عاطف توقیر

پشتون تحفظ موومنٹ ایک طویل عرصے کے بعد پاکستان میں کسی قومیت کی جانب سے اپنے دستوری حقوق کے لیے اٹھنے والی ایک زوردار آواز ہے۔ منظور پشتین کی شکل میں ایک عام پشتون کا چہرہ، جسے ریاستی مظالم، دہشت گردی کا موجب بننے والی پالیسیوں، پشتون خطے کی تباہی، ہزار ہا افراد کی بربادی، مکانات کے انہدام، کھیتوں کھلیانوں کا بنجر پن، انسانوں کی معذوریوں اور اس پر ریاست کی مسلسل پرانی روش جاری رکھنے کی پالیسی نے اس خطے کے مظلوموں کو مجبور کیا کہ وہ پرامن طریقے سے دستور کے تحت اپنے حقوق کے لیے اٹھ کھڑے ہوں۔

ابتدا میں اس تحریک نے جس انداز سے ایک سیدھے اور واضح موقف کے ساتھ ایک عام پشتون کے موقف کو پاکستانیوں بلکہ دنیا کے سامنے رکھا اور اس کے مقابلے میں ریاستی اداروں کی جانب سے بوکھلاہٹ میں اس فطری تحریک کو کچلنے کے لیے جس انداز کے اقدامات کیے گئے، اس سے واضح تھا کہ یہ تحریک پشتونوں کی زندگیوں کی تبدیلی اور پشتون خطے میں امن کی جانب ایک نمایاں سنگ میل ہو گی۔

تاہم ابتدا ہی میری نگاہ میں ایک بات واضح تھی، جس کا میں نے اپنے بلاگز، وی لاگز اور لائیو بیٹھکوں میں اظہار بھی کیا اور وہ یہ کہ ہر تحریک ابتدا میں جذبات کے ذریعے عوام کے دلوں میں گھر کر سکتی ہے، تاہم اس تحریک کی توانائیاں قائم و دائم رکھنے کے لیے نہایت ضروری ہے کہ اس کی باقاعدہ تنظیم ہو۔

اس سے قبل بھی بدقسمتی یہی رہی ہے کہ بہت سی تحریکیں اٹھیں مگر بعد میں اس میں موجود رہنماؤں کی توجہ اپنے بنیادی نکتے سے ہٹ گئی اور تحریکیں رفتہ رفتہ دم توڑ گئیں۔

پشتون تحفظ تحریک میں منظور پشتین سب سے زوردار آواز اور مرکزی نوعیت کی شخصیت ضرور ہیں، مگر صرف منظور پشتین پشتون تحفظ تحریک کا پورا نظم اور پوری تنظیم قائم نہیں رکھ سکتے۔ اس کے لیے ضروری ہے کہ وہ اپنی ایک مکمل ٹیم بنائیں اور نیچے تک عوام سے مکمل رابطے میں رہیں۔

حالیہ کچھ عرصے میں ہم نے دیکھا ہے کہ اس تحریک کا بیانیہ بہت حد تک نرم پڑتا نظر آتا ہے۔ ایک تحریک جس کی بنیاد دستوری ہو اور جس کا مقصد واضح ہو، اس کے پاس سمجھوتے کے لیے زیادہ جگہ نہیں ہوتی اور اگر جگہ نکالی جائے، تو تحریک کا مرکزہ متاثر ہو جاتا ہے۔

مثال کے طور پر اس تحریک کے کئی بنیادی رہنماؤں نے انتخاب لڑنے کا فیصلہ کر لیا اور چوں کہ یہ تحریک پہلے ہی اعلان کر چکی تھی کہ یہ پارلیمانی سیاست سے دور رہے گی، اس لیے محسن داوڑ اور علی وزیر جیسے رہنماؤں کو تحریک کے مرکزے سے الگ کرنا پڑا۔

پشتون تحفظ موومنٹ کے رہنماؤں کو باہم بیٹھ کر اس بات پر اتفاق کرنا چاہیے تھا کہ الگ الگ نشستوں پر چند افراد آزاد حیثیت سے انتخابات جیت بھی جائیں، تو بھی وہ پشتونوں کی بابت ریاستی پالیسیاں تبدیل کرانے کے لیے درکار قوت کے اعتبار سے ناکافی ہیں۔
دوسری بات پشتون تحفظ موومنٹ سے الگ ہو کر انتخاب لڑنے کی کوشش کی وجہ سے پشتون تقسیم کا شکار ہوں گے، کیوں کہ بعض افراد ان رہنماؤں کو تحریک ہی کے تناظر میں ووٹ دیں گے اور بعض پارلیمانی سیاست سے دوری کے فیصلے کے تناظر میں انہیں ووٹ دینے سے احتراز برتیں گے۔

تیسری بات کہ اگر یہ رہنما یہ انتخاب ہارتے ہیں، تو بھی اس تحریک کو نقصان پہنچ سکتا ہے کیوں کہ پشتون تحفظ موومنٹ سے الگ ہو کر انتخاب لڑنے کے باوجود ریاستی بیانیہ یہی ہو گا کہ تحریک کے یہ رہنما انتخابات ہار گئے اور اس کا مطلب ہے کہ پشتون تحفظ موومنٹ کی عوامی مقبولیت زیادہ نہیں۔ ریاست یہ بیانیہ بھی اس تحریک کے خلاف استعمال کرے گی۔

اس تحریک کے ساتھ ریاستی حکام کے مذاکرات کا اعلان تو خوش آئند تھا، تاہم میں بار بار کہتا رہا ہوں کہ پشتون تحفظ موومنٹ کسی بھی طرح کے مذاکرات کی جانب بڑھنے سے قبل زمینی حالات سازگار بنانے پر زور دے۔ یعنی جب تک ریاستی ادارے سنجیدگی اور اخلاص سے اس تحریک کے ساتھ مذاکرات کے لیے اقدامات کرتے نظر نہ آئیں اس وقت تک پورے جارحانہ مگر پرامن انداز سے یہ تحریک عوام تک پہنچنے کا سلسلہ جاری رکھے۔

متعدد مقامات پر جلسوں اور عوام تک اپنا بیانیہ پہنچانے کے لیے پشتون تحریک نے بہت تیزی سے جڑیں قائم کیں، تاہم حالیہ کچھ عرصے میں تحریک کی مرکزی قیادت مذاکرات میں الجھا دی گئی اور عوام تک اس کی پہنچ رفتہ رفتہ ڈھیلی پڑتی نظر آئی۔ دوسری جانب ریاستی اداروں کی جانب سے وہی اقدامات دہرائے جاتے رہے، جن اقدامات کی وجہ سے یہ تحریک شروع ہوئی تھی۔
اس تحریک سے وابستہ افراد کے گم شدہ ہونے کا سلسلہ جاری ہے۔ پشتونوں کے ماورائے عدالت واقعات میں کوئی کمی نہیں، وزیرستان کے علاقے میں ایک مرتبہ پھر امن کمیٹیوں کے نعرے کے تحت ’گڈ طالبان‘ کو لانے اور اسلحے کے ساتھ مضبوط بنانے کا سلسلہ جاری ہے، میڈیا اس تحریک کی کووریج کو بہ دستور نظرانداز کیے ہوئے ہے، ریاستی پروپیگنڈا کے ذریعے اس تحریک کے رہنماؤں اور مقاصد کو نشانہ بنانے کا سلسلہ بھی چل رہا ہے اور ایسے میں پشتون تحریک کا عوام تک اپنا بیانیہ پہنچانے کے لیے جلسوں کو روکنا اور احتجاج کا سلسلہ کسی حد تک سست کرنا اس تحریک کے لیے نہایت خوف ناک نتائج کا حامل ہو سکتا ہے۔

کسی قوم سے اس انداز کی کوئی تحریک پیدا ہونا نہایت مشکل ہوتا ہے۔ باچاخان کے بعد پشتونوں کی جانب سے اس انداز کی زوردار اور پرامن عوامی تحریک پہلی بار سامنے آئی ہے اور اگر یہ تحریک اس طرح مدافعانہ انداز میں یا دفاعی حکمت عملی کے ساتھ آگے بڑھانے کی کوشش کی گئی، تو نہ پشتونوں کے مسائل میں کوئی کمی آئے گی اور نہ ہی یہ تحریک اگلی منزل کو بڑھ پائے گی۔

پشتون تحفظ تحریک کے رہنماؤں کو یہ بھی سوچنا چاہیے کہ اس سے قبل بلوچوں کی تحریک کو ریاست نے کس حکمت عملی سے کچلا۔ ان افراد کو امن کی دعوت کے تحت مذاکرات کے لیے پہاڑوں سے نیچے اترنے کا کہا گیا اور پھر ایک ایک کر کے انہیں تاک کر ہلاک کر دیا گیا۔ نتیجہ یہ ہے کہ اب بلوچوں کی حقیقی آواز پہنچانے والے افراد کی تعداد انتہائی قلیل ہو کر رہ گئی ہے اور کوئی آواز سامنے آتی بھی ہے، تو اسے بھی خاموش کرا دیا جاتا ہے، یا کوئی آواز اٹھاتا بھی ہے، تو وہ نہایت کم زور سی معلوم ہوتی ہے۔

حالیہ کچھ عرصے میں پشتون تحفظ موومنٹ کی جانب سے جس انداز کی سست روی اپنائی گئی ہے۔ کم از کم میں اس پر خوش یا مطمئن نہیں ہوں۔ اس تحریک سے وابستہ لوگوں کو ایک بات سمجھنا چاہیے اور وہ یہ کہ آپ اپنے دستوری حقوق، جائز شہری آزادیوں، انسانی اقدار، بنیادی قانونی حقوق اور خطے میں امن کے نعرے کے ساتھ باہر نکلیں ہیں۔ آپ کے تمام تر مطالبات جائز ہیں اور آپ کو کسی دفاعی انداز سے بات چیت کی ضرورت نہیںم بلکہ اپنے موقف پر مضبوط سے جمعے رہنے اور پشتونوں کو امن اور ترقی دلانے کے لیے بھرپور انداز سے بات کرنے کی ضرورت ہے۔ اپنی توجہ مرکوز رکھیے اور اپنے اہداف مذاکرات کے جھانسے میں تبدیل مت کیجیے۔ حیات پریغال کی گم شدگی پشتونوں کے لیے ایک واضح پیغام ہے کہ پشتون خطے کی بابت ریاستی پالیسی میں کوئی تبدیلی نہیں آئی اور نہ ہی ریاستی ادارے حقوق کی آواز سننے میں کسی دلچسپی یا سنجیدگی سے کام لینے کو تیار ہیں۔

اگر یہ ادارے سنجیدہ ہوتے، تو سب سے پہلے ماضی میں روا رکھے جانے والے رویے پر ندامت کا اظہار کرتے، پشتونوں سے معافی طلب کرتے، لوگوں کو گم شدہ کرنے کا سلسلہ روکتے، آپ کے زخموں پر مرہم رکھتے اور ان کے اقدامات یہ واضح کرتے کہ وہ آپ کے ساتھ مخلص ہیں اور آپ کا دکھ سمجھ سکتے ہیں۔

اگر آپ کے احتجاج پر پابندی بدستور قائم ہے، اگر آپ کے خلاف ریاستی رویہ بدستور قائم ہے، اگر آپ کے لوگ بدستور قتل ہو رہے ہیں، اگر فاٹا کے علاقوں میں امن کمیٹیوں کے نام پر مسلح جتھوں کی آمد کا سلسلہ جاری ہے، اگر آپ کے دستوری مطالبات پر اب تک کوئی واضح پیش رفت اس ملک کے حاکموں کی جانب سے سامنے نہیں آئی ہے اور اگر آپ کے خلاف منظم میڈیا مہم بدستور جاری ہے، تو سمجھ لیجیے کہ یہ مذاکرات چاہے دس برس بھی چلتے رہیں، ان مذاکرات کا نہ کسی پشتون کو فائدہ ہے، نہ کسی ماں کا کوئی بے گناہ لاپتا بیٹا واپس آنے والا ہے، نہ ماورائے عدالت قتل ہونے والوں کے اہل خانہ کو کوئی انصاف ملنے والا ہے اور نہ ہی پشتون علاقے میں امن قائم ہونے والا ہے۔