نعیم میاں، نیوجرسی

عظیم شخصیات کچھ ایسے کارنامے انجام دیتی ہیں، جن پر چل کر قومیں اپنی تقدیر بدل کر رکھ دیتی ہیں۔ تاریخ ایسی شخصیات، ان کی تعلیمات اور اس تعلیم سے مستفید ہونے کے بعد عروج اور پھر ان تعلیمات کے انحراف کے نتیجے سے زوال کی اتھاہ  گہرائیوں میں گرنے والی قوموں سے بھری پڑی ہے۔

تاریخ، دنیا میں بربریت کی مثال رقم  کرنے والوں سے بھی  عاری نہیں۔  ایسی ایسی مثالیں ہیں کہ انسان کے انسان ہونے سے ایمان اٹھ جاتا ہے۔  ایسی شخصیات اکثر اپنی قوم کو ایک عارضی نسل، حسب ، مزہبی جنونیت اور لسانی برتری کے نشے میں مبتلا کر کے ان  سے انتہائی بہیمانہ اقدامات کرواتی ہیں۔ گویا عمارت ایسی بنیاد پہ رکھی جاتی ہے، جو بظاہراً بہت مضبوط نظر آتی ہے لیکن حقیقت میں  دیمک  زدہ لکڑی سے بدتر ہوتی ہے اور اس کی مثال اس شعلے سے لی جا سکتی ہے جو  بہت شدت سے رستے میں  آنے والی  ہر چیز کو نیست و نابود  کرتے ہوئے ایک  بہت روشن الاؤ کے بعد بہ تدریج شعلے کی شکل اختیار کرتا ہے اور بجھنے سے ایک لمحہ پہلے اپنی چمک  زور سے دکھا کر ہمیشہ کے لئے اندھیروں  کے غار میں غرق ہو کر تاریخ میں ایک باب رقم  کر جاتا ہے۔

برصغیرمیں اسلام تو پھیلا لیکن یہاں کے مسلمان پچھلے سات سو سال سے کوئی علمی یا نظریاتی تحریک بپا کرنے سے قاصر رہے۔ صدیوں سے گھٹی میں پڑی رسومات کو چھوڑنا آسان کام نہیں۔ کہیں ہندو آباو اجداد کی رسومات کو اسلامی رنگ دینے میں  وقت صرف ہوا تو کہیں  ان کی سرے سے نفی نے سر اٹھایا۔ ہندی مسلمانوں  کو اس کشمکش نے اعلیٰ علمی تحریک سے دور رکھا۔ ابھی ہندی مسلمان  اپنا ایک تشخص قائم بھی نہ کر پائے تھے کہ افغانی، خراسانی، ایرانی، ترکی اور عربی اثر و رسوخ نے انہیں ایک اور کشمکش میں گرفتار کر دیا۔ بھلے اردو ہندی مسلمانوں کی زبان ٹہری  لیکن سنسکرت کے کچھ الفاظ کے علاوہ زیادہ تر الفاظ فارسی، دری، ترکی اور عربی کے ٹہرے۔ ابھی ہندی مسلمان اپنی  اس نئی شناخت سے وقف ہی ہو رہا تھا کہ انگریزی سامراج اپنی زبان ، رواج و رسومات کے ساتھ ہندوستان پر  براجمان  ہوا اور کوئی ڈیڑھ سے دو سو برس تک ایک اور ہی ماحول کی تعمیر کرتا رہا اور بیچارا مسلمان ایک مرتبہ پھر اپنی شناخت  کو ایک اور سانچے میں ڈھالنے میں لگ گیا۔ یہ پھر سے ایک تکلیف دہ عمل تھا جہاں کچھ لوگ انگریزی زبان اور تہزیب و تمدن کو اپنا کر جدید مسلمان  بن کر اپنی قوم کے لئے کام کرنا چاہتے تھے تو ایک طبقہ اپنی اردو، فارسی اور عربی  کے تشخص کو قائم رکھنا چاہتا تھا۔ بھلے دونوں کی نیت ٹھیک تھی لیکن بدلتے وقت کے ساتھ اپنے آپ کو بدلنے سے روکنے کے عمل نے دو دھڑوں کو آمنے سامنے کھڑا کر دیا۔ اگرچہ روشن خیال طبقے نے مسلمانوں کے ذہنی ارتقا میں ایک مثبت کردار ادا کیا۔ لیکن رجعت پسند طبقے نے مسلممانوں کو علمی تحریک سے دور رکھا۔

یہ وہ وقت تھا جب علامہ پیدا ہوئے اور خوش قسمتی سے بچپن سے ہی ایسے اساتذہ ملے جن سے دینی اور دنیاوی تعلیم سے مستفید ہوئے اور پھر لاہور سے پڑھنے کے بعد جرمنی اور انگلینڈ سے فلسفے اور قانون کی تعلیم حاصل کی۔جہاں ایک طرف دنیائے اسلام کے عظیم مفکروں کو پڑھا اور سمجھا وہاں مغرب کے اہلِ علم اور فلسفہ کی سوچ کو پرکھ کر اپنی منفرد سوچ  کی بنیاد رکھی اور اس سوچ کا محور انکا فلسفہِ خودی تھا۔ ایسا تصور جو برصغیر کے مسلمانوں کو پہلی مرتبہ اپنی ذات میں  موجود ان قوتوں کو اجاگر کرنے پر زور دیتا ہے جن سے آشنا ہو کر انسان تخلیق کے عمل کی طرف بڑھ کر اس دنیا میں  نئے زمانے اور صبح شام پیدا کرتا ہے۔ اور جب انسان اس خودی پر مکمل طور پر کامل ہو جاتا ہے تو اللہ اسکی تقدیر اسکی مرضی کے مطابق لکھتا ہے۔

زندگانی ہے صدف، قطرہِ نیساں ہے خودی

وہ خودی کیا کہ جو قطرے کو گہر کر نہ سکے

ہو اگر خود نگر و خود گر خود بین خودی

یہ بھی ممکن ہے کہ تو موت سے بھی مر نہ سکے

یہ تھا وہ علمی اور ذہنی انقلاب جس نے مسلمانان ِ ہند کو متاثر کیا اور شاعری ایسی کہ سمجھنے والے پر وجدان کی کیفیت طاری کر دے۔ اور لگے کہ کلام وہ  خود نہیں کِہ رہے بلکہ ان سے کہلوایا جا رہا ہےایسی صلاحیت بے شک خداداد ہوتی ہے۔ اس شاعری نے اگر ایک طرف  علمی انقلاب بپا کیا تو دوسری طرف مسلمانان ِ ہند کو ایک ایسی شناخت سے روشناس کروایا جس نے انہیں ستاروں سے اگلے جہانوں کو تسخیر کرنے کا راستہ دکھایا۔

دنیا کے بدلتے حالات، سنگہٹن جیسی ہندو انتہاپسند جماعتیں  اور انگریزوں کے ہندوستان چھوڑنے کے بعد مسلمانوں کو ایک اور غلامی سے بچانے کے لئے اس مفکر اور فلسفی شاعر نے برصغیر کے مسلمانوں کے لئے خودمختاری کا تصور پیش کیا۔ مسلمانوں کی اکثریت نے اس پر لبیک کہا اور پھر قائد اعظم محمد علی جناح کی کوششوں سے علامہ  کے خواب کی تعبیر ہوئی۔ اور علامہ اس ملک کے قومی شاعر قرار پائے ۔ یہ وہ وقت تھا جب قوم اور اقبال اس علمی تحریک میں ایک جگہ کھڑے تھے۔

شومئِ قسمت کہ بہت جلد ملک کی تقدیر ایسے لوگوں کے ہاتھ میں چلی گئی جس نے اس عظیم فلسفہِ خودی کو بھلا کر دوبارہ انگریزی غلامی کاطوق اپنے گلے میں ڈالا۔ 1947 میں آزادی حاصل کرنے والے اسرائیل اور انقلاب کے راستے پر چلنے والے چین نے ترقی کے دروازوں کو جلد از جلد عبور کرنا شروع کیا لیکن پاکستان نے زوال کا راستہ اختیار کیا اور دن بدن علمی، ذہنی  اور اخلاقی انحطاط کو اپنا شیوہ بنایا۔ اور علمی انحطاط کا یے عالم ہے کہ اچھا بھلا پڑھا لکھا شخص صاف مشاہدے میں آنے والی چیزوں کو دیکھ کر، اپنے ذہن میں محفوظ کرنے کے بعد اس شئے کی بظاہراً حقیقت کو اردو، پنجابی، انگریزی، سندھی اور پشتو میں بیان کرنے سے قاصر ہے۔

کسی بھی ایک زبان پر مکمل عبور نہیں اور آنگریزی کے ساتھ ایک بیہودہ سی آمیزش تیار کر لی ہے اور ستم یہ کہ اب اردو  کو سوشل میڈیا پر نئی نسل رومن حروف میں لکھ رہی ہے۔ انحطاط کا یہ عالم ہے کہ علامہ کے اردو کلام کو نوے فیصد قوم سمجھنے سے قاصر ہے۔ خودی کا تصور تو بہت پہلے بھول گئے اور اب علامہ کا کلام بھی سمجھ سے باہر ہے۔ مجھے یہ کہنے میں کوئی عار نہیں کہ علامہ کو موجودہ نسل اور عصر حاضر کے پاکستان کا قومی شاعر کہنا علامہ اقبال کے ساتھ زیادتی ہوگئی۔

مغربی اقوام علامہ کو تکریم کی نگاہ سے دیکھتی ہیں، ایران و ترکی میں علامہ کو انتہائی عزت سے ایک عظیم مسلمان فلسفی شاعر مانا جاتا ہے۔ امید ہے کہ پاکستانی قوم اس علمی اور ذہنی انحطاط سے نکل کر اپنے آپ کو پھر سے علامہ اقبال کو سمجھنے اور ان کے فلسفہ خودی پر کاربند ہو کر ان سے دوبارہ تعلق قائم کرنے میں قابل ہو گئی۔

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here