افتخارالدین انجم

روز مرہ کی طرح آج بھی نماز فجر پڑھ کر سکستھ روڑ سے خراما خراما ما رننگ واک کی غر ض سے نواز شر ایف پارک کی طرف چل پڑا ،پا رک کے مر کزی دروازے پر اندر جا نے ہی لگا تھا تو اخبا ر ی پر نظر پڑی جو تیزی سے اپنی بائیک دوڑا رہا تھا ۔ تقریبا چیختے ہو ئے آواز دی ارے میا ں کہا ں بھاگے جا رہے ہو ہمیں بھی اخبا رکے درشن کر ادیں ۔وہ اسی رفتار سے واپس دوڑا اور جلد ی جلدی اخبا ر تھما کر چلتا بنا۔

درواز ے سے داخل ہوتے ہو ئے اخبار کی شہ سرخیوں پر سرسری نظر ڈالی سب سے بڑی سرخی یہیں لگی تھی ” یورپ میں مقیم گلگت بلتستا ن کے لوگ انڈیا جا کر را سےدہشت گردی کی ٹریننگ لیتے ہیں، جنرل (ر) امجد شعیب”۔

دل میں خوف اور تعجب کی ایک لہر سی اٹھنے لگی اور سوچوں کے سمندر میں غرقاب اخبار ہا تھ میں لیے پارک میں بنے واکنگ روانڈ پر دورڑنے لگا، راونڈ ٹریک پر ابھی بمشکل دو ہی دوڑیں لگی تھی پاس ہی سے کسی کے پکارنے کی آواز آئی پیچھے مڑکر جو دیکھا تو ،دیکھتا کیا ہوں ایک سفید ریش بابا گندمی رنگت،اونچی ناک چہر ے پر دو چا ر جھر یا ں مانند دھاگے میں پروئے موتی سجائے ہو ئے ،پا س ہی گھا س پر چت لیٹا ہوا ہے۔

میر ی نظر پڑتے ہی سیدھے کھڑےہو گئے اور سامنے گھاس میں پڑی گلگت کی سفید ثقافتی ٹوپی اٹھا کر زیب تن کر نے لگا اور یہ کہتے ہوئے میری طرف بڑھنے لگے، “ارے میا ں اخبار ہا تھ میں اٹھایے کیوں اسکے بوجھ سے خود کو تھکا رہے ہیں؟ ہمیں ہی دیتے ہم دو چار خبریں پڑھتے۔ میں نے بلا تا مل یہ کہتے ہوئے اخبار بابا جی کی طرف بڑھایا کہ میں اسی جگہ ملوں گا ٹھیک پندرہ منٹ بعد، تب تک پڑھ لیجئے گا۔

بابا جی نے برجستہ جواب دیا ارے میں کونسا لاہور جا نے لگاہوں میں یہیں ہوں لے لیجے گا۔ میں پھر واکنگ ٹریک پر آہستہ آہستہ دوڑنے لگا۔ اب تک اخبار کی سرخی میرے دماغ سے محو ہو چکی تھی اچانک میرے ذہن میں بابا جی کی ٹوپی اور اخبار کی سرخی کی مماثلت کا خیا ل آیا کہ ان دونوں چیزوں کا تعلق گلگت بلتستا ن سے ہے کیوں نہ میں بابا جی سے اس بارے میں کچھ معلومات لوں اس خیال کے آتے ہی میں نے اپنی ورزش مختصر کی اور بابا جی کے پا س جا کر بیٹھ گیا ۔ با با جی نے کن اکھیوں سے ایک نظر مجھ پر ڈالا اور پھر محو مطالعہ ہوا۔

مجھے بابا جی کے چہر ے کی طرف دیکھتے ہوئے حیرت سی ہونے لگی ان کے چہرے پر جذبات کا ایک تلاطم تھا جسے وہ سعی لاحاصل سے چھپانے کی بھرپور کوشش کر رہے تھے لیکن دریا کی لہروں کی طرح جذبات کا ایک مدوجزر ان کے چہرے پر عیا ں تھا۔”

کوئی قوم اس سے بڑھ کیا اپنے محب وطن ہونے کا کیا ثبوت دے سکتی ہے جو ستر سال سے ہر محرومی سہنے کے با جود کبھی اپنے حقوق کے لیے ایک پرامن احتجاج تک نہیں کرتی کہ کہیں میر ے ملک میں مسائل پیدا نہ ہوں؟”

وہ میری طرف جواب طلب نظروں سے دیکھنے لگا۔پھر خود ہی گویا ہوئے اور کہنے لگے “میں جانتا ہوں تمہارے پاس اس سوال کا کوئی جواب نہیں ہے”

میں بت بنا ان کی طر ف دیکھنے لگا ۔”غداری کیا ہوتی ہے میری دھرتی کے سپوت سپا ہی مقبول حسین سے ہی پوچھ لیتے جسنے چالیس سال دشمن کی قید با مشقت میں گزارے اپنی زبان تک کٹوائی اور دشمن کو اپنی دھرتی ماں کا کوئی ایک راز تک آشکار ہونے نہیں دیا۔کیا غدار ایسے ہی ہوتے ہیں جناب ایسے تو ہزاروں غداروں کے نا م میں گنواسکتا ہوں” وہ پھر میری طرف جواب طلب نظروں سے دیکھنے لگا۔

میں پہلے ہی بت بنا ہوا تھا با با جی کے مستند دلائیل نے مجھ میں رہی سہی ہمت کو بھی خا ک میں ملادیا ۔با با جی پھر گویا ہو ئے اور کہنے لگے “کہا وت مشہور ہے ” کھسیا نی بلی کھمبا نوچے ” کچھ ایسا ہی جنرل (ر) امجد شعیب نے بھی کیا ہے موصوف دہشت گردی کی کو ئی معقول وجہ بتا نے کے بجا ئے تما م گلگت بلتستان کو ہی بھا رت کا ایجنٹ قرار دے بیٹھے ،جنرل صاحب مجھے یہ بتائیں گزشتہ چودہ سال کی تباہ کن دہشت گردی کے دور میں جس میں تمام پاکستان دہشت گردی کی لپیٹ میں تھا کیا گلگت بلتستان میں دہشت گردی کا کوئی ایک بھی واقعہ رونما ہوا؟

یا پورے پاکستان میں ہونے والے ہزاروں بم دھماکوں میں گلگت بلتستان کا کوئی ایک بھی نوجوان ملوث پایا گیا؟ ویسے اب تو پا کستان میں غدار کہنا ایک ٹرینڈ بن گیا ہے جس کسی کے پا س دلیل نہ ہو وہ اپنے مخالف فریق کو غدار قرار دیتا ہے۔ ایسے عالم میں ،میں گلگت بلتستان کا کیا رونا رووں ہم تومدتوں سے حق گوئی کے مجرم ہیں۔

حضور ہم پہ الزام بڑی دیر بعد آیا ہے۔ہم یکم نومبر 1947 سے ہی غدار پائے گئے ہیں۔ غداری کا سب سے بڑ ا ثبوت ہم نے اس وقت دیا جب ہم نے پاکستان کے ساتھ غیر مشروط الحاق کا اعلان کیا یہ جانتے ہوئے بھی کہ جوخطہ ہم پاکستان سے ملانے جا رہے ہیں یہ جغرافیا ئی لحاظ سے انتہائی اہم خطہ ہے۔

ہمارے ساتھ چائنہ ،انڈیا ،پاکستان اور تاجکستان جیسے ممالک کی براہ راست سرحدیں منسلک ہیں۔ ہم اگر صرف ان ممالک کو آپس میں ملانے کے لیے پل کا کردار ادا کریں اور راستہ دیں تو ہمیں لاکھوں نہیں،

کروڑ وں ڈالر زرمبادلہ حاصل ہوسکتا تھا ،ہم یہ بھی جا نتے تھے کہ ہما را خطہ ایک وسیع و عریض رقبے کا ما لک ہے جسکا کل رقبہ قریب تہتر ہزار مربع کلومیٹر ہے،  جو رقبے کے لحاظ سے بیلجیم (30,528 مربع کلومیٹر )اور سوئٹزر لینڈ( 41,285 مربع کلومیٹر )کے مشترکہ رقبے سے بڑا ملک بن سکتا تھا اور یہ بھی کہ ان دونوں ممالک سے کئی گنا زیادہ خوبصورت اور قدرتی وسا ئل سے مالا مال ہے۔

دیوسائی جو دنیا کا سب سے بہترین دفا عی مقا م ہے اور جسے دنیا کی چھت کہا جا تا ہے جہا ں سے دنیا کی کو ئی بھی فوجی طاقت ساری دنیا کو ما نیٹر کر سکتی ہے وہ بھی ہمارے پاس ہی ہے جسے ہم چا ئنہ یا امریکہ کے کنٹرول میں دے کر کئی ملین ڈالر سا لانہ معاوضہ وصول کر سکتے تھےاور جسکے حصول میں یہ دونوں ممالک اب بھی سرگرداں ہیں، لیکن ہم تو غدار تھے اس لیے ہم نے پاکستان سے الحاق کر لیا ،ہمارے پا س دنیا کی دوسر ی بلند ترین چوٹی کے ٹو ہے اور اس کے علا وہ درجن بھر دنیا کی بلند و با لا چوٹیا ں ہیں جنہیں دیکھنے کے لیے پاکستان کے مخدوش حالا ت کے باوجود سالانہ ہزاروں سیا ح آتے ہیں ،ہما رے پا س تمام ماندہ پاکستان سے زیادہ بڑے اور بہتر ین آبی ذخائر ہیں ،جن میں ابھی تک صرف تین ڈیم بنائے جانے کا فیصلہ ہوا ہے(جو خیر سے پاکستان کی تاریخ کے سب سے بڑے ڈیم ہیں )اورکئی درجن ڈیم مزید بنائے جا سکتے ہیں۔

جی ہاں حضور ہم غدار ہیں تب ہی تو ستر سال سے اس ملک کے نام پر اپنی جا ن قربا ن کر تے چلے آئے ہیں ۔ بابا جی کا دل مایوسی ،اضطراب اور بے یقینی کے باعث بیٹھ رہا تھا۔ ان کی زبان کا دل سا تھ نہیں دے پا رہا تھا بسا اوقات آنکھوں میں نمی بھی عیاں ہو جا تی ۔”

جی ہاں ہم غدار ہیں تب ہی تو پا کستان کے دس نشان حیدر میں سے دو گلگت بلتستان کی بٹالین نادرن لائٹ انفٹری لے چکی ہے ( جو محض بیس لاکھ کی آبادی رکھنے والے خطہ ہے ) اس بٹالین کے غیور سپوت کرنل شیر خان( جسکی بہادری کی داد دشمن نے بھی دی کہ یہ نام کا ہی نہیں واقعی میں بھی شیر تھا جو ہما رے درمیا ن گھس کر ہمیں ما رگیا) اور حوالدار لالک جان (جسے جنگ کی اطلاع ملتے ہیں ہی اپنی چھٹی ختم ہو نے کا انتظار کیے بغیر دشمن کو للکار تا ہو اگلے محا ذ پرجا پہنچا جہا ں حوالدار لالک جان نے صرف ایک ہلکی مشین گن اور چند سپاہیوں کے ذریعے سے منفی تیس ڈگری پر ہر طرح کے جدید جنگی ہتھیار سے لیس کئی ہزار سپاہیوں پر مشتمل ٹڈی دل لشکر کا مردانہ وار مقابلہ کیا ۔

زخموں اور خون میں لت پت ہو نے کے با وجود کئی روز تک دشمن کے نا پاک قدم پاک دھرتی کی طرف بڑھنے سے روکے رکھا اور دشمن کے دانت کٹھے کر کے ہی جا م شہا دت نوش فرمایا ) نے وطن سے محبت اور بہادری کی ایک ایسی داستان رقم کی ہے جس کے صلے میں انہیں پاکستان کے سب سے بڑے فوجی اعزاد نشان حیدر سے نواز چکا ہے ۔جب کہ محب وطن پا کستان (جو 22 کروڑ آبا د ی اور چارصوبوں اور فا ٹا پر مشتمل ہے) کے حصے میں صر ف آٹھ نشا ن حیدر آئے ہیں ، ایسے میں یقینا غدار ی تو ہم پر ہی صادق آتی ہے ۔ بابا جی جذبا ت کی رو میں اس حد تک بہہ چلے مجھے بجائے کسی اور نا م سے مخاطب کرنے کے جنرل صاحب ہی کہہ کر مخاطب کر تے رہے ۔”

جنرل صاحب مجھے یقین ہے کہ دیگر اشوز کے برعکس آپ اس معاملے میں ہر گز لاعلم ثابت نہیں ہو نگے آپکو بخوبی معلوم ہو گا پا کستان کے اگلے مورچوں میں سب سے زیا دہ دشمن کی چوکیا فتح کر نے والی بٹا لین “ناردن لائٹ انفٹری “ہے اور یہیں وہ بٹا لین ہے جسے سب سے پر خطر محاذ پر بیجھا جا تا ہے جہاں پر انتہا ئی غیر موافق موسمی حالا ت اور دشمن کا دباو ہو تا ہے اور یہیں غدار آپ کو وہ محاذ فتح کر کے دیتے ہیں ۔جنرل صا حب کیا آپ یہ بھی بتا نا پسند کرینگے کہ ستر سال میں ان غداروں نے محرومی در محرومی سہنے کے با وجود کتنی علٰحدہ گی کی تحریکیں چلائیں؟

ستر سال سے یہ خطہ محرومی اور اپنے حقوق کے حصول میں سر گرداں ہے اس کے باسیوں کو پا کستان کی سینٹ میں کو ئی نمائندگی حاصل نہیں ،نہ ہی قومی اسمبلی میں کوئی نشت میسر ہے گلگت بلتستا ن کا کوئی شہر ی ملک کا وزیراعٰظم نہیں بن سکتا نہ ہی چیف جسٹس نہ ہی آرمی چیف ،نہ ہی صدرپاکستان ۔ اس سب کچھ کے با وجود یہاں کے با سی اپنا خون جگر پیتے رہے لیکن کبھی پاکستان کے وقار ،سلامتی اور عزت میں حرف آنے نہیں دیا ۔ یہیں گلگت بلتستا ن ہے جس کی وجہ سےآج سی پیک کا خواب شرمندہ تعبیر ہوا ہے اور آج پاکستان کی جغرافیائی اہمیت یکسر بدل چکی ہے پاکستان آدھی سے زیادہ دنیا کے درمیا ن تجارتی پل میں تبدیل ہونے جا رہا ہے آج پاکستان چا ئنہ جیسی عظیم معیشت (جو کئی ٹریلین ڈالرز سے تجاوز کر چکی ) کی درآمد ات و برآمد ات کو راہداری فراہم کر ہا ہے یہ سب صرف اور صرف گلگت بلتستا ن کی وجہ سےممکن ہوا ہے اور ستم ظریفی تو یہ ہے کہ ہما رے محسنوں نے ہم پر اتنا احسان کرنا گوارا نہیں کیا کہ کسی ایک منصوبے میں ہی گلگت بلتستا ن کا بھی نا م ڈال دیتے لیکن کیا مجا ل ہم جیسے غدار وں کی جو ایسے کسی منصوبے کو اپنے نا م کرانے کی آرزو کریں۔

جنرل صاحب ! آپ شاید بھول گئے ہوں لیکن ہمیں وو دن بھی یاد ہیں جب ہماری فوج کے پا س سامان رسد و حرب پہنچانے کے لیے ٹرانسپورٹ اور سڑکیں نہیں ہوا کر تی تھی ہمارے بزرگ کئی کئی دن دن یہ سامان رسد و حرب اپنی پیٹھ پر اٹھا کر کوہ ہما لیہ کے بلندوبالا پہاڑوں پر موجود دفا عی مقاما ت اور اگلے موچوں تک پہنچاتے تھے یقینا آج ان کی روحیں آپ سے سوال کر تی ہیں “کیا ہم سب غدارتھے؟”

یقین مانیں با با جی کے آدھے گھنٹے پر محیط دلائل سننے کے بعد میں ہر چند کوشش کے باوجود بھی یہ بات تسلیم کرنے پر مجبور ہو ا کہ ایسی قوم کبھی غدار نہیں ہوسکتی ،بلاشبہ ہر طبقے میں دو چا ر شر پسند عنا صر موجود ہوتے ہیں جن کی موجوگی کا شاید انکا ربھی نہیں کیا جا سکتا لیکن ان کی بنا پر تمام خطے کی محب وطنی کو کسی صورت شک کی نگا ہ سے نہیں دیکھا جا سکتا ۔