ذوالفقار حسین ایڈووکیٹ

جی بی آرڈر 2018 کے کے نفاز کے خلاف گلگت بلتستان کی محکو عوام خصوصا نوجوانوں نے نہ صرف غم و غصے کا اظہار کیابلکہ کراچی سےلے کرخنجبراب تک پرس کانفرنسوں، دھرنوں، جلسوں اور احتجاجوں میں شامل ہو کر نئے حکم نامے کی شدید مخالفت کی اور اس حکم نامے کو مسترد کیا ساتھ ساتھ اس خطے کی متنازعہ حیثیت کو قومی بنیادوں پر حل کرنے کی بھی ڈیمانڈ کی،اس عوامی تحریک میں جہان عوام اس نئے آرڈر کی شدید مخالفت کر رہے ہیں وہیں اس تحریک کی قیادت عوام کو گلگت بلتستان کی متنازعہ حیثیت کے مستقل حل کی بابت کوئ واضح موقف دینے سے نہ صرف قاصر ہیں بلکہ وہی کنفیوز موقف دہرا رہے ہیں، جو قومی سوال کو مزید الجھانے اور عوام میں بے چینی پھیلانے کا بھی سبب بنتے ہیں جس کے وجہ سے تحریک میں ایسے رجحانات پروان چرھتے ہیں جو تحریک کو قومی اور طبقاتی بنیاد پر آگے بڑھانے کی بجائے مسلکی،قبیلائی،علاقائی لسانی ارو نسلی بنیاد پر منقسم کر کے محدود کرنے کا ذریعہ بنتے ہیں جن کی جھلک حالیہ جاری تحریک میں واضح طور پر نظر آتی ہے گو کے ایسے رجحانات کا تحریک میں موجود ہونا فطری بات ہے اس کی وجہ ایک تو اس خطے میں انڈسٹرییل انفراسٹرکچر کا نہ ہونا دوئم مسلکی انتہا پسندی کی آبیاری اور سر پرستی ہے جس نے اس پرامن خطے کو میدان جنگ میں بدل دیا۔

ہزاروں بے گناہ افراد اس بھیانک کھیل کا حصہ بنے،عوام اپنے گھروں اور محلوں میں محصور ہو کر نفرت،جبر،خوف،جہالت،غربت اور پسماندگ کی نظرہو گئے،اس گھٹن زدہ سماج میں جہان عوامی محرومیوں کو برقرار رکھ کر مفادات کی سیاست کرنے والا طبقہ موجود ہے وہیں ایک ترقی پسند طبقہ بھی موجود تھا جو سماج کو مسلکی انتہا پسندی اور پسماندگی سے نکال ایک بہترین سماج تخلیق کرنے کے لیئے عملی طور پر جدوجہد بھی کر رہا تھا گندم سبسڈی تحریک بھی اسی جدوجہد کی کڑی تھی جس نے اس خطے کی عوام کو تمام تر تعصبات سے نکال کر اپنے غصب شدہ حقوق کے لئے مشترکہ جدوجہد کرنے کا درس دیا،مگر بد قسمتی سے حالیہ تحریک میں پھر سے مسلکی،نسلی اورعلاقائی تعصبات کو ہوا دینے کی کوشش کی جارہی ہے جس کا مقصد اس تحریک کو اول تو مذہبی بنیاد پر تقسیم کر کہ اس کی شدت کو کم کرنا دوئم نسلی اور علاقائی بنیاد پر تقسیم کر کے گلگت بلتستان کی قومی تحریک کو کشمیر اور پاکستان میں چلنے والی مظلوم قومیتوں کی تحریکوں سے جڑنے نہ دیا جائے اور اس تحریک کو اسی خطے تک محدود کر کے اسے دبایا جا سکے،

قومی تحریک کو منفی رجحانات سے پاک کرک کشمیر و پاکستان کی مظلوم قومیتوں کی تحریکوں سے جوڑنے کر ہی عالمگیر انقلاب برپا کیا جا سکتا ہے جس کے لیے گلگت بلتستان کے قومی سوال پر درست،واضح اور جاندار موقف اپنانے کی اشد ضرورت ہے لیکن بدقسمتی سے حالیہ جاری تحریک کے قائدین قومی سوال پر بہت کنفیوزن کا شکار ہیں جس کا ثبوت تحریک میں واضح رجحان کی بجائے مختلف متضاد رجحانات کا ہونا ہے جن کی تاریخی بنیادوں پر تنقیدی تجزیہ کرنے کی ضرورت ہے تا کہ قومی سوال کے متعلق ابہامات کو دور کیا جا سکے۔

ان مختلف رجحنات میں سے ایک رجحان “آئنی صوبہ” بنانے کا ہے جس کی گزشتہ 70 سالوں رٹ لگائ جا رہی ہے،اس رجحان کی تائد میں ایک ہی دلیل پیش کی جاتی ہے کہ یکم نومبر 1947 کو یہان کی عوام نے ڈوگروں کو شکست دے کر آزادی حاصل کی تھی اوربعد میں پاکستان کے ساتھ غیر مشروط الحاق کیا تھا،اس دلیل کو اگر مان بھی لیا جائے( باوجود اس کے کہ یہ الحاق کی بے بنیاد اور جھوٹی کہانی ہے) تو کیا پاکستان نے یہان کے عوام کی غیر مشروت الحاق ک تسلیم کر کے اس خطے کو اپنا آئنی صوبہ بنایا? اسکا جواب نفی میں ہے بلکہ یہان کی عوام کی طرف سے آئنی صوبہ بناو کے واویلا پر پاکستان کے حکمرانوں نے کئ بار یہ واضح کیا کہ گلگت بلتستان متنازعہ خطہ ہے اور تب تک متنازعہ رہے گا جب تک مسلئہ کشمیرحل نہیں ہوتا اسی لئے پاکستان اسے اپنا آئنی صوبہ نہیں بنا سکتا، رہی بات نام نہاد آزادی اور الحاق کی تو اس کی حقیقت کچھ یوں ہے کہ اس خطے کی جغرافیائی اہمیت کے پیش نظر برٹش سامراج اسے مہاراجہ کشمیر کی ریاست سے الگ کر کہ اسے پاکستان کے کنٹرول میں دینا چاہتا تھا جس کی خاطر برٹش سامراج نے lease agreement 1935 کو قبل از وقت 3جون 1947 کو منسوخ کر کے دوبارہ مہاراجا کے کنٹرول میں دے دیا جس پر مہاراجا کشمیر نے یکم اگست 1947 کو برگیڈئر گھنسارا سنگھ کو گلگت وزارت کا گورنر مقرر کیا، یاد رہے کہ برٹش سامراج نے ماراجا کشمیر سے lease agreement 1935 کے ذریعے گلگت وزارت کو ڈایرکٹ اپنے کنٹرول میں لے لیا تھا۔

lease agreement کی منسوخی کے بعد برٹشرز نے میجر براون کو گلگت سکاوٹس کا کمانڈنٹ مقرر کیا تاکہ اس خطے کو مہاراجا کی ریاست سے الگ کرنے کے پلاننگ کی جا سکے،میجر براون نے اس مقصد کے حصول کے لئے ایک پلان ترتیب دیا، جس کے مطابق عوام میں ہاراجا کے خلاف نفرت پیداکرنے کی غرض سے دو قومی نظریہ کا استعمال کیا اور گلگت سکاوٹس کو کشمیر فورس کے برابر مراعات دینے کے مطالبے پر گلگت سکاوٹس کومہاراجا کے خلاف اکسایا اور طے شدہ پلان کے تحت گورنر گھنسارا سنگھ کو یکم نومبر 1947 کو قید کر لیا گیا اورمختصر عرصے میں ڈوگروں کو اس خطے سے بھاگنے پر مجبور کیا گیا یوں باقاعدہ طور پر اس خطے کومہاراجا کی ریاست سے الگکر دیا گیا بعد ازاں میجر براون نے ٹیلی گراف کے ذریعے اس وقت کے پاکستانی حکمرانوں کو پیشکش کی کہ وہ اس خطے کو پاکستان میں شامل کریے لیکن پاکستان نے پورے کشمیر پر دعوای کرنے کی غرض سے اس خطے کو،(جو کہ 1947کے بعد ریاست کشمیر کا حصہ نہیں رہا تھا) مسلئہ کشمیر کی کھونٹی سے لٹکا کر 28 اپریل 1949 کے معاہدہ کراچی کے ذریعے اس خطے کا انتظامی کنٹرول حاصل کر لیا،میجر براون اور کیپٹین میتھیسن کی ان خدمات کے عوض 1947 میں انہیں تمغہ پاکستان سے نوازا گیا، اس کے باوجود آئنی صوبہ بنانے کا نعرہ لگانا ریاستی بیانئے پر عوام کو گمراہ کرنے کے مترادف ہے،
دوسرا رجحان جو اس تحریک میں نظر آتا ہے وہ “کشمیر طرز کا سیٹ اپ” کی ڈیمانڈ کرنےکی شکل میں موجود ہے جو کے بہت مبہم اور غیر واضح ہے، جس طرح پاکستان اس خطے کو اپنا آئنی صوبہ نہیں بنا سکتا بلکل اسی طرح وہ اسخطے کو کشیر طرز کا سیٹ اپ بھی نہیں دے سکتا۔

اس کی وجہ یہی ہے کے UNCIP کی قرادادوں کےمطابق گلگت بلتستان ریاست کشمیر کا حصہ ہونے کی وجہ سے مسلئہ کشمیر کا حصہ ہے پاکستان نے اس خطے کو اپنے مفادات کی خاطر ریاست کشمیر کے ساتھ جوڑا تھا اس تناظر میں اگر دیکھا جائے تو ایک متنازعہ ریاست کے ایک حصے کو پاکستان ریاستی طرز کا سیٹ اپ دے ہی نہیں سکتا جبکہ نام نہاد “آزاد ریاست جموں اینڈ کشمیر حکومت پاکستان” ریاستی طرز کے سیٹ اپ کے حامل ہونے کے باوجود بدتریں قومی جبر اور شناختی بحران کا شکار ہے اس حقیقت کو تسلیم کرتے ہوئے بھی ریاستی طرز کے سیٹ اپ کی ڈیمانڈ کرنا سمجھ سے بالا تر ہے۔

تیسرا رجحان “ریاستی امور اپنے پاس رکھو اور داخلی خود مختاری دے دو” کی شکل میں اس تحریک میں نظر آتا جسکو جی بی آرڈر 2018 کے تناظر میں دیکھا جائے تو یہ واضح نظر آئے گا کے ریاستی امور اب بھی پاکستان کے پاس ہیں اور گلگت بلتستان اسمبلی تقریبن خودمختار ہے لیکن اس خطے کی تنازعہ حیثیت میں کوئی فرق نظر نہیں آتا یہ خطہ اب بھی متنازعہ ہی ہے ہم اب بھی مسلئہ کشمیر کا حصہ ہیں اور اور تب تک رہینگے جب تک مسلئہ کشمیر حل نہیں ہوتا اور مسلئہ کشمیر کے مستقل حل کا فیصلہ کشمیر و جموں اور گلگت بلتستان کی قومیتوں نے مل کر کرنا ہےاس اعتبار سے مذکورہ رجحان بھی کھوکھلا اور بے بنیاد ہے۔

مندرجہ بالا رجحانات کے تجزئے اور قومی تحریک کی طویل جدوجہد کی تاریخ سے سبق سیکھتے ہوئے قومی تحریک کو درست خطوط پر استوار کرنی کی ضرورت ہے جس کے لئے ضروی ہے کہ گلگت بلتستان کے قومی مسلئے کو الگ سے دیکھنے اور سمجھنے کی بجائےاس پورے خطے کے مسلئے کے ساتھ جور کرہی سمجھیں اور تجزیہ کریں اس اعتبار سے گلگت بلتستان کا مسلئہ کشمیر و جموں کی قومیتوں کے مسلئے کےساتھ نہ صرف جڑا ہوا ہے بلکہ اس مشترکہ مسلئے کا حل بھی اصولی طور پر مشترکہ جدوجہد کے ذریعے ہی ممکن ہے، جس کی طرف بڑھنے سے پہلے ہمیں ماضی کی غلطیوں اور تلخ تجربوں سے سبق لئیتے ہوئے ہر اس رجحان کو ترک کرنا پڑے گا۔ جس سے توسیع پسندی اور شاونسٹ طرز کی بو آتی ہو جس کے لئے گلگت بلتستان کے قوم پرست اور ترقی پسند طبقے کی ذمہ داری بنتی ہے کے وہ ” یوم لا تعلقی کشمیر” جیسے منفی اور ریاستی بیانۓ کو تقویت دینے کے باعث بننے والے رجحانات کو ترک کریں جبکہ کشمیر کے قوم پرست اور ترقی پسند طبقے کی ذمداری بنتی ہے کہ وہ اس خطے کو اپنے مہاراجے کی جاگیر سمجھ کر اس پر دعوے کرنے کے رجحان کو ترک کریں اور اس خطے کی عوام کے قومی تشخص کا احترام کریں، اور مشترکہ طور پر ایک نئی سماجی تشکیل کی طرف بڑھیں اب کی بار اس سماجی تشکیل کی بنیاد نہ صرف رضاکارانہ اور طبقاتی نوعیت کے ہوں گے، بلکہ تمام تر تعلقات کی بنیاد قومی شناخت کے احترام کے اصول پر ہوں گے۔ جس کے لئے ضروری ہے کہ گلگت بلتستان، کشمیر و جموں کی قومیتوں کی رضاکارانہ فیڈریشن کی جدوجہد کی جائے، جس میں تمام تر قومیتیں داخلی طور پر خود مختار ہونگیں اور اپنے وسائل کے استعمال پر مکمل اختیار کا حق بھی رکھتی ہونگیں نیز کوئی بھی قویت فیڈریشن سے الگ ہونا چاہتی ہو تو اس کا یہ فیصلہ جمہورین حق کے طور پر تسلیم بھی کیا جاۓ گا،یہی وہ طریقہ اور بنیاد ہے جس پر چل کر ہی نہ صرف قومی شناخت کے بحران سے نکلا جا سکتا ہے بلکہ اس بدتریں سرمایدارنہ نظام کو شکست دے کر ایک بہتریں اشتراکی معاشرے کی تشکیل بھی کی جاسکتی ہے۔