عاطف توقیر

ایک ہی روز میں پاکستان میں تین مختلف مقامات پر تین مختلف واقعات ایک ہی مسلسل سانحے کی تین مختلف کڑیاں تھیں۔

سوشل میڈیا ایکٹیوسٹ اور صحافی گل بخاری دفتر کے راستے پر اچانک اغوا کر لی گئیں اور کئی گھنٹوں بعد اغواکار انہیں گھر چھوڑ گئے۔

دوسری طرف جنوبی وزیرستان کے مرکزی شہر وانا میں پشتون تحفظ موومنٹ کے رہنما علی وزیر کے گھر کے آس پاس عسکریت پسند جمع ہوتے رہے اور سوشل میڈیا پر علی وزیر کی سلامتی کی دعائیں اور ریاست سے مدد کی التجائیں کی جاتی رہیں۔

ادھر پنجاب میں ایک اور صحافی اسد کھرل کو “نامعلوم افراد” نے تشدد کا نشانہ بنایا اور چلتے بنے۔

یہ تین مختلف واقعات ضرور ہیں، مگر سانحہ ایک ہی ہے۔ سانحہ ہے کہ ہر اس آواز کو خاموش کرنا، سرنگوں کرنا اور فتح کرنا ہے، جو ستر سال سے اس ملک میں حقوق، دستور، قانون بلکہ انسانیت کی تذلیل پر نوحہ کناں ہے اور اب چیخ بن چکی ہے۔

گل بخاری ملک میں جمہوری اداروں کی مضبوطی اور دستور کی بالادستی کے حوالے سے ایک مضبوط آواز ہیں۔ کسی بھی موضوع پر ان کا تجزیہ نہ صرف کرب ناک حقائق کا عکاس ہوتا ہے بلکہ اس ملک کے لاکھوں کروڑوں مظلوموں اور غریبوں کا لاحق مسائل کی وجوہات اور دیس کی ترقی کے لیے جہت کی تبدیلی اور دستوری بالادستی سے عبارت بھی ہوتا ہے۔
ماضی میں ہم دیکھ چکے ہیں کہ ہر وہ شخص جو ملک پر فوجی جرنیلوں کی قانون شکنیوں اور اپنے لوگوں کو خون میں نہلانے والی پالیسیوں پر “بات کرنے کے گناہ” کا مرتکب ہوا ہے، اسے کس کس طرح ریاست کے تحفظ پر مامور اہلکاروں نے اپنے افسروں کے احکامات پر خاموش کرایا ہے۔ ہمارے ہاں ایک طرف صحافیوں کو یہ طعنہ دیتے لوگ نظر آتے ہیں کہ وہ “لفافے” لے کر ملک اور قوم کو جھوٹے خواب بیچتے ہیں اور اپنے ضمیر کا سودا کر لیتے ہیں، مگر دوسری طرف وہ باضمیر لوگ جو اس قوم کو سچ بتاتے ہیں، لالچ، دھمکیوں، خوف، مراعات یا لفافوں کو ٹھکرا کر پوری دیانت داری سے سچ لکھتے ہیں، ان کو “غدار” اور “ایجنٹ” کے القابات بھی دے دیے جاتے ہیں۔

گل بخاری ہو یا سلیم شہزاد یا کوئی اور صحافی، جس نے بھی لفافے کے بدلے سچ اور ضمیر کا سودا کرنے سے انکار کیا، اسے دھمکیوں اور خوف سے مرعوب کر کے خریدنے کی کوشش کی، وہ تب بھی کھڑا رہا تو محافظوں کی بندوقوں نے دستور اور قانون کو توڑتے ہوئے انہیں سزا دی اور اب نتیجہ یہ ہے کہ میڈیا کا ایک ادارہ جسے پھلتے پھولتے ابھی قریب پندرہ برس ہوئے ہیں، اب قریب مکمل فتح ہو چکا ہے۔

فوجی ترجمان یہ تو کہتے نظر آتے ہیں کہ ان کے “ادارے” جو دستوری معنوں میں ادارہ بھی نہیں بلکہ ایک ادارے کے ماتحت ایک ادارہ ہے، اس کی تکریم کی جائے، اس پر تنقید نہ کی جائے، اس کا تحفظ کیا جائے اور اس پر بات کرنے والا ہر شخص غدار اور غیرملکی ایجنٹ سمجھا جائے، مگر ساتھ ہی ایک ایک کر کے اس ایک “ادارے” نے ملک کے دیگر ادارے توڑ کر رکھ دیے ہیں۔ اسی ادارے نے “عدلیہ” کا ادارہ توڑا۔ اسی ادارے نے جعلی سیاست دان پیدا کر کر کے اور سیاست میں مداخلت کر کر کے انتظامیہ اور مقننہ کا ادارہ تباہ کیا اور اب اسی ادارے نے ملک کا ایک اور ستون یعنی میڈیا اور صحافت بھی مکمل طور پر تباہ کر دیا۔

سوال یہ ہے کہ کیا کوئی ملک صرف ایک ادارے سے چلایا جا سکتا ہے؟ جواب یہ ہے کہ ایسا ممکن نہیں۔ تو پھر سوال یہ ہے کہ کیا فوج ملکی ادارے تباہ کر کے واقعی ملک کا دفاع کر رہی ہے؟ جواب ہے کہ فوجی جرنیلوں کا راستہ اس دیس کو ایک اور تباہی کی طرف لے جا رہا ہے۔ مزے کی بات یہ ہے کہ ان واقعات سے صرف ایک روز قبل فوجی ترجمان میجر جنرل آصف غفور نے اپنی پریس کانفرنس میں صحافیوں کی تصاویر دکھا کر ان پر تنقید کی تھی، جو خود ان صحافیوں کو علی اعلان دھمکی دینے، ان کی زندگی خطرے میں ڈالنے اور دستوری ضمانت کو محدود بنا کر دستور کی خلاف ورزی کرنے سے عبارت تھی۔ میں نے اپنے گزشتہ بلاگ میں لکھا تھا، میجر جنرل کے عہدے کے کسی شخص کی بہ طور ادارہ باتُ کرتے ہوئے اس انداز سے دی جانے والی دھمکی کا نوٹس لینا چاہیے اور آصف غفور کے خلاف قانون کے مطابق کارروائی ہونا چاہیے۔

گل بخاری اور اسد کھرل پر حملہ اصل میں ان آوازوں پر حملہ ہے، جو دیگر صحافیوں کو یہ پیغام دینے کی کوشش ہے کہ وہ اپنے ضمیر کا سودا کر لیں۔

دوسری طرف پشتون تحفظ موومنٹ کی شکل میں حقوق کے لیے اٹھنے والی تحریک کے خلاف ریاستی طاقت کا استعمال اور انتہائی اوچھے ہتھکنڈے یہ بتا رہے ہیں کہ اس ملک کے “اصل حاکم” اس قوم کو حقوق دینے پر تیار نہیں ہیں اور نہ ہی اقتدار اور ریاستی وسائل پر اپنا قبضہ چھوڑنے پر آمادہ ہیں۔ پروپیگنڈا کا استعمال اور ملکی میڈیا کو فتح کرنے کا بنیادی مقصد یہی ہے کہ ملک کی مختلف برادریوں کے درمیان نفرت کے مزید بیج بوئے جائیں تاکہ بداعتمادی اور تقسیم مزید بڑھے اور یہ ملک اور قوم اسے طرح ان جرنیلوں اور سیاسی چوہدریوں کے ہاتھوں یرغمال رہیں۔

یعنی قوم سے اتنا جھوٹ بولا جائے کہ وہ اپنی ہی زنجیروں سے محبت میں مبتلا ہو جائے، کسی ایسے پرندے کی طرح جسے مسلسل پنجرے میں رکھا جائے اور پھر ایک وقت ایسا بھی ہو کہ پنجرے کا دروازہ کھول دینے پر بھی پرندہ اڑ نہ سکے، وہ آزادی اور پرواز کی صلاحیت ہی کھو چکا ہو اور پنجرے کو کل کائنات سمجھنے لگے۔

وانا میں فائرنگ میں متعدد ہلاکتوں، کرفیو کے نفاذ اور مقامی جرگے کی ناکامی اور پھر ایسی صورت حال میں مختلف علاقوں سے “امن کمیٹی” کے نام سے عسکریت پسندوں کی علاقے میں آمد اور علی وزیر کے گھر کا گھیراؤ، اس پر ریاستی اداروں بہ شمول فوج کی جانب سے مکمل خاموشی کہانی واضح کر رہی ہے۔

ڈی جی آئی ایس پی آر نے اپنی حالیہ پریس کانفرنس میں وانا سانحے کے حوالے سے کہا تھا کہ زخمیوں کو فوجی ہیلی کاپٹروں میں ہسپتالوں میں منتقل کیا گیا، مگر ہم میں سے کون ہے جو ان سے یہ سوال پوچھے کہ فوجی اڈے اے چند سو میٹر دور جب ایک طویل وقت تک فائرنگ ہو رہی تھی، جس میں ایک طرف مسلح افراد تھے اور دوسری جانب نہتے افراد جو پتھروں اور اینٹوں سے ان حملہ آوروں کو روک رہے تھے، تو اس وقت ہیلی کاپٹر دور کی بات ہے کوئی فوجی گاڑی ہی پہنچ جاتی اور انسانی جانیں بچا لیتی۔ کل گھنٹوں تک پشتون تحفظ موومنٹ سے وابستہ افراد علی وزیر کی سلامتی کے لیے دعائیں مانگتے رہے، ایسے میں فوری طور پر ردعمل ظاہر کیا جانا تھا تاکہ ریاست کی رٹ اور عوام کی سلامتی کی ضمانت کا اظہار ہوتا، مگر لگتا یوں ہے کہ اس ملک کے حاکم بالکل لاتعلق ہیں۔ یہ عجیب فوجی ہیلی کاپٹر ہیں جو انسانی زندگیوں کو خطرات سے بچانے کے لیے پرواز بھرنے کی بجائے فقط لوگوں کے زخمی ہونے کا انتظارُ کرتے ہیں۔ اصل میں یہ بے حسی ہے، اس عسکری اشرافیہ کو چند یا چند سو افراد کی ہلاکت سے کوئی فرق نہیں پڑتا۔ لوگ مرتے رہیں یا زخمی ہوتے رہیں، گھر گرتے رہیں یا بچے اپاہج بنتے رہیں ان کی بلا سے۔

گزشتہ روز پیش آنے والے یہ تینوں سانحات اصل میں ایک ہی سانحہ اس لیے ہیں کہ ان تینوں کے درپردہ بے حسی ایک سی ہے، ظلم ایک سا ہے، لاقانونیت ایک سی ہے اور سب سے بڑھ کر اس قوم اور اپنے حلف سے غداری ایک سی ہے۔