عاطف توقیر

پاکستان بھر میں کسی بھی شخص سے پوچھ لیجیے، ہر ہر امر پر اختلاف کے باوجود جو چند ایک متفقہ امور ہیں، ان میں سے ایک گلگت بلتستان کی سرزمین کا جنت نما ہونا ہے۔ اس علاقے کے بلند و بالا پہاڑ، آسمانوں کو چھوتے برف پوش گلیشئیرز، چین تک جاتی ریشمی شاہراہیں، سرسبزوشاداب وادیاں، آئینے کی طرح آسمان کا عکس دکھاتی نیلگوں جھیلیں، زندگی کی طرح بہتے جھرنے، اور شادابیاں بانٹتی ندیاں۔ یہ تمام وہ جملے ہیں جو ہم گلگت بلتستان کے خطے پر بات کرتے عموماً سنتے ہیں۔ مگر ان مناظر کی تعریفوں کے پل باندھتے اور اس تمام تر جغرافیائی حسن کا ذکر کرتے اس علاقے کی ان تمام تر خوبصورتیوں سے کہیں بڑھ کر حسین شے کا ذکر ہم کبھی نہیں کرتے، وہ ہے اس علاقے کے لوگ۔

اس علاقے کا ذکر ہوتے کم از کم میں نے اس علاقے کے لوگوں، ان لاکھوں انسانوں کی بابت کبھی کوئی بات نہیں سنی، جو اس علاقے کو حسین تر اور زندہ بناتے ہیں۔ لگتا یہی ہے کہ یہ صرف علاقہ ہے یا ہمیں صرف یہ علاقہ پسند ہے اور یہاں بسنے والے افراد سے ہمارا کوئی لینا دینا نہیں۔ اس کی ایک مثال میڈیا بھی ہے۔ آپ خود سے پوچھیے کہ اب تک آپ نے گلگت بلتستان کی زمین اور خوبصورتی کی تصاویر یا ویڈیوز یا رپورٹیں کتنی بار دیکھی ہیں اور وہاں کے لوگوں، ان کی زندگی، ثقافت، زبانوں اور مسائل سے متعلق کتنی؟

اس معاملے پر بہت سے پاکستانی شہریوں کو معلومات تک ہی رسائی نہیں یا وہ بھی فقط اس علاقے کو میڈیا پر نشر کی جانے والی خوبصورت تصویروں سے زیادہ کچھ نہیں سمجھتے۔ جس طرح کشمیر پاکستان اور بھارت کے درمیان فقط زمین کا سا تنازعہ معلوم ہوتا ہے اور اس خطے کی قسمت سے متعلق مذاکرات میں اس خطے کے لوگوں ہی کے نمائندوں کو شامل نہیں کیا جاتا اسی طرح گلگت بلتستان کی حقیقت بھی مختلف نہیں۔

اس حوالے سے کچھ قانونی مسائل ہیں اور کچھ ہمارے اپنے گھڑے ہوئے۔ فاٹا میں گورے کے بنائے ہوئے ایف سی آر کے خاتمے میں اگر ہمیں ستر برس لگ گئے تو گلگت بلتستان کے علاقے میں اس سے بھی زیادہ بدترین “ایف سی آر طرز” کے قانون کے خاتمے میں شاید کئی صدیاں لگ جائیں اور اس پر مزید تباہ کن صورت حال یہ ہے کہ میڈیا پر اس خطے کے لوگوں کے مسائل کی رپورٹ تک نہیں چل سکتی اور بین الاقوامی میڈیا یا صحافیوں کو اس علاقے تک رسائی ہی سے باز رکھا جاتا ہے۔

گلگت بلتستان کا بنیادی مسئلہ یہ ہے کہ یہ خطہ کشمیر کے تنازعے سی نتھی ہے اور پاکستانی دستور اس خطے کو کشمیر کے تنازعے کے حل تک اپنا حصہ یا صوبہ بنانے یا اس کے شہریوں کو پاکستانی شہریت دینے کی ممانعت کرتا ہے۔ اس تناظر میں اس خطے کے لوگوں کو زیادہ سے زیادہ بااختیار بنانے اور ان کی علاقائی خودمختاری اور وسائل کے استعمال کے حق اور اس سے بھی بڑھ کے یہاں کے لوگوں کی شہری آزادی کو مثالیہ بنا کر یہاں ہر ایک دل میں پاکستان اور پاکستانی قوم کے ساتھ محبت پیدا کرنے کی ضرورت تھی۔تاکہ دنیا کو دکھایا جا سکتا کہ بھارت کے زیر قبضہ کشمیر کاُ کیاُ حال ہے اور ہمارے زیرانتظام کشمیر اور گلگت بلتستان کا علاقہ کتنا بہتر ہے۔

گلگت بلتستان میں کچھ عرصہ قبل ٹیکسوں کے نفاذ پر ہزارہا افراد نے احتجاج کیا۔ میڈیا حقوق کی کسی بھی تحریک کو جس طرح بلیک آؤٹ کرتا ہے، اسی بے شرمی سے اس پورے احتجاج کا بلیک آؤٹ کرتا رہا اور گلگت بلتستان کے لوگ خدا کے واسطے دیتے ہوئے پاکستانیوں کو پکارتے رہے، ہم بالکل اسی طرح خاموش رہے جیسے ہم بنگال کے لیے خاموش تھے، جیسے ہم بلوچستان کے لئے چپ تھے، جیسے ہم سرائیکیوں کے لیے نہیں بولتے، جیسے ہم مہاجروں اور سندھیوں کے تئیں چپ سادھ لیتے ہیں یا جیسے ہمیں ملک کے کسی بھی دوسرے حصے کے لوگوں بہ شمول پنجاب مظالم، حقوق، قانون یا ریاست کی ذمہ داریوں پر آواز اٹھانے والے غدار نظر آتے ہیں۔

ابھی چند روز پہلے گلگت بلتستان کے حوالے سے جو نیا ضابطہ جاری کیا گیا، اس کو دیکھیں تو معلوم ہو گا کہ ہم نے برطانوی طرز کا ایک ایف سی آر اس خطے کے لوگوں پر مسلط کر دیا ہے۔ اس کی شقیں ہر پاکستانی کو پڑھنا چاہیے اور خود سے پوچھنا چاہیے کہ کیا یہ غلامی کی بدترین قسم نہیں۔

ان میں سے چند شقیں پڑھ کر شاید آپ کو ایسٹ انڈیا کمپنی یاد آ جائے۔ آپ خود بتائیے اگر آپ کو بتایا جائے کہ آپ کے علاقے پر مطلق العنان قسم کی حکومت اس کی ہو گی، جسے چننے کا اختیار آپ کو نہیں ہے۔ یا آپ کے علاقے میں کسی بھی سرکاری نوکری پر کوئی پاکستانی شہری فائز ہو سکتا ہے مگر آپ پاکستان کے کسی سرکاری منصب پر فائز نہیں ہو سکتے، یا آپ کے علاقے کی بابت کسی بھی فیصلے کا اختیار پاکستانی حکومت کو ہو گا، جسے آپ کہیں چیلنج نہیں کر سکتے۔ اس پر مزید برآمد ایک شق تو یہ تک کہتی ہے کہ ریاست کے خلاف بات “غداری” تصور کی جائے گی، جب کہ یہ واضح نہیں کہ ریاست کے “خلاف” سے کیا مراد ہے یا کون سی بات ہے جسے “ریاست” اپنے خلاف سمجھ سکتی ہے؟ یعنی دوسرا مطلب یہ ہے کہ حقوق سمیت کسی بھی طرح کی آواز “ریاست سے غداری” سمجھی جائے گی یا یوں سمجھیے کہ لوگ ہونٹ سی لیں، کیوں کہ جو بولا وہ وہ گیا۔

بھارت میں کشمیریوں کے خلاف ریاستی طاقت کا استعمال اور وہاں کے لوگوں کے بنیادی حقوق کی مسماری پر دنیا کے ہر انسان کو بولنا چاہیے اور ہر حال میں انسانی وقار کے لیے ان کشمیری بھائیوں اور بہنوں کے ساتھ کھڑا ہونا چاہیے مگر سوال یہ ہے کہ کیا یہی اصول لائن آف کنٹرول کے اس طرف لاگو نہیں کیا جائے گا؟ کیا ہم بھارتی فورسز کی طرز کے مظالم اپنی سکیورٹی فورسز کے ہاتھوں اپنے ہاں کے کشمیریوں اور گلگت بلتستان کے باسیوں پر ہونے دیں؟

اپنے جائز حقوق اور زندگی کے حق کے لئے کچھ عرصہ قبل پاکستانی زیرانتظام کشمیر میں احتجاج ہوا، تو ان مظاہرین کے ساتھ جو کچھ ہماری فورسز نے کیا، وہ ہماری سامنے ہے۔ گلگت بلتستان کی حالت اس سے بھی زیادہ دگرگوں ہے۔ اس علاقے کو دستور میں ایک “خصوصی” حیثیت دے کر اس پر کشمیر سے زیادہ تباہ کن اقدامات کو جائز بنایا گیا ہے۔

گلگت بلتستان جنت ضرور ہے، مگر ایک ایسی جنت، جس کے باسی جہنم کے خواہش مند ہیں یا شاید جس سے کوئی جہنم بہتر ہو۔

اس نئے آرڈر پر ہزاروں افراد احتجاج کر رہے ہیں، مگر مجال ہے کہ ان کی بات کسی میڈیا پر سنائی دے یا ریاست ان افراد کے ساتھ بیٹھ کر ان سے ان کے مطالبات سنے اور ان کے شکوے دور کرے۔ اس کے بدلے میں ایک مرتبہ پھر وہی گھسے پڑے نعرے اور جملے سننے کو مل رہے ہیں کہ احتجاج کرنے والے تمام افراد غدار اور غیر ملکی ایجنٹ ہیں۔ بالکل ویسے ہی جسے سندھی، مہاجر، پشتون، بلوچ، سرائیکی، کشمیری بلکہ پنجابی بھی۔

ایک لمحے کو سوچیے گا کہ آپ اس وقت کس کرب میں ہوتے اگر آپ ٹی وی پر دکھائی جانے والی جنت کے بیٹے ہوتے۔