ذوالفقار حسین ایڈوکیٹ

گلگت بلتستان کے قومی سوال کے بارے میں راقم نے دو موضوعات پہلے بھی تحریر کیے ہیں، جن میں اس خطے کے قومی مسئلے کی وجوہات اور اس مسئلے کا ممکنہ حل کی، تاریخی پس منظر میں وضاحت کرنے کی کوشش کی ہے، لیکن اب اس موضوع کے اوپر مزید بحث کرنا کہ یہ خطہ متنازعہ ہے یا نہیں؟ پاکستان کا حصہ ہے یا نہیں؟ ایک غیر ضروری بحث بن چکی ہے، ان سوالوں کےجوابات 70 سالہ، قومی شناخت کے بحران، پسماندگی، غربت جہالت، صحت کی سہولیات کی عدم دستیابی تعلیمی اداروں کا فقدان اور رائج غیر معیاری نصاب تعلیم جو تخلیق کا باعث بننے کی بجائے معاشرے میں رائج جمود کو برقرار رکھنے کا ذریعہ بنتی ہے ، اظہار رائے پر پابندی، الحاق کے ٹوپی ڈرامے، ہماری منفرد غیر آزاد متنازعہ سیاسی حیثیت، قومی اور عوامی حقوق کی جدوجہد کرنے والے سیاسی کارکنان پر انسداد دہشت گردی ایکٹ کا استعمال، کی تاریک تاریخ کی صورت ہمارے سامنے ہے۔

اس خطے کی مظلوم اور محکوم عوام کی 70سالہ پر آشوب تاریخ اس بات کا ثبوت ہے کہ اس خطے کو اپنا اٹوٹ انگ اور اپنے سر کا تاج کہنے والے ’’انوکھے مسیحا‘‘ اس خطے کے قومی مسلے کو حل کرنے کی بجائے وہ اس خطے کو اسی طرح متنازعہ اورپسماندہ رکھ کر یہاں کے وسائل کو لوٹنا چاہتے ہیں۔

آج ضرورت اس امر کی ہے کہ ہمیں مذکورہ بالا سوالات کی بھول بھلیوں سے آگے بڑھ کر قومی شناخت کی بنیاد پر مسئلہ کشمیر کے حل کی۔

اس خطے کی پسماندگی کو ختم کرنے کی عملی جدوجہد میں حائل انسداد دہشت گردی ایکٹ اور رائج عوام دشمن پالیسیاں، کی حقیقت اور مقاصد پر بھی توجہ دیں۔

اس تحریر کا مقصد ان قوانین اور پالیسیوں کے تناظر میں ریاستی کردار کو سمجھانا ہے۔ ریاست ہمیشہ سے ایک مخصوص طبقے کے مفادات کا تحفظ کرتی ہے، جس طبقے کا معیشت پر کنٹرول ہوتا ہے اور اسی معاشی طاقت کی بنیاد پر سیاسی طاقت بھی اس طبقے کے پاس ہوتی ہے، جس کی بنیاد پر یہ مخصوص اقلیتی طبقہ اپنے مفادات کو نہ صرف قانونی تحفظ دیتا ہے بلکہ ایسے قوانین بھی بناتا ہے جن کے ذریعے یہ طبقہ اپنی قائم کی ہوئی سیاسی و معاشی آمریت کے خلاف عوامی جدوجہد کو بھی دبایا جا سکے۔

انسداد دہشت گردی ایکٹ اور نیشنل ایکشن پلان ان قوانین کی مثال ہیں۔ انسداد دہشت گردی ایکٹ 1997 میں بنایا گیا تھا، جس کا مقصد پاکستان میں دہشت گردی کا روک تھام تھا۔ اس قانون کا اطلاق، ان افراد اور تنظیموں پر ہوتا ہے، جو دہشت گردی اور مسلکی ومذہبی منافرت پھیلاتےہیں یا پھر دہشت گردی اور مذہبی و مسلکی منافرت پھیلانے کا ذریعہ بنتے ہیں۔ یہ قانون دہشت گردی کا سدباب کرنے میں کامیاب ہوا یا نہیں، اس کا اندازہ اول تو اس بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ پاکستان کو G7 گروپ کی بنائی گئی عالمی تنظیم مالیاتی ایکشن ٹاسک فورسFATF نے جون 2018 میں GREY LIST میں شامل کر دیا ہے۔

اس لسٹ میں ان ممالک کو شامل کیا جاتا ہے، جو دہشت گردوں کی پشت پناہی اور ان دہشت گردوں کو مالی امداد بھی مہیا کرتی ہیں۔ دوئم اس بات سے بھی کہ پاکستان میں بہت سے دہشت گرد اور دہشت گرد تنظیموں نے الیکشن 2018 میں حصہ بھی لیا۔ البتہ اسی ایکٹ کا ترقی پسند سیاسی کارکنان پر، انسانی حقوق کی پامالی کے خلاف آواز اٹھانے والوں پر بے دریغ استعمال کیا گیا، جن میں سے چند واقعات کی نشاندہی انسانی حقوق کی عالمی تنظیم نے اپنی جاری کردہ رپورٹ سال 2018-2017 میں بھی کی ہے۔

انسداد دہشت گردی ایکٹ گلگت بلتستان میں بھی نافذوالعمل ہے۔ متنازعہ خطہ ہونے کی وجہ سے یہاں پر انسداد دہشت گردی ایکٹ کی قانونی حیثیت پر سوالیہ نشان ہے۔ البتہ اس خطے میں ابھرتی ہوئی قومی تحریکوں کو دبانے کے لیے ایسے قوانین کے استعمال میں خوفناک حد تک اضافہ ہوا ہے، جن کے نفاذ میں ’’ووٹ کو عزت دو‘‘ جیسے کھوکلے نعرے لگانے والی نام نہاد جمہوریت پسند جماعت کی ہی حکومت برابر کی شریک ہے۔

اس کی واضح مثال گزشتہ ماہ انسداد دہشت گردی ایکٹ کے تحت طلبہ، وکلاء اور اساتذہ سمیت بہت سے سیاسی کارکنوں کو اس لیے شیڈول 4 میں شامل کیا گیا کہ وہ صحت کے نظام کی درستی، پانی، بجلی، سڑکوں کی تعمیر، عوامی زمینوں کی بندر بانٹ اور قومی سوال جیسے ایشوز پر آواز اٹھاتے تھے۔ یاد رہے کہ شیڈول 4 انسداد دہشت گردی ایکٹ کے تحت ایک شیڈول ہے، جس میں شامل کردہ افراد کی تمام سرگرمیوں پر نظر رکھی جاتی ہے۔ ان کے شناختی کارڈ سمیت بنک اکاونٹس تک بلاک کر دیے جاتے ہیں۔ ان کی سیاسی اور سماجی زندگی کو مفلوج کر دیا جاتا ہے۔ الغرض ریاست عوامی حقوق کے لیے جدوجہد کرنے والے ان سیاسی کارکنوں کو اپنے ہی سماج میں اچھوت بنا دیتی ہے۔

تا کہ کوئی بھی آوز نہ اٹھا سکے اور جو کوئی ان تمام پابندیوں کے بعد بھی قومی اور عوامی حقوق لیے آواز اٹھائے تو ان پر اسی دہشت گردی ایکٹ جیسے کالے قوانین کے تحت جعلی اورخود ساختہ مقدمات بنائے جاتے ہیں تاکہ وہ قومی حقوق اور عوام کےمسائل پر آواز اٹھانےسے دستبردار ہو جائیں اور ریاست کی طرف سے روا رکھے گئے ظلم، جبر اور نا انصافی پر خاموش تماشائی بنے رہیں۔
اس صورت حال میں پھر سے ریاست پر آس لگائے رکھنا کے یہ ریاست مسائل کو حل کرے گی اور عوام کی محرومیوں کی داد رسی کرے گی سادہ لوحی کےسوا کچھ نہیں۔

اس خطے کے مستقبل کا فیصلہ یہاں کی عوام نے سیاسی جدوجہد کے ذریعے ہی کرنا ہے، جس کے لیے ضروری ہےکہ ہم ان عظیم سیاسی کارکنوں کی صفوں میں خود کو شامل کریں، جن کو قومی اور عوامی حقوق کی آواز بلند کرنے کے جرم میں انسداد دہشت گردی ایکٹ کے تحت یا تو پابند سلاسل کیا گیا یا پھر اسی دہشت گردی ایکٹ کے تحت شیڈول 4 میں شامل کر کہ ان کے بنیادی انسانی حقوق تک سلب کر لیے گئے۔ ہمیں ان سیاسی کارکنوں کے ساتھ مل کر نئے عزم، تنظیمی ڈسپلن اور عوامی طاقت سے اس خطے کی تعمیر و ترقی اورقومی مسئلے کے حل کی جدوجہد میں مصروف عمل کی ضرورت ہے اور اس جدوجہد کے ذریعے ان تمام قوانیں کی بھی مخالفت کریں جن کے ذریعے عوامی نمائندوں کی آواز کو دبایا جاتا ہے۔

تاریخ اس بات کی شاہد ہے کے اس طرح کے غیر جمہوری اور غیر انسانی قوانین کے ذریعے زیادہ دیر تک عوامی مزاحمت کو دبایا نہیں جا سکتا ہے۔ وہ وقت دور نہیں کہ جب یہ عوام اس ریاست سے اپنے اوپر ہونے والے ایک ایک جرم کاحساب لے گی۔