قرار دیتے ہیں مگر وقت ہے کہ ہم اسے کشمیریوں کا مسئلہ سمجھ کر اسے بنیادی انسانی اقدار کے تحت حل کریں۔ اس مسئلہ پر پاکستان اور بھارت کو مذاکرات کرنے کی بجائے ثالثی کرتے ہوئے مختلف کشمیری دھڑوں کو ایک میز پر بٹھا کر ان سے کوئی متفقہ حل دریافت کرنے کی ضرورت ہے یا پھر کشمیری عوام سے جو اپنے مستقبل کے فیصلے کے واحد ذمہ دار ہیں۔ دونوں ملکوں کے صحافیوں کو بھی اپنی ریٹنگ اور عوام میں مقبول بیانیوں کو مزید بڑھا چڑھا کر پیش کرنے کی بجائے کچھ بھی کہتے ہوئے ان کشمیریوں کا خیال رکھنا چاہیے، جو ہماری اس ہٹ دھرمی کی وجہ سے کئی دہائیوں سے ایک مستقل بے یقینی کا شکار ہیں۔

یہ بات پاکستانیوں اور ہندوستانیوں دونوں کو معلوم ہونا چاہیے کہ اگر ہم نے آج اپنے اپنے ریاستی بیانیوں کو بنیادی انسانی حقوق پر افضل رکھا، اگر آج بھی کشمیر فقط ایک زمین کے ٹکڑے کا نام رہا، اگر آج بھی لکھنے والے کشمیریوں کے ہاتھ، بولنے والوں کی زبانیں، چلنے والوں کے پاؤں، دیکھنے والوں کی نگاہیں، سننے والوں کے کان مٹائے جاتے رہے، اخبارات میں اپنے حقوق کی بات کرنے پر اخبارات بند ہوتے رہے، بدحواسی اور غصے کے عالم میں پتھر پھینکنے والوں پر گولیاں چلتی رہیں اور حقوق مانگنے والوں کو جیلوں میں بند کیا جاتا رہا، تو سمجھ لیجیے کہ کل ہم کسی اور معاملے میں بات کرنے کے قابل نہیں ہوں گے، کیوں کہ ہمارے ہاتھوں نکلتے اس انسانی حقوق کے جنازے کی مثالیں دے کر ہمارے سامنے ہمارے اپنے حقوق بھی پامال ہوں گے۔

اب جو چپ ہیں انہیں قاتل ہی پکارا جائے

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here