عاطف توقیر

کلبھوشن یادیو کی والدہ اور اہلیہ کو کئی ہفتوں کی سفارتی بات چیت کے بعد آخر کار پاکستان میں قید سزائے موت کے بھارتی مجرم کلبھوشن جادیو سے ملاقات کی اجازت دی گئی۔ کرسمس اور یوم ولادت بانی پاکستان کے موقع پر ہونے والی یہ ملاقات دونوں ممالک کے درمیان موجود کشیدگی میں کمی کا باعث بن سکتی تھی۔

اخلاقی طور پر یہ ایک نہایت احسن اقدام تھا اور اس اقدام پر پاکستان کو داد سمیٹنا چاہیے تھی اور عالمی برادری کے سامنے ملک کا ایک بہتر اور خوش گوار چہرہ پیدا کرنا چاہیے تھا۔ مگر اس سلسلے میں بھی کوتاہی برتی گئی اور اس سے ملک کی نیک نامی کی بجائے کئی حوالوں سے بدنامی ہوئی اور معاملہ مزید بگڑ گیا۔
اس بابت پاکستان اور بھارت دو مختلف اور متضاد بیانات کے ساتھ منظرِ عام پر ہیں۔ بھارت میں یہ صدا گونج رہی ہے کہ ہندو خواتین سے منگل سوتر، مانگ کا سندور اور ماتھے کی بندیا اتروانا اور ساڑھی کی بجائے شلوار قمیض پہنوانا، اصل میں اس خاندان کو ذلیل کرنے اور تکلیف دینے سے عبارت تھا۔ پاکستان کا موقف یہ ہے کہ معاملے کی حساسیت اور سلامتی کے امور کے باعث ایسا کرنا ناگزیر تھا اور اس تناظر میں بھارت کو پہلے سفارتی ذرائع سے مطلع کیا جا چکا تھا، جب کہ بھارت کا کہنا ہے کہ اسے یہ سب نہیں بتایا گیا تھا۔ خیر اس بابت کوئی بھی بات کرنا معاملے کے اصل حقائق کی بجائے کسی ایک فریق کے موقف کی توثیق کے زمرے میں آتا ہے، سو اس لیے اسے ایک طرف رکھ دیتے ہیں اور معاملے کے اس حصے کی طرف بڑھتے ہیں، جسے ضرور ہونے سے روکا جا سکتا تھا۔

کلبھوشن جادیو کی اہلیہ اور والدہ ملاقات کے بعد دفتر خارجہ کی عمارت سے نکلیں تو وہاں ٹی وی کیمروں والے بہت سے صحافی موجود تھے، جہاں صحافیوں کی جانب سے ان خواتین پر تندوتیز سوالات کی بوچھاڑ شروع ہو گئی۔
آپ کا بیٹا ہزاروں پاکستانیوں کا قاتل ہے، آپ کا بیٹا جاسوس ہے، آپ کا بیٹا دہشت گرد ہے، آپ کو کیسا محسوس ہو رہا ہے؟
کچھ روز قبل سوشل میڈیا پر ایک جرمن سفارت کار کی ایک ویڈیو وائرل ہوئی تھی، جس میں ایک روڈ ایکسیڈنٹ کے بعد اسلام آباد میں جرمن سفارت خانے کے اس اہلکار کو صحافیوں نے چاروں طرف سے مائیکس اور کیمروں میں گھیرا ہوا تھا۔
اور یہ بھی طے کر لیا تھا کہ اگر وہ گورا ہے، تو یقیناﹰ شراب بھی پیتا ہو گا۔ بدقسمتی دوہری تھی ایک تو یہ صحافی انگریزی نہیں جانتے تھے اور نہایت بری انگریزی میں یہ پوچھنے کی کوشش کر رہے تھے کہ اس نے شراب کیوں پی اور دوسری جانب اس جرمن کی انگریزی بھی کوئی خاص نہیں تھی اور ویسے بھی اتنے صحافیوں کے درمیان پھنسے شخص پر فقط سوال گرتے ہیں، جواب کی اہمیت جاتی رہتی ہے۔ آپ کو اس وقت کیسا محسوس ہو رہا ہے؟
خیر وہ بچارا بار بار کہہ رہا تھا کہ میں سفارت کار ہوں۔ اصولاﹰ تو یہ جملہ ادا ہوتے ہیں یہ بات طے ہو جانا چاہیے تھی کہ ویانا معاہدے کے تحت اس سفارت کار کو استثنا حاصل ہے اور اس کے خلاف کوئی قانونی کارروائی اول تو ہو نہیں سکتی اور اگر ہو بھی تو اس کے طریقہ کار بھی قانونی طور پر وضع ہے، مگر صحافی حضرات کسی شام کے پروگرام کی طرح سڑک پر ہی عدالت لگا چکے تھے اور پسینے میں شرابور وہ خوف زدہ سفارت کار اپنے اعصاب جمع کر کے فقط ان تندوتیز سوالات کے جواب دینے کی کوشش کر رہا تھا۔
ہمارے صحافی ’’آپ کو کیسا محسوس ہو رہا ہے‘‘ لیے کہیں بھی پہنچ جاتے ہیں، زلزلے سے برباد اور اپنے خاندان کے افراد کے ہمیشہ کے لیے بچھڑ جانے والے سے بھی، کسی جنسی زیادتی کی شکار خاتون سے بھی، کسی دہشت گردانہ واقعے میں اپنا لختِ جگر کھو دینے والی ماں سے بھی، ہسپتال میں دو نہ ملنے پر مر جانے والے شخص کی بیوہ سے بھی اور تھر کی پیاس میں مر جانے والے کسی بچے کے ماں باپ سے بھی۔
روڈ ایکسیڈنٹ کے فوراﹰ بعد یہ صحافی وہاں اچانک کیسے نمودار ہوئے تھے، یہ بات کوئی نہیں جانتا مگر یہ بات واضح ہے کہ کلبھوشن جادیو کے سلسلے میں یہ تمام صحافی وہ تھے، جنہیں خصوصی پاس جاری کیے گئے تھے۔ اصولاﹰ تو ان صحافیوں کو فقط ان دونوں خواتین کی تصاویر لینے کی اجازت دی جانا تھی اور پہلے سے سفارتی طور پر طے کردہ یہ پالیسی کہ ان خواتین سے کسی صحافی کو بات چیت کی اجازت نہیں ہو گی، تاہم نتیجہ اس کے بالکل برخلاف نکلا۔
یہ بات بھی نہ سمجھی جا سکی کہ اگر کوئی شخص مجرم ہو تو بھی اس کے اہل خانہ کو آپ مجرم نہیں سمجھتے۔ کوئی شخص دہشت گرد ہو، تو اس کے بچے کو دہشت گرد نہیں کہا جاتا۔ اگر کوئی جاسوس ہو تو اس کی بیوی یا ماں کو جاسوس سمجھ کر نہیں ملا جاتا۔
اخلاقی برتری فقط اس وقت قائم ہوتی ہے، جب اخلاقی اقدار کو ملحوظ رکھا جائے۔ کوئی شخص مجرم ہے، تو اسے جرم کی سزا قانون کے مطابق ملنا چاہیے مگر کسی فرد کی جرم کی سزا اس کے پورے خان دان کو دینا خود ایک جرم ہے۔
صحافیوں کو وہاں لانا اور ان خواتین سے اس انداز سے جارحانہ سوالات کرنا ایک غیرمناسب اور غیرضروری رویہ تھا اور یہ رویہ محمد علی جناح کے اتحاد، یقین اور تنظیم کے بنیادی کلیے سے متصادم عمل تھا۔
25 دسمبر کو یوم ولادت بانی پاکستان اور کرسمس کے موقع پر ہونے والی اس ملاقات کو ایک مثالیہ بنانے کی ضرورت تھی۔ اس کے ذریعے دونوں ممالک کے درمیان موجود تناؤ اور ایک دوسرے ملک کے خلاف پراکسی جنگ کی سوچ کو ختم کرنے کی راہ ڈھونڈنا چاہیے تھی، مگر بدقسمتی سے نتیجہ بالکل مختلف نکلا۔

دوسری جانب لائن آف کنٹرول پر پھر گولیاں چلنے لگیں اب تک چار بھارتی اور تین فوج ان گولیوں کا لقمہ بن چکے اور فضا جو پہلی ہی کشیدہ تھی، مزید کشیدہ ہو گئی۔
پاکستان میں پیدا ہونے اور بھارت میں جا بسنے والے شاعر گلزار نے کہا تھا
صبح صبح اک خواب کی دستک پر دروازہ کھولا’ دیکھا
سرحد کے اس پار سے کچھ مہمان آئے ہیں
آنکھوں سے مانوس تھے سارے
چہرے سارے سنے سنائے
پاؤں دھوئے، ہاتھ دھلائے
آنگن میں آسن لگوائے
اور تنور پہ مکی کے کچھ موٹے موٹے روٹ پکائے
پوٹلی میں مہمان مرے
پچھلے سالوں کی فصلوں کا گڑ لائے تھے
آنکھ کھلی تو دیکھا گھر میں کوئی نہیں تھا
ہاتھ لگا کر دیکھا تو تنور ابھی تک بجھا نہیں تھا
اور ہونٹوں پر میٹھے گڑ کا ذائقہ اب تک چپک رہا تھا
خواب تھا شاید!
خواب ہی ہوگا!!
سرحد پر کل رات، سنا ہے ،چلی تھی گولی
سرحد پر کل رات، سنا ہے
کچھ خوابوں کا خون ہوا تھا!

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here