احمد جمیل

عظیم انقلابی رہنما اور انقلابِ کیوبا کے بانی فیڈل کاسترو نے کہا تھا، “آپ میرے بارے میں کوئی بھی رائے قائم کر سکتے ہو لیکن یہ اہم نہیں؛ مجھے تاریخ صحیح ثابت کرے گی.”
کل فوج کے شعبہِ تعلقات عامہ کے ترجمان نے ملکی سیکیورٹی صورتحال پر پریس کانفرنس کی. پریس کانفرنس میں ترجمان نے دوسرے مسائل کے ساتھ ساتھ پختونوں کے حقوق کے لئے اس سال شروع کی گئی پختون تحفظ تحریک کے حوالے سے بھی بات کی. انھوں نے کہا، “جہاں تک ان (پی ٹی ایم) کے ان تین مطالبات کا تعلق تھا ریاست نے انہیں اپنا سمجھ کر تعاون کیا لیکن اب یہ جس طرف جا رہے ہیں وہاں وہ حد عبور کر سکتے ہیں اور ہم اپنا اختیار استعمال کرسکتے ہیں۔ میری ان سے درخواست ہے کہ پر امن پاکستانی کا کردار ادا کریں اور اس نہج پر نہ جائیں کہ ریاست کو اپنا زور لگا کر صورتحال کو قابو کرنا پڑے۔”
فوج کے ترجمان کے اس بیان کو کئی حلقوں کی طرف تنقید کا نشانہ بنایا گیا کہ ایک ایسی تحریک جس کے نہ صرف مطالبات آئنی اور قانونی ہیں بلکہ جو اپنے بننے سے لے کر اب تک پرامن رہی ہے اُس کے بارے میں دھمکی آمیز رویہ نامناسب ہے اور یہ پرامن شہریوں (پختونوں) میں مذید احساسِ محرومی کا سبب بنے گا.
دلچسپ بات یہ ہے کہ جسطرح کی کوریج اور میڈیا اٹینشن فوج کے ترجمان کو دی جاتی ہے اتنی ہی شدت سے پختون تحفظ تحریک کو قومی میڈیا کی طرف سے نظر انداز کیا جاتا رہا ہے بلکہ کئی دفعہ الٹا منفی پروپیگنڈہ کرکے تحریک کو بیرونی ایجنڈہ اور اس کے رہنماؤں کو غدار کہا گیا ہے. مثلاً ترجمان نے کہا کہ پی ٹی ایم کے تین مطالبات ہیں اور ان تینوں کو بڑی حد تک حل کیا گیا ہے. قومی میڈیا میں بھی یہی تاثر دینے کی کوشش کی گئی. جب کہ درحقیقت پی ٹی ایم کے تین نہیں بل کہ چھ مطالبات ہیں. پانچ وہ جن کو مان کر فروری مارچ میں اس وقت کی وفاقی حکومت نے دھرنے کے شرکاہ کے ساتھ معاہدے پر دستخط کرکے ایک مہینے میں ان مطالبات پر عملدرامد کا وعدہ کیا جس کے بعد پختونوں نے اسلام آباد دھرنے کے خاتمے کا اعلان کیا. اور چھٹا اب طاہر داوڑ کے اندوہناک شہادت کے بعد شامل کیا گیا.
ان مطالبات میں پہلا مطالبہ راو انوار سے متعلق ہے جس پر اب تک کئی مہینے گزرنے کے باوجود ریاست کی طرف سے کوئی ایسا قابل اعتماد اقدام نہیں کیا گیا جس سے کئی سو قتل کئے گئے لوگوں کے غمزدہ خاندانوں کو انصاف کی فراہمی کی کوئی امید نظر آئے. پی ٹی ایم کے مرکزی لیڈر منظور پختون کا کہنا تھا کہ اب تک ان کا ایک بھی مطالبہ پورا نہیں کیا گیا ہے.
فوج کے ترجمان کا کہنا تھا کہ پی ٹی ایم پر امن رہے. جب کہ حقیقت یہ ہے کہ ‏آٹھ نو مہینے کے احتجاج کے دوران PTM کے ورکرز کو اُٹھایا گیا، غائب کیا گیا، بےسروپا مقدمات میں الجھایا گیا، جیلوں میں ڈالا گیا، ان کے جلسوں کی راہ میں روڑے اٹکائے گئے، ان کی لیڈرشپ کو گرفتا کیا گیا، ان کو دھمکیاں دی گئی، انکو غدار اور ایجنٹ تک کہا گیا اس کے باوجود پی ٹی ایم پرامن رہی.

سوشل میڈیا کی ویب سائٹ ٹویٹر پر کل سے ایک ٹرینڈ #کونسی_ریڈلائنز یا #KaunsiRedLines چل رہا ہے جس میں فوج کے ترجمان سے اس بیان سے بابت سوالات کئے جارہے ہیں جس میں انھوں نے کہا کہ پی ٹی ایم ریڈ لائنز کراس نہ کرے ورنہ ریاست اپنی رٹ قائم کرے گی. اپنے تقریباً گھنٹہ بھر کے پریس کانفرنس میں ان کو اس پر بات کرنی چاہئے تھی کہ ریڈ لائنز سے ان کی کیا مراد ہے اور کون کون سی باتیں ریڈ لائن میں شامل ہیں. خیر یہ تو انھوں نے نہیں بتایا مگر اتنا ضرور ہے کہ اب تک پی ٹی ایم نے جو کچھ کیا ہے اس کو غیر آئنی اور غیر قانونی نہیں کہا جا سکتا؛ مثلاً،

1. راو انوار کے احتساب کا مطالبہ کیا گیا
2. پختونوں کے حقوق کی بات کی
3. مسنگ پرسنز کی عدالت میں پیشی کا مطالبہ کیا اور بے گناہ ہونے کی صورت میں رہا کرنے کا مطالبہ کیا
4. پختونوں کی چیک پوسٹوں پہ ذلالت روکنے کی بات کی
5. عوامی جلسے کئے جو انتہائی حد تک پر امن تھے.
6. ٹروتھ اینڈ ری کنسیلیشن کمیشن کا مطالبہ کیا گیا جس میں دہشتگردی کے واقعات کے متعلق تحقیقات کا مطالبہ کیا گیا.
7. حال ہی میں ایس پی پشاور (رورل) طاہر داوڑ شہید کے قتل کی کسی عالمی ادارے سے صاف و شفاف تحقیقات کا مطالبہ کیا گیا کیوں کہ اس واقعے میں دو ممالک، پاکستان اور افغانستان کی زمین استعال ہوئی.
کسی بھی پرامن اور آئین کی رو سے صحیح عوامی تحریک کو ختم کرنے کا آسان طریقہ یہ ہے کہ عوام میں اس سے متعلق بے سر و پا پرپیگنڈے اور غداری کے فتوئے پھیلانے کے بجائے اس کے مطالبات کو حل کرنے کے لئے خلوص دل سے عملی اقدامات کئے جائے. پی ٹی ایم صرف منظور پختون اور باقی لیڈر شپ کا نام نہیں بل کہ یہ ان غمزدہ خاندانوں اور امن کو ترسے لوگوں کی تحریک ہے جو دہشتگردی کے خلاف جنگ میں سب سے ذیادہ متاثر ہوئے. ایسی تحریک کو نام نہاد پوپیگنڈے سے کچلنے کی پالیسی خطرناک اور بڑی حد تک تباہ کن ثابت ہو سکتی ہے. یہی وجہ ہے کہ مہینوں تک پرزور ریاستی پروپیگنڈے اور دھونس کے باوجود یہ تحریک پوری آب وتاب سے نہ صرف موجود ہے بل کہ مطالبات کو ماننے میں ریاستی بے حسی اور سست روی نے مذید لوگوں کو تحریک کے ساتھ جوڑ دیا ہے.
ملک کے موجودہ وزیر اعظم عمران خان اور تمام سیاسی قیادت سمیت خود فوج کے شعبہ تعلقات عامہ کے ترجمان پی ٹی ایم کے مطالبات کو جائز اور آئینی قرار دے چکے ہیں تو پھر کیا وجہ ہے کہ ان مطالبات پر فوری عمل کرنے کے بجائے الٹا PTM کے خلاف پروپیگینڈہ کیا جاتا ہے! آئین پہ عملدرامد اور پاکستانی شہریوں کے لئے پرامن تحریک چلانے اور انسانی حقوق کے تحفظ کے لئے شعور پھیلانے پر سراہنے کے بجائے ان کو الٹا غدار اور ایجنٹ کہا جا رہا ہے!
ملک میں ایک منتخب پارلیمان کی موجودگی کے باوجود کسی بھی پرامن شہری پر محظ اپنے حقوق کے لئے آواز اٹھانے پر غداری کے فتوے اور بیرونی ایجنٹ کے سرٹیفیکیٹ کون بانٹ رہا ہے اور ایسے عناصر کے خلاف ریاست چھپ کیوں ہے؟ یہ باتیں افسوس ناک ہیں.
اب وقت آگیا ہے کہ ان تمام باتوں کو پارلیمان میں لایا جائے اور ان پر بحث ہونے کے بعد متفقہ قانون سازی کی جائے اور واضح کیا جائے کہ ریاستی اداروں کی کیا حدود ہیں. عوام کے لئے ریڈ لائنز کون سی ہیں اور ریاست سمیت اِس کےمختلف اداروں کی ریڈ لائنز کون کون سی ہیں. اسلامی جمہوریہ پاکستان کے 1973 کے آئین کے آرٹیکل 8 سے 28 تک جو بنیادی حقوق اس ملک کے شہریوں کو ودیعت کئے گئے ہیں اگر ان کی خلاف ورزی ہوتی ہے تو ریاست کا لائحہ عمل کیا ہوگا اور وہ کس طرح اداورں کو آئین میں بیان کی گئی ان کے دائرہ کار کے اندر پابند کرکے شہریوں کا تحفظ یقینی بنائے گی. اگر اب بھی خدانخواستہ ایسا نہیں کیا جاتا تو آئنی حقوق کے لئے پرامن احتجاج کرنے والوں کو اسی طرح دھمکیاں ملینگی اور شہری حقوق کے لئے اٹھنے والی ہر آواز کو غدار کا لیبل لگا کے چھپ کرایا جاتا رہے گا جو کہ ریاست اور اس کے اداروں کی ساکھ کے لئے زہرِ قاتل ثابت ہوسکتا ہے.
آخر میں ذکر ان ریڈلائنز کا جو کراس کی گئی مگر کیا واقعی یہ پی ٹی ایم نے کراس کی؟

1.‏ کیا پی ٹی ایم نے مدرسوں سے بچوں کو بھرتی کر کے سابقہ فاٹا میں ٹریننگ کیمپ بنائے اور ان کو افغان جہاد کے نام پہ ٹریننگ دی؟
2. کیا دنیا جہاں کے دہشتگردوں کو پی ٹی ایم نے قبائلی علاقوں میں لا کہ بسایا؟
3. ‏کیا پی ٹی ایم نے ستر سالوں تک قبائلی علاقوں کو علاقہ غیر بنا کے رکھا؟
4. کیا پی ٹی ایم نے ملک آذاد ہونے کے بعد بھی ستر سالوں تک بدنامِ زمانہ FCR کو محب وطن قبائلیوں پہ نافذ رکھا؟
5. ‏کیا پی ٹی ایم نے دہشتگردوں کے خلاف گیارہ آپریشن کئے اور ہر بار آپریشن کے بعد پھر سے دہشتگرد ان کی وجہ سے واپس آئے؟
6. کیا پی ٹی ایم کی وجہ سے لا کھوں لوگ IDPs بنے، ان کے گھربار تباہ ہوئے، کاروبار تباہ ہوئے، قتل ہوئے، ان کو غائب کیا گیا؟
8. کیا امریکہ نے پی ٹی ایم کے کہنے پر ملکی خود مختاری کا مذاق اُڑاتے ہوئے اسامہ کو آپریشن میں مارا؟
9. کیا پی ٹی ایم نے مسجدوں، بازاروں، عوامی اجتماعات، سرکاری اہلکاروں پر اور تعلیمی اداروں میں خودکش دھماکوں اور ٹارگٹ کلنگ سے تباھی پھیری؟
10. ‏کیا پی ٹی ایم نے انتخابات کے دوران سیاسی کارکنوں کو دھمکیاں دی؟
11. کیا پی ٹی ایم نے الیکشنز میں ووٹ کا تقدس پامال کیا؟
12. کیا پی ٹی ایم نے جمہوریت کے خلاف ہمیشہ سے نہ صرف سازشیں کی بلکہ منتخب عوامی حکومتوں کا تختہ اُلٹا؟
13.کیا پی ٹی ایم نے پختونوں، بلوچوں، سندھیوں اور انسانی حقوق کے کارکنوں کو جبری اغواہ کیا؟
14. کیا پی ٹی ایم کی وجہ سے اسامہ کئی سالوں تک ایبٹ آباد میں رہا اور خفیہ اداروں کو پتہ تک نہ چل سکا؟