حیدر راجپر

اسلامی جمہوریہ پاکستان میں یہ بات مشہور ہے کہ دو افراد کے درمیان اگر کسی بات پر سخت قسم کے اختلافات ہوجائیں ، اور ان میں سے ایک زیادہ طاقتور ہو تو دوسرے سے انتقام لینے کے لئے توہین مذہب کے الزام کو بہترین ہتھیار سمجھتا ہے ۔ توہین مذہب کا الزام لگانے والا شخص ہجوم اکھٹا کرتا ہے ، پھر ملزم یا تو ہجوم کے ہاتھوں قتل ہوجاتا ہے یا پھر توہین کے مقدمے میں جیل کی سلاخوں میں بند۔

اس ملک میں ایسے سینکڑوں واقعات ہوچکے ہیں لیکن حال ہی میں توہین کے جھوٹے الزام میں قتل اور گرفتاری کے دو واقعات سامنے آئے ہیں ۔ 1 ، سندھ سے تعلق رکھنے والے آرٹسٹ “قطب رند” کا واقعہ ۔ جسے 17 جولائی کو لاہور میں چند دشمنوں نے توہین کے جھوٹے الزام میں قتل کردیا ۔ 2 ، سندھ سے تعلق رکھنے والے ایک غریب ہندو لڑکے “پاراچند کولھی” واقعہ کا، جسے چند ملاّوں نے سوشل میڈیا پر جبری مذہب تبدیلی کے خلاف پوسٹز کرنے کی وجہ سے، توہین کا الزام لگا کر گرفتار کروالیا۔

مسلمان ہونے کی حیثیت سے میرے اس وقت رونگٹے کھڑے ہوجاتے ہیں جب یہ خبر سنتا ہوں کہ “فلاں شخص توہین کے جھوٹے الزام میں قتل / گرفتار ہوگیا” اور اس مذہب کے نام پر جو زمین پر چلنے والے کیڑوں مکڑوں کو بھی مارنے سے روکتا ہے ۔ سب سے بڑی بدقسمتی اس وقت محسوس ہوتی ہے جب پاکستانی علمائے کرام بھی ایسے واقعات کی مذمت کرنے اور روک تھام کی جدوجہد کرنے کے بجائے قاتلوں کا استقبال کرتے دکھائی دیتے ہیں۔

چند سر پھرے لوگ اگر ایسے واقعات کے خلاف آواز اٹھائیں تو ایک دم کسی کونے سے آواز آتی ہے کہ ” تم لوگ مذہب کے دشمن ہو “۔ اب سوال یہ ہے کہ کیا امن والے مذہب کے نام پر معصوم لوگوں کا خون بہانے والے مذہب کے دوست ہیں ؟ کیا توہین مذہب کے جھوٹے الزام میں گرفتاری یا قتل ، مذہب کی توہین نہیں؟‎