عابد حسین

مجہے یاد پڑتا ہے کہ جب میں عالمی جنگوں کے بارے ایک کتاب میں پڑھ رہا تھا تو معلوم ہوا کہ جب دنیا دو بڑے عالمی بلاکس میں تقسیم ہوچکی تھی اور ہر طرف بارود، دھواں اور خون تھا انسانی لاشے کہ جن میں عورتیں بچے بزرگ تمام شامل تہے قہرِ انسانی کا شکار ہورہے تہے جنگ اور دشمنی اپنے عروج پر تھی ہر ملک اپنے مخالف حریف کی شکست کے درپے تھا اور زیادہ سے زیادہ جانی و مالی نقصان پہنچانے کا ہر حربہ استعمال کر رہا تھا اور ماحول اور ذہنی فضا یہ تھی کہ جس میں دشمن کیساتھ ہر قسمی. ناروا گھٹیا سلوک،ظلم اور غیر انسانی برتاؤ کرنا جائز ہوچکا تھا۔

تب ایسی صورتحال میں ان عالمی جنگی مخالف ملکوں میں ایک بظاہراً ناقابلِ عمل معاہدہ طے پایا جو تاریخ میں بڑی اہمیت کا حامل ہے یہ معاہدہ تعلیمی اداروں کے متعلق تھا جس میں یہ طے پایا کہ جنگ کے دوران کوئی بھی جنگی فریق اپنے مخالف جنگی فریق کے تعلیمی اداروں جن میں چھوٹی بڑی یونیورسٹیز شامل تہیں ان پر کسی قسم کا کوئی حملہ نہیں کرےگا اور اگر فریق جنگ ہار بھی جائے تو ان تعلیمی اداروں میں باشندوں کو بلا مشروط تحفظ حاصل ہوگا۔

جہاں تاریخ میں یہ جنگیں انتہائی خوفناک ثابت ہوئیں وہیں یہ بات بھی قابلِ ذکر ہے کہ ان خوف ناک جنگوں میں فریقین نے ایک معاہدے پہ پورا پورا عمل کیا اور وہ تھا تعلیمی اداروں کو نشانہ نہ بنانے کا۔ یعنی جہاں پورے کے پورے ملک تباہ ہوگئے، وہاں لیکن تعلیمی ادارے ویسے کے ویسے محفوظ رہے، جو اس بات کی طرف توجہ دلاتے ہیں کہ اہلِ مغرب تعلیم اور تعلیمی اداروں کو کتنی اہمیت دیتے ہیں اور کتنا اہم سمجھتے ہیں۔

ہیومن رائٹس کمیشن آف پاکستان کی رپورٹ کے مطابق دہشت گردی میں 40 فیصد کمی آئی ہے۔ لیکن پھر بھی دیکھیں تو اموات بہت زیادہ ہیں اور دہشت گردی کا خوف ہر ذہن پر سوار ہے۔ کسی سیاسی جماعت کا جلسہ ہو۔کوئی فوجی پریڈ ہو کوئی مذہبی اجتماع ہو یا کوئی پرامن احتجاج غرض کسی بھی حالت میں عوام خود کو غیر محفوظ سمجھتے ہیں اور نوبت بڑھتی ہوئی یہاں آن پہنچی ہے کہ اب ہمارے تعلیمی ادارے ان دہشت گردوں سے محفوظ نہیں رہے اسکولوں میں مسلح افراد کا رکھنا، خاردار تاروں کا لگانا اور بعض اوقات بچوں تک کی تلاشی لینا اب ضروری ہوچکا ہے کہ پتہ نہیں کب کوئی ٹوٹی کمر والا دہشت گرد میرے معصوم بچوں کی ہنسی چھنینے ان کے مکتب پہنچ جائے یا رات کے اندھیرے میں ان کے مکتب کو جلا کے ان کے ذہن پہ ایک خونی خوف مسلط کرجائے اور ان بچوں سے ان کے بچپن کی رنگینیاں چھین کر لے جائے کیونکہ انسان کا بچپنا ہی وہ خوبصورت زمانہ ہوتا ہے، جب وہ پریشانیوں سے پاک ہوتا ہے اس کے ذہن کو جستجو کی جانب مائل کیا جاتا ہے مگر یہاں یہ سب کیا ہے۔

اگر ہم بصیرت سے دیکھیں تو کل شب گلگت بلتستان میں تیرہ سکول نہیں جلے بلکہ آپ کے اور ہمارے بچوں کی معصوم مسکراہٹ اور خوشیاں جلائی گئی ہیں ان کی علم اور کتابوں سے محبت پہ شب خون مارا گیا ہے۔

جب میں مغرب اور مشرق میں زمین آسمان کا فرق پاتا ہوں تو مجھے یہی فرق نظر آتا ہے کہ ہم اپنے بچوں کی درسگاہیں جلاتے ہیں اور جلائے جانے کو ایک معمولی عمل سمجھتے ہیں جبکہ وہ ان کو بچانے کیلئے دشمنوں سے معاہدے کرتے ہیں۔