علی اقبال سالک

میاں عاطف پیشے کے اعتبار سے ایک اچھے ماہر معاشیات ہیں .جن کا تعلق پاکستان سے ہیں عمران خان کی حکومت آنے کے بعد ملکی بگڑی معاشی صورت حال کے پیش نظر موصوف کو اکانومک ایڈوائسری کونسل میں رکھا گیا جس کے بعد سوشل میڈیا پر قادیانی کافر قادیانی کافر کے نعرے لگنے شروع ہوگئے جس پر وزیر اطلاعات فواد چوہدری ڈیفنس کرنے کی ناکام کوشش کرتے رہے مگر سوشل میڈیا کا پراسرار مخالف ہجوم کا مقابلہ نہ کرسکے اور بالاآخر اس جہاد میں مسلمانوں کی جیت ہوئی اور حکومت قادیانی پروفیسر کو مسلمانوں کی کرپشن کر کے خراب ہونی والی معآشی نظام کو ٹھیک کرنے میں اپنی رائے دینےمین ناکام ہو گئے۔

اس دوران سوشل میڈیا کی جنگ میں دو طرح کے مسلمان گروہ اس جہاد میں اپنا حصہ ڈال رہے تھے ۔ایک سیکولر انتہا پسند جو کہ میاں عاطف کو سپورٹ کر رہاتھا اور کہہ رہا تھا کہ ایک غیر مسلم سے معاشی پالیسی لینا جائیز ہیں دوسرا مذہبی انتہا پسند جو ان کے خلاف جہاد کو اسلام کے بقا کی ضمانت سمجھ کر لڑ رہے تھے وہ کہے رہے تھے قادیانی ختم نبوت کے منکر ہیں ان کو اعلی عہدے سے نوازنا غلط ہیں۔

خیر یوں بالاآخر مذہبی انتہا پسند اس جہاد میں کامیاب ہو گئے اور سیکولر انتہا پسندوں کو شکست ہوئی ہم اس موضوع پر بالکل بھی بات کرنے کو تیار نہیں ۔کہ میاں عاطف کو کمیٹی میں رکھنا چائیے تھا یا نہیں اگر ہم بھی اس بحث میں پڑ گئے تو ہمیں بھی یا سیکولر انتہا پسند یا مذہبی انتہا پسند کی فہرست شامل ہونا پڑے گا جوکہ دونوں ہمارے لئے قابل قبول نہیں ۔مگر اس بڑی جہاد میں دراصل فتح ہمار ے مذہبی راہنماوں کی ہوئی ہیں جنہوں اس معاملے کو اجاگر کرنے میں اپنا کردار ادا کیا ہیں لیکن ان سے چند سوالات پوچھنے کی گستاخی کرو ںگا امید ہیں کفر کا فتوی نہیں لگے گا ۔پہلا سوال یہ ہیں کہ کیا ہمارے مذہبی لیڈز اب مدرسوں سے مسلمان میاں عاطف جیسے ٹاپ کلاس کے ماہر معاشیات کو پیدا کرنے میں کامیاب ہوجائے گے ؟اب یہ اپنے مدارس میں کئی میاں عاطف پیدا کر کے دنیا کو یہ بتایئں گے کہ ہمیں قادیانی میاں عاطف نہیں چائیے ہم نے کئی مسلمان میاں عاطف کو اپنے مدارس میں جنم دیا ہیں۔

کیا یہی ان کی غیرت کا تقاضا نہیں ؟کیا اب ہمارے مذہبی راہنما مدارس کے نظام تعلیم کو اتنا جدید اور اعلی بنا سکیں گے جہاں سے کئی طالب علم مسلمان میاں عاطف بنیں اور کوئی غیر مسلم ملک کے وزیر اعظم ان کو بھی اپنی معاشی پالیسی ٹھیک کرنے کے مشورے کیلئے اپنی کمیٹی میں رکھے اور یہ منکر ہو یہ کہہ کر کہ ہم مسلمان غیر مسلم کو مفید مشورہ نہیں دیتے نہ ہی آپ لوگوں سے مشورہ لیتے ہیں کیا یہی ہمارا غیرت کا تقاضا نہیں۔

کیا ہمارے مولانا حضرات ایک دوسرے کو کافر کافر کا نعرے لگانا چھؤڑ کر اپنی اجتماعی تعلیمی مسائل کو حل کرنے میں ایک دوسرے کی مدد کر یں گے یا مدارس کے اندر فرقہ واریت کی آگ کو مزید جلنے کیلئے ایندھن تیار کر کے قوم کو تفریق کرنے میں پیش پیش رہے گے جو کہ کئی سالوں سے یہ کارنامے سر انجام دیتے آرہے ہیں ۔کیا اب ان کو انداز ہوا ہوگا یہ دنیا سے کتنے پیچھے ہیں جہاں ان کو مسلم ملک کی معاشی پالیسی بہتر بنانے کیلئے قادیونیوں سے مدد لینا پڑ رہا ہیں۔

کیا ہمارے مذہبی راہنما سود کے خلاف بھی جہاد کر ینگئے جس کی اسلام میں کوئی گنجائش موجود نہیں۔ اس سودی ںطام سے چلنے والے بنکوں سے اپنے پیسوں کو نکال کر اسلامی بنکوں کو ترجیح دیں گے کیا اب سودی نظام کے خلاف بھی جہاد کرینگے کیا ہمارے مذہبی راہنما اب غیر مسلم کی بنائی ہوئی ہر ٹیکنالوجی رد کرینگے اور مسلمانوں کی بنائی ہوئی ایجادات کو استعمال کر کے اس دور میں جینے کی کوشش کرینگے کیا اب ہمارے مذہبی راہنما اپنی علاج اور اپنے بچوں کو اعلی تعلیم اور صحت کے معاملات میں کسی غیر مسلم کا مشورہ یا ان کا نصاب نہیںُ پڑھایئں گے کیا یہی ان کے نظریے کی غیرت کا تقاضا نہیں۔

بہر حال ہمارے ان عظیم راہنماوں کو اپنے ان عظیم کرتوتوں پر نظر ڈالنا ہوگا نہیں تو آنے والے وقتوں میں پھر سے ہمیں قادیانی ماہر معاشیات کے پاس اپنے مسائل لے کر جانا ہوگا خیر اس کالم میں اپنی کوئی رائے نہیں دوں گا کیونکہ میں نے سنا ہے ہمارے مذہبی راہنما ہر کام اللہ تعالی کی خوشنودی کیلئے کر تے ہیں اگر اس تمام معاملے میں یہ حق پر ہیں تو اللہ ان کو اجر دے اگر ناحق ہیں تو ان کو نصیحت دیں ۔آمین