عاطف توقیر

عمران خان صاحب نے چند روز قبل برطانوی نشریاتی ادارے بی بی سے کے پروگرام ہارڈ ٹاک میں انٹرویو دیا۔ ہمارے ہاں میڈیا اور صحافیوں کی حالت ہم سب کے سامنے ہیں۔ کتابوں میں جسے ’زرد صحافت‘ قرار دے کر پڑھایا جاتا ہے، پاکستان میں اس کی مثالیں جا بہ جا ملتی ہیں اور چند ایک باضمیر صحافیوں کے علاوہ مجموعی طور پر صحافی برادری اور میڈیا کی جو حالت ہے، وہ بھی ہم سب کے سامنے ہے۔

مختلف مقامات پر مختلف قومیتوں یا برادریوں کی جانب سے بڑے بڑے احتجاج کو بھی میڈیا سے یوں غائب کر دیا جاتا ہے، جیسے ان کا کوئی وجود ہی نہیں اور ایسے میں ہر دس سال بعد جرنیلوں کے تیار کردہ سیاست دان اگلے دس بیس سال کے لیے قوم کے سر پر نازل کر دیے جاتے ہیں۔ تمام اہم سیاسی جماعتوں کی تاریخ یہی رہی ہے۔ بھٹو کو ایوب لایا، بھٹو اپنے پیروں پر کھڑا ہوا اور عوام سے جڑنا شروع ہوا، تو اسے عدالتوں کے ذریعے قتل کر دیا گیا۔ دوسری جانب ضیاالحق نواز شریف کو جانے کہاں سے لے کر عوام کے سر پر لے آیا۔ نواز شریف اپنے پیروں پر کھڑا ہوا، تو اس کے مقابلے میں عمران خان پیدا کر دیا گیا کہ اب قوم مزید بیس تیس برس انہیں بھگتے اور حالات جوں کے توں رہیں۔

عمران خان کا راستہ صاف کرنے اور انتخابات میں ان کو آگے لانے کے لیے جرنیلوں کی جانب سے عدالتوں کو استعمال، میڈیا کا استعمال، بالواسطہ طور پر اپنی قوت، اثررورسوخ اور قومی وسائل کا استعمال سب کے سامنے ہیں۔ انتخابات سے قبل جس انداز کی دھاندلی ہم دیکھ رہے ہیں، اس کی مثال ماضی میں نہیں ملتی۔ عجیب بات یہ ہے کہ قوم اس ستر برس میں اتنا مایوس ہو چکی ہے، کہ شاید اس نے بھی ہار مان لی ہے، ورنہ کچھ سوالات بہت واضح اور اس دیس کے ’اصل حکم رانوں‘ کا منصوبہ بڑا سیدھا سادھا سا ہے۔
انتخابات کی نگرانی کے لیے بین الاقوامی مبصرین کو اجازت نہ دینا۔ اخبارات اور الیکٹرانک میڈیا کو دباؤ کے ذریعے مجبور کرنا کہ انہیں کس انداز سے رپورٹنگ کرنا ہے

عدالتوں کو استعمال کر کے پی ٹی آئی کے علاوہ دیگر تمام پارٹیوں کے لیے راستے مشکل بنانا۔ عوامی مہم کے ذریعے پی ٹی آئی کے علاوہ دیگر سیاسی جماعتوں، رہنماؤں، تنظیموں، تحریکوں حتیٰ کے غیرجانب دار ناقدین کو ’غدار‘، ’کرپٹ‘، ’غیرملکی ایجنٹ‘ اور ’ملک دشمن‘ قرار دیتے ہوئے انہیں سوشل میڈیا تک پر اپنی بات کہنے سے روکنا اور اس جیسے متعدد اقدامات واضح طور پر بتا رہے ہیں کہ انتخابات سے قبل ہی دھاندلی کا آغاز ہو چکا ہے اور یہ انتخابات شاید ملی تاریخ کے سب سے ناقابل اعتبار انتخابات ہوں گے، تاوقت کہ عوام ان میڈیا بیانیوں، مہم، القابات اور دیگر تمام غیردستوری اور تفریق زدہ بیانیوں کو رد کر کے اپنا حق رائے دہی پوری شدت سے استعمال کریں۔

خیر پاکستان میں صحافیوں کو ان دنوں عمران خان کے زیادہ سے زیادہ انٹرویو نشر کرنے، ان کو زیادہ سے زیادہ کوریج دینے اور ان کا بیانیہ پورے زور و شور سے واحد درست اور ملکی سلامتی اور بقا کی ضمانت قرار دے کر عوام تک پہنچانے کی ہدایات بھی ہیں اور منافع بخش کاروبار بھی اور اس دوران دیسی صحافیوں کے نرم سوالات اور طے شدہ جوابات کے ہلے عمران خان صاحب نے بی بی سی کے پروگرام ہارڈ ٹاک میں زین بداوی کا انٹرویو کا سوچا۔

انٹرویو میں بداوی نے کہا کہ گیلپ سروے بتا رہا ہے کہ نواز لیگ پی ٹی آئی سے آگے ہے، تو محترم عمران خان نے کہاکہ سروے زیادہ تر غلط معلومات فراہم کرتے ہیں اور عام انتخابات میں رجحان سوئنگ پر منحصر ہوتا ہے۔ بداوی نے کہا کہ ضمنی انتخابات میں چند ہی ماہ قبل آپ کی جماعت کو بدترین شکست ہوئی ہے، تو عمران خان کا جواب تھا کہ ضمنی انتخابات میں وہی جماعت جیتی ہے، جس کی حکومت ہو۔

بداوی نے پیپلز پارٹی کے رہنما خورشید شاہ کے حوالے سے کہا کہ آپ نے اپنی حکومت والے صوبے خیبرپختونخوا میں ملازمتوں کے کئی لاکھ مواقع پیدا کرنے کا وعدہ کیا تھا، جب کہ آپ نے وہاں چند ہزار نوکریاں بھی پیدا نہیں کیں۔

اس کے جواب میں عمران خان کا کہنا تھا کہ سروے (جو اسی انٹرویو میں عمران خان کے مطابق حقیقت نہیں بتاتے) بتا رہے ہیں کہ ان کی جماعت کے پی کے میں جیت جائے گی۔ صحافی نے متعدد مرتبہ عمران خان کو روک کر اپنا سوال دھرایا، مگر خان صاحب نے اس سوال کا جواب دینے کی بجائے صوبے کی سلامتی کی صورت حال پر بات کرنا مناسب سمجھی۔ صحافی پوچھتی رہی کہ اس پانچ سالہ دور میں کوئی جامعہ یا کوئی ہسپتال بنایا گیا، مگر جواب نہ دارد۔

عمران خان کی جانب سے مکمل زور اسی بات پر رہا کہ ان کے صوبے میں سلامتی کی صورت حال اچھی ہو گئی ہے اور پولیس کا غیرسیاسی کر دیا گیا ہے۔ اس کے جواب میں بداوی نے کہا کہ آپ پر یہ الزام بھی عائد کیا جاتا ہے کہ آپ کو فوج کی پشت پناہی حاصل ہے، اس کے جواب میں عمران خان مصر رہے کہ دیگر جماعتوں کو تو فوج کی حمایت حاصل رہی ہے، مگر وہ اپنی جدوجہد سے یہاں تک پہنچے ہیں۔ اس پر بداوی نے سوال کیا کہ پاکستانی فوج پر انسانی حقوق کی پامالی، ماورائے عدالت قتل، لوگوں کو جبری طور پر لاپتا کرنا جیسے الزامات عائد کیے جاتے ہیں، مگر آپ کی طرف سے ان کی مذمت نہیں ہوتی، تو اس کے جواب میں خان صاحب پھر واضح الفاظ میں جواب دینے سے عاری رہے۔

خان صاحب کے مطابق ملکی فوج ہر فوجی سربراہ کے دور میں تبدیل ہو جاتی ہے، اس لیے ماضی کے جرنیلوں کے دور میں وہ نادرست اور غیرقانونی سرگرمیوں میں ملوث رہی مگر جب سے باجوہ صاحب آئے ہیں، روای چین ہی چین لکھ رہا ہے۔

ایسے میں عمران خان سے ضرور سوال کیا جانا چاہیے تھا کہ ایسی صورت میں تو باجوہ صاحب کو ملکی دستور توڑنے اور سنگین جرائم میں ملوث پرویز مشرف اور بھاری کرپشن کے معاملات میں ملوث سابقہ جرنیلوں کی بابت کارروائی کا آغاز بھی کرنا چاہیے تھا، مگر شاید عمران خان اس سوال کا جواب بھی یہ دے کر دیتے کہ سروے بتا رہے ہیں کہ ان کی جماعت جیت جائے گی۔

دوسری جانب دنیا بھر کی تنظیمیں چیخ رہی ہیں کہ حالیہ کچھ عرصے میں ملک بھر میں انسانی حقوق کی پامالیوں اور جبری گم شدگیوں کے واقعات میں کمی بجائے اضافہ ہوا ہے۔ عمران خان کی جماعت کے حکومت والے صوبے خیبر پختونخوا میں حالیہ کچھ عرصے میں انسانی حقوق کی شدید خلاف ورزیاں جس انداز سے ہوئیں، اس کے جواب میں عمران خان اور پی ٹی آئی کی جانب سے مکمل خاموشی اختیار کی گئی۔ حتیٰ کے پہلی دفعہ پشتونوں کی جانب سے سماجی اور قانونی حقوق کے لیے ایک تحریک کا آغاز کیا اور نوجوانوں کی بڑی تعداد اس میں شامل ہوئی، تاہم اس موقع پر بھی پی ٹی آئی اس کے مقابلے میں نظر آئے۔ یعنی اب تک کی صورت حال یہ ہے کہ جیسا جیسا انہیں حکم ملتا رہا، ویسا ویسا عملی کام ہم اس جماعت کی جانب سے دیکھتے رہے۔

خیر تمام تر معاملات اپنی جگہ اور عمران خان کے اس انٹرویو سے ان کے ویژن، سوچ، فکر کی بابت کوئی رائے بنانا اپنی جگہ، پی ٹی آئی کی جانب سے قومی اسمبلی کی 173 نشستوں میں سے 148 کے لیے ان افراد کو چننا اپنی جگہ جو دیگر جماعتوں سے اڑتے بٹیروں کی طرح اس جماعت میں شامل ہوئے ہیں اور تحریک انصاف کی اپنی جدوجہد میں ساتھ رہنے والے فقط 25 رہنما اپنی جگہ، میں ذاتی طور پر یہی سمجھتا ہوں کہ خدا کرے پی ٹی آئی برسراقتدار (جو میری ذاتی رائے میں تمام تر دھاندلی اور جرنیلی پشت پناہی کے باوجود خاصا مشکل ہے) آ جائے اور عمران خان وزیراعظم بن جائیں، تاکہ اس وقت نعرے لگاتے، شور مچانے، گالیاں دیتے اور غدار غدار پکارتے دوستوں کو معلوم ہو جائے کہ سیاسی بیانات اور نعرے الگ بات ہیں اور حکومت قائم کر کے بغیر اختیارات تنقید سننا اور کسی اور کی پالیسیوں پر گالیاں کھانا ایک اور بات۔

یہاں یہ بات بھی سمجھ لیجیے کہ عمران خان پر اس تنقید مضمون کا یہ مطلب بھی نہیں کہ نواز شریف اور زرداری دور حکومت میں انسانی حقوق کی پامالیوں پر وہ رہنما کھل کر عوام کے تحفظ کے لیے کھڑے رہے ہیں۔ حالت یہ ہے کہ لوگ لاپتا ہوتے رہے، ماورائے عدالت قتل ہوتے رہے، مگر خواہ وہ نواز شریف تھے کہ زرداری، کسی کی جانب سے قوم اور دستور کی سربلندی کے لیے ظالم کے ہاتھ روکنے کی کوشش نہیں کی۔