صادق صبا

ازمنہ وسطہ کا روم، جو موجودہ دور میں یورپ کہلاتا ہے، میں آگسٹس کے قبول عیسائیت کے بعد عیسائیت روم میں بھرپور طریقے سے پھیلا۔آگسٹس نے ایک منظم طریقے سے عیسائیت کو روم میں عام کیا اور عیسائیت کے پرچار کی سرپرستی بذات خود کی چونکہ وہ بادشاہ تھے تو بے قدوقاست یہ بادشاہت تھیاکرسی میں تبدیل ھوگئی جس میں اقتدار اعلی آگسٹائن اور دوسرے مذہبی پیشواؤں کے ہاتھ میں تھا جو خدا کے نام پر لوگوں سے اپنی اطاعت کرواتے تھے۔ مذہبی پیشوا اس دور میں ھر سیاہ و سفید کے تنہا مالک تھے۔ اور انھوں نے کلیسا کو ایک مذہبی ادارے کے طور پر قائم کیا ۔۔۔کلیسا نے اپنی اجاراداری قائم کرنے کیلئے مذہب میں اپنی منشاء کے مطابق تحریفات و بدعات بھی کیں۔

یہ دور روم میں علمی و فکری جمود کا دور تھا۔ کلیسا کی شدت پسندی و فکری پستی اس حد تک تھی کہ جس بھی متفکر و بے باک شخص نے اس مذہبی سراب محل سے باہر پاؤں رکھا تو اس کے نتیجے میں اسکو آریوں سے چیر دیا گیا یا کھولتے تیل میں ڈال دیا گیا انتہا یہ کہ اس پر کافر و زندیق کا لیبل بھی چسپا کرکے اسے لوگوں کی نظروں میں بھی ملعون و معتوب قرار دیا گیا۔

اور خود کلیسا کی ساری بحث و مباحث ان باتوں پہ رہی کہ سوئی کہ نوک پر کتنے فرشتے سماء سکتے ہیں؟ عشاء ربانی کھانے کے کتنے ثواب ہیں؟اگر عورت کا ایک بال پردے سے باہر آئے کتنے گناہ ہونگے؟ محض وہ گناہ و ثواب کے حساب کتاب اور معمولی چیزوں میں قہر و جبر کے پہاڑ گرانے میں مصروف عمل تھے۔ مقتول کے طبقے کو معیار بنا کر قاتل کا گناہ معاف کراتے تھے۔

اس گھٹن اور جمود کے دور نے کچھ صدیوں کا سفر طے کیا تو ایک طبقہ ایسا ابھرا کے اس نے اپنے زبوحالی پہ سوچنا شروع کیا تو وہ اس نتیجہ پر پھونچا کہ ہمارے پستی اور زوال کی وجہ مذہب ہے اور انھوں نے مذہب کو جنگ و جدال کی وجہ مان کر اس سے تحرض بھرتی تو ایک نیا نظام زندگی ابھرا جس کو انھوں نے سیکیولرازم کا نام دیا جس کے سائے تلے لبرل ازم اور اتھیسسزم پروان چڑے۔

حالانکہ اس تبدیلی نظام کا ذمہ دار مذہب نہیں بلکہ جبر و تشدد کی وہ سوچ تھی جو کلیسا میں پنہاں تھی۔

آج اگر ہم اسلامی دنیا میں بھی ذرا جانکیں تو گناہ و ثواب کا وہی حساب و کتاب، علمی و فکری سطع پر وہی تعصبات، تفرقات و مقلدی، کافر و مشرک کا وہی آئینہ جو کلیسا میں آویزاں تھا آپ کو یہاں ملے گا۔

آج ہماری بڑی بحث یہ ہے کہ شلوار گھٹنوں سے کتنی اوپر ہے؟ داڑھی ایک مشت ہے یا دو مشت یا کمبخت کافر نما کلین شیو ہے؟ بال کیسے بنے ہیں۔

نوجوانوں کے ہئیراسٹائل پہ ”کچک ٹاپ“ Dog style اور ”پشّی ٹاپ“Cat style کے طنزیہ فقرے کس کر ان کے دل میں نفرت بھر کر خوامخواہ ان کو اسلام کے اصل روح سے دور کیا جارہا ہے۔حالانکہ ملائے نکتہ چیں کو اتنی بھی عقل نہیں کہ نوجوان سیماب سا ہے۔ آج اگر جس تیزی سے یہ دور جدید کی طرف لپک پڑا ہے تو کل آپ کی طرف اس سے بھی زیادہ تیزی سے آسکتا ہے۔مگر غرورِ زہد میں مبتلا اس جنابِ عالی کو یہ دھن سوار ہے کہ یہ نوجوان بھی اسی کی طرح اپنی جنبشِ مژگاں سے حوروں کو اضطراب میں مبتلا رکھے مگر یہ نوجوان ہے کہ :-
حوروں کا انتظار کرے کون حشر تک
مٹی کی بھی ملے تو ہے جائز شباب میں
یا
کل کے وعدے پہ کون جیتا ہے
آج اور ابھی ابھی ساقی
کی طبعت کا مالک ہے۔

کیونکہ نوجوانوں کو ترغیب دینے والے وہ ہیں۔جنہوں نے چھاپے خانے کے ایجاد کے بعد تک 300 سال تک اسکو شیطانی قرار دے کر اس پر پابندی عاید کی جس کا نتیجہ ہمیں علمی پستی کی صورت میں اٹھانا پڑا۔اور ڈی این اے ٹیسٹ کو غیر اسلامی قرار دے کر اس پر پابندی عاید کرنے جیسے بے منطق فیصلے تک۔۔۔۔ ھر لحضہ جہالت کا ثبوت دیا ہے۔

ملا نے دین اسلام کو انتہائی سخت پیش کرکے نوجوانوں کو اس سے دور کیا حالانکہ دین اسلام، شلوار کے اونچ نیچ اور داڑھی تک محدود نہیں بلکہ ایک پاکیزہ و بہترین سسٹم کا نام ہے جو اگر انسان میں آجائے تو اس کے دونوں جہان سنور جائیں مگر اس کیلئے ھمارے ملا کو سنت کلیسا چھوڑ کر اصل اسلام اور نوجوانوں کے ذہنی حالت کو سمجنا ھوگا۔