وقاص احمد

جب تک میں نے حقیقت کو سمجھا، میرے ملک کے ٹکڑے ٹکڑے ہوئے پانچواں روز تھا۔ میں ریاست بھوٹانیہ غیر اسلامیہ غیر جمہوریہ کا ایک شہری ہوں اور اس وقت خانہ بدوشوں کی طرح ملک ملک پھر کر پناہ کی بھیک مانگ رہا ہوں۔ میرا ملک براعظم افریقہ کے چند اہم ترین ملکوں میں سے ایک ملک تھا۔ آج سے لگ بھگ ایک صدی پہلے ایک لمبی جنگ کے بعد جب ہم نے اپنے ملک بنایا تھا تو ہمارا جغرافیہ کچھ مختلف تھا۔

ہمارے ملک میں بے شمار قبائل بستے تھے لیکن ہم نے ایک جھنڈے تلے اکھٹے ہو کر ایک بڑی مملکت بنا لی۔ بعد ازاں ملک کے شمالی اور جنوبی حصے کے قبائل کے درمیان کچھ بن نا پائی اور کچھ مارا ماری کے بعد وہ ہم الگ الگ ہوگئے۔
میں اس نسل سے ہوں جو اس سانحے کے بعد پیدا ہوئی، ہماری اپنی تاریخ سے واقفیت کا واحد ذریعہ وہ درسی کتابیں تھیں، جن کو ہم دس دس بارہ بارہ سال رٹتے تھے۔

کچھ بڑے ہوئے تو مطالعہ وسیع کرنے کا شوق ہوا، مگر درسی کتابوں نے ذہن کو تعصبات کے جس پنجرے میں جکڑ دیا تھا، اس پنجرے میں ہر طرح کے نظریات کو گھسنے کی گنجائش نہیں تھی۔ سو قریباً اسی “قومی بیانیے” کو گھما پھرا کر مختلف لکھاریوں سے پڑھتے رہے اور باقیوں کو ردی کے ٹوکری میں دھکیلتے رہے۔ لڑکپن گزرا، نوجوانی گزری اور میں عملی زندگی میں آگیا۔ عجیب و غریب لوگ ملے، تجربہ کار، جہاندیدہ اور بے چین۔ ان لوگوں کا مطالعہ وسیع، تجربہ وسیع تر اور حلقہ احباب وسیع ترین تھا۔ ان کی ہر بات الٹی ہوتی تھی، یہ میرے ہر مطالعے کو جھٹلا دیتے تھے، یہ میرے ہر نظریے کو اکھاڑ پھینکتے تھے، یہ مجھے زچ کر دیتے تھے۔ انہوں نے ملک کے دو حصے ہونے کی جو کہانی مجھے بتائی وہ اس سے بالکل مختلف تھی جو میں بچپن سے پڑھتا آیا تھا لیکن مجبوری یہ کہ ان کے دلائل ایسے کاٹ دار ہوتے کہ میں انکار کرنا بھی چاہتا تو دماغ ساتھ نا دیتا۔

مجھے پہلی دفعہ احساس ہوا کہ میرے ملک میں “سب اچھا” نہیں ہے، مجھے پہلی دفعہ احساس ہوا کہ میرے ملک میں امیر اور غریب کی کلاس کے علاوہ ایک اور کلاس بھی موجود ہے جسے مقتدر اور محکوم کہتے ہیں۔ مجھے معلوم ہوا کہ میرے ملک کے الگ ہونے والا حصہ محکوموں پر مشتمل تھا اور مقتدر “اشرافیہ” سے تنگ آچکا تھا۔ مگر جو بات مجھے وقت پر معلوم نا ہوسکی وہ یہ تھی کہ مقتدر اشرافیہ میں بھی دو اقسام موجود ہیں جو دائمی مقتدر اور عارضی مقتدر کہلاتی ہیں۔ مجھے یہ معلوم نا ہو سکا کہ عارضی مقتدر ٹولہ مفاد پرست، لالچی، چالاک اور نالائق لیکن دائمی مقتدر ان سب خصوصیات کے علاوہ اپنے اقتدار کے لیے ہلاکو خان سے زیادہ خونخوار اور ہٹلر سے زیادہ بے رحم تھا۔

مجھے معلوم نہ ہو سکا کہ ہمارے ملک میں اٹھنے والے یہ اچانک ہنگامے اور احتجاج کہاں سے اٹھتے ہیں اور کیوں اٹھتے ہیں۔ مجھے معلوم نا ہو سکا کہ میرے ملک کا میڈیا خبر دیتا نہیں بلکہ خبر بناتا ہے اور سب سے بڑھ کر میں سمجھ نا پایا کہ میرے ملک کی عدالتیں ایک اصول پر درجنوں مختلف فیصلے کیوں دیتی ہیں۔ میں یہ بھی مانتا ہوں کہ میں اپنے تعصب کو مکمل طور پر ختم نا کر پایا اور بلواسطہ یا بلاواسطہ عارضی اور دائمی مقتدر کا دست و بازو بنا رہا۔ انہوں نے مشرق والوں پر چڑھائی کی تو میں چپ رہا کہ مجھے تو کچھ نہیں کہہ رہے ناں، انہوں نے مغرب والوں کو روند ڈالا اور میں چین کی بانسری بجاتا رہا کہ مغرب والوں نے “کچھ تو کیا ہی ہو گا ناں”. انہوں نے شمال والوں کے بچے، جوان اور بوڑھے مرد لاپتہ کر دیے اور ان کو بے گھر کر دیا اور میں اس کو وقت کی ضرورت سمجھ کر چپ رہا۔۔۔یہاں تک کہ۔۔۔۔ایک دن۔۔۔وہ جنوب میں پہنچ گئے، میرے گھر تک۔۔۔میں چلایا، رویا، مدد کے لیے پکارا مگر مشرق مغرب اور شمال والے اپنی آنکھوں میں نفرت کے شعلے جلائے دور کھڑے تماشہ دیکھتے رہے۔ میں طاقتور تھا، جنوب طاقتور تھا۔۔۔ہم لڑ پڑے، الجھ پڑے۔۔ مقتدر اشرافیہ سے دوبدو جنگ ہوئی۔۔ملک پہلے ہی زخموں سے چور تھا، اس آخری جھٹکے کو برداشت نا کر سکا، خلفشار بڑھتا گیا، سڑکوں پر خوں ریزی ہوئی، معیشت دیوالیہ ہوئی اور پھر دشمنوں نے اس سجے سجائے میدان جنگ میں آخری وار کیا اور ہمارا ملک صفحہ ہستی سے مٹ گیا۔

آج جب مجھے اپنے ملک سے فرار ہوئے، جنگلوں بیابانوں میں رلتے، لانچوں اور کشتیوں میں فرار ہوتے، ملک ملک کے کوسٹ گارڈز کے گولیاں کھاتے پانچواں دن تھا تو یکدم ایک روشنی کا جھپاکا ہوا، سچائی کا ایک بگ بینگ۔۔۔ حقیقت ایک دھماکے سے میرے سامنے آن کھڑی ہوئی۔ مجھے سمجھ آیا کہ تعصبات دماغ اور سوچ کھا جاتے ہیں یہاں تک کہ ملک بھی۔ دنیا کی سب سے بڑی خود فریبی “میری باری کبھی نہیں آئے گی” ہے۔ عقلمند تاریخ سے سبق سیکھتے ہیں اور بیوقوف تاریخ کا حصہ غلطیاں بانجھ نہیں ہوتیں، انڈے بچے دیتی رہتی ہیں۔ تاریخ کا پہیہ گول گھومتا ہے، ایک جیسے حالات، ایک جیسی غلطیاں، ایک جیسی ہٹ دھرمیاں اور ایک جیسی نالائقیاں ہمیشہ ایک ہی طرح کا نتیجہ دیں گی۔ سمجھ آ گئی، سب سمجھ آ گئی۔ مگر آج میرے ملک کو تباہ ہوئے پانچواں روز ہے۔

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here