حمزہ سلیم

چیف جسٹس آف پاکستان ثاقب نثار نے ہزارہ کمیونٹی کی نسل کشی کا از خود نوٹس لے لیا ہے ۔۔۔گزشتہ روز کی تمام میڈیائی خبروں میں یہ سب سے اہم خبر تھی ۔چیف جسٹس نے کوئٹہ میں ہزارہ برادری کی نسل کشی کا از خود نوٹس لیتے ہوئے کہنا تھا کہ ہزارہ اس حد تک خوف زدہ ہیں کہ سپریم کورٹ سے بھی رجوع نہیں کر پارہے ۔اس لئے عدالت ازخود نوٹس لینے پر مجبورہوئی ۔اب ہزارہ کمیونٹی کے قتل عام کے حوالے سے پہلی سماعت 11 مئی کو بلوچستان کے شہر کوئٹہ میں ہوگی۔

چیف جسٹس آف پاکستان نے کہا ہے کہ 11 مئی تک بلوچستان پولیس اور تمام سیکیورٹی ادارے ہزارہ قتل عام کے حوالے سے اپنی رپورٹ عدالت میں پیش کردیں ۔چیف جسٹس کا تربت میں پنجاب کے مزدوروں کی ہلاکت پر سماعت کے دوران فرمانا تھا کہ ہزارہ افراد کے قاتل کھلم کھلا گھوم رہے ہیں،اور بیچارے ہزارکمیونٹی کے افراد نہ اسکول جاسکتے ہیں ،نہ بازاروں میں گھوم سکتے ہیں اور نہ ہی اسپتالوں میں علاج کے لئے جاسکتے ہیں ،کیا یہ انسان نہیں ہیں؟کیا یہ پاکستانی نہیں ہیں؟ان کا کہنا تھا کہ دہشت گردی اور انتہا پسندی،اور ٹارگٹ کلنگ کی وجہ سے بلوچستان سے ہزاروں کمیونٹی کے ہزاروں افراد ہجرت کر گئے ہیں ،اور دوسرے ملکوں میں بس گئے ہیں ،اس سے دنیا میں پاکستان کا کیا امیج پیدا ہوا ہوگا ؟کیا کبھی ہم نے سوچا کہ اس وجہ سے دنیا میں ہمارا کیا تاثر پھیل رہا ہے؟

گزشتہ روز چیف آف آرمی اسٹاف جنرل قمر جاوید باجوہ نے ہزارہ عمائدین سے ملاقات کی ،اس کے علاوہ وہ ان خواتین سے بھی ملے جو کوئٹہ پریس کلب کے سامنے بھوک ہڑتال کیمپ میں بیٹھی تھی ۔۔آئی ایس پی آر کے مطابق ہزارہ برادری کو چیف آف آرمی اسٹاف نے یقین دلایا کہ ان پر حملے کرنے والوں کے زمہ داروں کو ان حملوں سے دگنی اذیت سے گزرنا پڑےگا ۔چیف آف آرمی اسٹاف کا کہنا تھا کہ انہیں ہزارہ کمیونٹی کی ٹارگٹ کلنگ پر تشویش ہے۔چیف آف آرمی اسٹاف کا کہنا تھا کہ قومی تعاون سے دہشت گردی کا رخ موڑ دیا گیا ہے ،لیکن اب بھی بہت سے شگاف پر کرنا باقی ہیں۔چیف آف آرمی اسٹاف کے ساتھ ملاقات کرنے والوں میں تادم مرگ بھوک ہڑتال کرنے والی انسانی حقوق کی سرکدہ کارکن جلیلہ حیدر ایڈوکیٹ بھی شامل تھی ،بنیادی طور پر جلیلہ حیدر ان پندرہ خواتین کو لیکر چیف آف آرمی اسٹاف کے پاس ایک وفد کی صورت میں پہنچی تھی ،یہ وہ پندرہ خواتین ہیں جن کے بچوں ،بیٹوں ،خاوندوں اور بھائیوں کا قتل عام کیا گیا ۔جلیلہ حیدر کا ملاقات کے بعد ایک ٹی وی انٹرویو کے دوران کہنا تھا کہ انہیں خوشی اور اطمینان ہے کہ چیف آف آرمی اسٹاف نے ان کی آواز سنی اور تشویش کا اظہار کیا ۔

ان کا کہنا تھا کہ ایک روز پہل انہوں نے پاکستان کے وزیر داخلہ احسن اقبال کے کہنے پر بھوک ہڑتال ختم کی تھی ،ا سکی وجہ یہ ہے کہ وہ ایک جمہوریت پسند انسان ہیں اور ملک میں سویلین برتری کی سب سے بڑی وکیل ہیں ۔جلیلہ حیدر کے مطابق انہوں نے چیف آف آرمی اسٹاف کو بتایا کہ ہزارہ برادری کے مظلوم انسان گزشتہ بیس سالوں سے کوئٹہ میں قتل ہورہے ہیں ،اب تک سرکاری رپورٹ کے مطابق تین ہزار سے زائد افراد کو قتل کیا جاچکا ہے ،دس ہزار سے زائد افراد زخمی ہوئے ،ہزاروں ورثاٗ ہیں جو انصاف کی بھیک مانگ رہے ہیں ،زندگی کے تحفظ کی بھیک مانگ رہے ہیں ،لیکن ان کی کوئی نہیں سنتا۔

جلیلہ حیدر کا کہنا تھا کہ انہوں نے چیف آف آرمی اسٹاف کو واضح بتایا کہ ہزارہ کمیونٹی کے افراد مایوسی کا شکار ہیں ،،جلیلہ حیدر کے مطابق سیکیورٹی اہلکاروں کے روپ میں کچھ ایسے انتہا پسند ہیں جو دہشت گرد تنظیم کے ساتھ ملے ہوئے ہیں ،ان کے تعاون سے ہی ہزارہ نسل کے افراد کو ٹارگٹ کلنگ کا نشانہ بنایا جاتا ہے۔۔جلیلہ حیدر کا کہنا تھا کہ تحفظ دینا ریاست کا کام ہے ،جب ریاست کے اہلکار ہی ہزارہ برداری کے قتل عام میں ملوث ہوں گے ،تو پھر انصاف کی توقع کیسے کی جاسکتی ہے؟ جلیلہ حیدر کا کہنا تھا کہ اس پر چیف آف آرمی اسٹاف نے کہ پاکستان میں چالیس سالوں سے خطرناک زہنیت کو پروان چڑھایا گیا ہے ،اسی کا خمیازہ ہم بھگت رہے ہیں ،اس لئے ہوسکتا ہے کہ وہ افراد جو رجعت پسندی اور انتہا پسندی کا شکار ہوں ،وہ سیکیورٹی اہلکاروں میں بھی موجود ہوں،اس لئے ہم ان کی جڑوں میں بھی جائیں گے اور ان سے حساب لیں گے ۔

جلیلہ حیدر نے میڈیا کو انٹرویو دیتے ہوئے کہا کہ انہوں نے قمر جاوید باجوہ کو یہ بھی بتایا کہ اب تک کوئٹہ سے چالیس ہزار ہزارہ برادری کے افراد دوسرے ملکوں میں نقل مکانی کر گئے ہیں ۔یہ بھی نسل کشی کی ایک شکل تھی ۔جلیلہ حیدر نے آرمی چیف کو یہ بھی بتایا کہ وہ دہشت گرد جو انہیں قتل کرتے ہیں ،سریاب روڈ پر تیل بیچ رہے ہیں ،لیکن انہیں کوئی نہیں پوچھتا۔جلیلہ حیدر کا کہنا تھا کہ اب اگر ہزارہ برادری کا ایک بھی فرد ٹارگٹ کلنگ کا نشانہ بنا تو وہ بلوچستان کے وزیر داخہ اور وفاقی وزیر داخلہ کے خلاف قتل کا مقدمہ درج کرایئں گے ۔جلیلہ حیدر کے مطابق خوف اور ڈر کی وجہ سے ہزاروں برادری کے سینکڑوں افراد نے اپنی کروڑوں کی دکانیں لاکھوں میں بیچ دی ہیں ،اس لئے اس مذہبی انتہاپسندی کے ساتھ ساتھ لینڈ مافیا کے لوگ بھی ملوث ہیں ،جو جائیداد ہتھیانے کے چکر میں ان کے قتل عام میں شریک ہیں ۔جلیلہ حیدر کا کہنا تھا کہ انہوں نے چیف آف آرمی اسٹاف کو بتایا کہ کالعدم لشکر جھنگوی کے ساتھ ساتھ لینڈ مافیا بھی ان کے پیچھے پڑی ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ وہ کوئٹہ کے قدیمی افراد ہیں ،ان کے اباو اجداد کی دہائیوں سے یہاں دکانیں اور جائیدادیں ہیں ،اہم مین مارکیٹ میں بھی تمام بڑی دکانیں ہزارہ برادری کی ہیں ،اس لئے دہشت گرد دکان میں بیٹھے ہزارہ برادری کے افراد کو فائرنگ کرکے قتل کردیتے ہیں تاکہ ہم خوف زدہ ہوں اور اپنی دکانیں سستے داموں میں بیچ دیں ،جلیلہ حیدر کا کہنا تھا کہ انہیں معلوم ہے کہ ہزارہ برادری سعودی ایرانی پراکسی وار کے سبب بھی قتل ہورہی ہے ،ا س پر بھی حکومت کو از سرنو پالیسی ترتیب دینی چاہیئے۔

جلیلہ حیدر کا کہنا تھا کہ انہوں نے چیف آف آرمی اسٹاف سے کہا کہ کوئٹہ میں اتنے ملٹری کورٹس ہیں، لیکن آج تک کسی ایسے دہشت گرد کو ان کورٹس نے سزا نہیں دی جو ہزارہ افراد کے قتل میں ملوث تھا ۔جلیلہ حیدر کا کہنا تھا کہ آرمی چیف نے انہیں یقین دلادیا ہے کہ وہ فی الفور کارروائی کرنے جارہے ہیں۔جلیلہ حیدر کا کہنا تھا کہ ہزارہ کمیونٹی کے نوجوان ناامید ہو چکے ہیں ،ہم نےہر فورم پر انصاف کے لئے بھیک مانگی ،ہر دروازہ کھٹکھٹایا ،مگر انصاف نہ ملا ۔اب آرمی چیف اور چیف جسٹس ان کے لئے آخری امید ہیں ۔اب سوال یہ ہے کہ کیا چیف آف آرمی اسٹاف ہزارہ برادری کے قتل عام کو رکوانے اور شدت پسندوں کو لگام ڈالنے کے لئے کچھ کریں گے ؟کیا ہزارہ افراد کے قاتلوں کو گرفتار کرکے انہیں قرار واقعی سزا مل پائے گی ؟کیا ہزارہ برادری مطمئن ہو پائے گی ؟

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here