عاطف توقیر

ہمارے ہاں ریاستی ادارے، عدلیہ، میڈیا اور تمام تر بیانیے کسی ایک پھونک سے پیدا ہوتے ہیں۔ ایک ہوا سی چلتی ہے اور پوری ریاست اس ہوا میں بہتی نظر آتی ہے۔

پچھلی کم از کم تین دہائیوں سے ہمارے ہاں سب سے زیادہ زور اس بات پر دیا جا رہا ہے کہ ملک کی بربادی کی ذمہ داری ’کرپٹ سیاست دانوں‘ پر عائد ہوتی ہے اور اسی وجہ سے فوج کو سیاست میں مداخلت کرنا پڑتی ہے، کیوں کہ وہ ’نجات دہندہ‘ ادارہ اور ملک کی ’سلامتی کی ضمانت‘ ہے۔ اس بارے میں لیکن درست حقائق جاننے کی ضرورت ہے۔

اس میں کوئی شک نہیں کہ پاکستان میں بدعنوانی کسی وبا کی طرح ملک کی جڑوں پر وار کر رہی ہے۔ ہمارے ہاں حالت یہ ہے کہ گھر میں نوکرانی رکھی جائے، تو اس پر الگ سے نظر رکھنا پڑتی ہے کہ کہیں گھر سے قیمتی سامان یا زیورات نہ چرا لے۔ چوکیدار رکھیں، تو وہ پیسے لے کر ڈاکوؤں سے مل جاتا ہے، ڈرائیور رکھیں، تو وہ پیٹرول کے پیسے چرا لیتا ہے، وکیل لیں، تو وہ مخالف پارٹی سے پیسے پکڑ کر مقدمہ ہرا دیتا ہے، جج رقم پکڑ کر انصاف کا ترازو دوسری جانب جھکا دیتے ہیں اور سیاست دان تو خیر ’تمام کے تمام‘ ہیں ہی کرپٹ۔

اس تمام بیانیے میں سب سے دلچسپ بات یہ ہے کہ ملک میں فوج کے علاوہ تمام عوام، تمام سیاست دان، تمام پولیس، تمام جج، تمام افسر، تمام استاد، تمام ملازم بلکہ پوری کی پوری قوم کرپٹ ہے۔ فوج میں بھرتی ہونے والے شاید کسی دوسرے ملک یا سیارے سے بلائے جاتے ہیں کہ وہ کبھی جھوٹ نہیں بولتے، کبھی کرپشن نہیں کرتے اور ہمیشہ صاف اور شفاف رہتے ہیں۔

ادھر حقائق کو دیکھیں، تو حالات بالکل ہی الگ نظر آتے ہیں۔ ٹرانسپیرنسی انٹرنیشنل کے فہرست کے مطابق پاکستان کرپشن کے اعتبار سے دنیا کے 176 ممالک میں 116ویں نمبر پر ہے۔ اس فہرست میں ایران، لبنان، نیپال، ملاوی اور میکسیکو سمیت درجنوں ہیں، جو پاکستان سے زیادہ بری حالت میں ہیں۔

سوال یہ ہے کہ جب پاکستان اس عالمی فہرست میں اس ابتری کا شکار نہیں تو پھر کون کون سی فہرستوں میں پاکستان کی حالت نہایت دگرگوں ہے اور کیا ہمارے ہاں ان زیادہ خوف ناک مسائل پر بات ہوتی ہے؟

پاکستان کا پاسپورٹ دنیا کا دوسرا سب سے برُا پاسپورٹ ہے، یعنی پاکستان دنیا کے ایسے ممالک میں سے ایک ہے، جس کے شہریوں کو سب سے کم ممالک میں ویزا فری انٹری یا آن ارائیول انٹری سفر کی اجازت ہے۔ آپ نے اس موضوع پر کب کوئی ٹی وی پروگرام دیکھا؟

خراب داخلی سکیورٹی کے اعتبار سے پاکستان دنیا کا چوتھا سب سے پریشان حال ملک ہے۔ مگر آپ نے کبھی اس پر کوئی ٹی وی پروگرام نہیں دیکھا ہو گا۔

صحافتی آزادی کے اعتبار سے پاکستان 139 ویں نمبر پر ہے اور دنیا میں کام کے دوران صحافیوں کے قتل کے اعتبار سے دنیا کے خطرناک ترین ممالک میں آگے آگے ہے۔ تاہم اس پر کبھی ہمارے ہاں بات نہیں ہوتی۔

دنیا میں رہائش کے اعتبار سے خراب ترین ممالک کی فہرست میں پاکستان چھٹے نمبر پر ہے، یعنی شمالی کوریا، صومالیہ، شام، عراق، افغانستان اور عراق کے بعد سب سے زیادہ ابتر ملک۔ تاہم اس پر کبھی کوئی سنجیدہ بحث ہمارے ہاں دکھائی نہیں دے گی۔

پاکستان دنیا کے ان تین آخری ممالک میں شامل ہے، جہاں سے پولیو کی وبا اب تک ختم نہیں کی جا سکی۔ آپ نے اس انتہائی سنجیدہ موضوع پر اب تک کتنے ٹی وی پروگراموں میں سنجیدہ گفت گو ہوتے دیکھی ہے؟

اسکول نہ جانے والے بچوں کی تعداد ہو یا نوزائیدہ بچوں کی ہلاکت، بچوں سے جبری مشقت ہو یا جنسی زیادتی، دنیا بھر کی انسانی معیار زندگی سے متعلق فہرستیں ہمیں بالکل دوسری کہانی سنا رہی ہیں۔

ہمارے ہاں عمومی بیانیہ یہ ہے کہ ملک کی تمام تر برائیوں کی جڑ کرپشن ہے، حالاں کہ غور سے دیکھنے پر معلوم ہو گا کہ کرپشن خود پاکستان میں پھیلی بہت سی دیگر خرابیوں میں سے ایک ہے اور یہ پروڈکٹ نہیں بائی پروڈکٹ ہے۔

تمام ایسے ممالک، جہاں آپ کو کم کرپشن نظر آتی ہے، یہ وہ ممالک ہیں، جہاں جمہوری نظام اور ادارے مضبوط اور فعال ہیں، جہاں قانون کا بول بالا ہے اور جہاں دستور کی حکم رانی ہے۔

ہمارا مسئلہ یہ ہے کہ ہمارے تمام ادارے یا تو مکمل طور پر غیرفعال ہیں یا انتہائی بدحال اور مزے کی بات یہ ہے کہ ان اداروں کی بربادی کرپشن کی وجہ سے نہیں بلکہ ان اداروں میں کرپشن ان اداروں کی کم زوری کی وجہ سے پیدا ہوئی۔ دوسرے لفظوں میں ہمارا بیانیہ یہ ہے کہ ملکی اداروں کی کم زوری، اقتصادی بدحالی اور ریاستی زبوں حالی کی وجہ کرپشن ہے، جب کہ حقیقت حال یہ ہے کہ اداروں کی کم زوری اور ایک دوسرے پر چیک اینڈ بیلنس نظام کے تحت فعالیت کی نگاہ کی عدم موجودگی کرپشن کو جنم دے رہی ہے۔ دوسری جانب ہمارا تعلیمی نظام اچھے اذہان بنانے، معاشرہ زندگی کو اہم، خوب صورت اور معنی خیز بنانے اور ملکی اشرافیہ لوگوں کے کریئر اور خواب محفوظ بنانے کی بجائے دیگر دھندوں میں مصروف ہے اور قوم کو ہر برائی کی وجہ کرپشن بتا کر مزید کرپشن کرنے میں جُتی ہے۔

ابھی کچھ روز ہوئے ایک فوجی دوست نے کچھ تصاویر ارسال کیں، جن میں ایک جنرل صاحب اپنے اہل خانہ کے ہم راہ چھٹیاں منانے ملک کے شمالی علاقوں کی جانب جا رہے ہیں اور اس کے لیے استعمال ہونے والا ہیلی کاپٹر ملکی فوج کا ہے۔ اسی طرح یہاں مسلم لیگ نواز کے ایک کنوینشن میں اس جماعت سے وابستہ حکومتی عہدیدار حکومتی گاڑیاں چلاتے نظر آئے۔ تحریک انصاف کے وزیراعلیٰ پرویز خٹک ایک شادی میں شرکت کے لیے حکومتی ہیلی کاپٹر میں دکھائی دیے، عمران خان عمرے کے لیے فوجی اڈے کاُ استعمال کرتے نظر آئے اور سندھ میں پیپلز پارٹی کا تو خیر کیا ہی بیان۔ تاہم سوال یہ ہے کہ یہ کرپشن ہو کیوں رہی ہے؟ کسی بھی شخص کو کسی بھی دوسرے کے مال پر نگاہ رکھنے یا اپنی اپنی بساط اور بس کے مطابق دوسرے سے مال اینٹھنے کا خیال کیوں پیدا ہوتا ہے؟ جواب سادہ سا ہے اور وہ یہ کہ پچھلے ستر برسوں سے ہم نے قوم تیار نہیں کی۔ ایک قوم جو محفوظ ہو۔ ایک قوم جس کا مستقبل محفوظ ہو۔ ایک قوم جو معیاری تعلیم یافتہ ہو۔ ایک قوم جس کے مفادات پاکستان کے مفادات سے جڑے ہوں۔ حاکموں نے پوری توانائی لگا کر اس قوم کو ’مکمل منافق‘ بنایا ہے۔

اور اس کی مثال یہ ہے کہ پاکستان میں ہر شخص بیک وقت اپنے ملک سے محبت کرتا بھی نظر آتا ہے اور ساتھ ہی اپنے ہی ملک کے دیگر باسیوں کو مالی طور پر ادھیڑتا بھی ملتا ہے۔

کرپشن ختم کرنا ہے، تو ملک کے اداروں کو مضبوط بنانا ہو گا۔ عدلیہ جی ایچ کیو سے ہدایات لے کر فیصلے سنائی گی، جی ایچ کیو واشنگٹن سے حکم نامہ وصول کر کے پالیسیاں بنائے گا، جرنیل سیاست میں مداخلت کر کے پارٹیاں بنانے اور توڑنے میں مصروف ہوں گے اور سیاست دان ان جرنیلوں سے اختیار لے کر انہیں ان کی حد میں واپس بھیجنے کی بجائے گالی کھاؤ مال بناؤ کی پالیسی پر کاربند ہوں گے، تو مجید رکشے والے کا میٹر کبھی ٹھیک کام نہیں کرے گا۔ بات یہ ہے کہ ہمارا مسئلہ کرپشن نہیں، ڈائریکشن یا سمت کا ہے۔ جب تک ہم بہ طور قوم اپنی سمت کا تعین نہیں کرتے، تب تک ہم کرپشن کرپشن کر کے قوم کا وقت ضائع کرتے رہیں گے۔