عاطف توقیر

وزیراطلاعات و نشریات محترمہ مریم اورنگزیب کا کہنا ہے کہ مختلف چینلوں پر دباؤ اور سخت سینسر شپ کا معاملہ حقیقی ہے اور اس پر ان پر بھی دباؤ ہے کہ وہ ایسی صورت حال میں استعفیٰ دے دیں، تاہم وہ استعفیٰ نہیں دیں گی، بلکہ یہ معاملہ پارلیمان میں اٹھایا جائے گا۔

بات یہ ہے کہ ملک میں میڈیا ہاؤسز اور اخبارات کو جس انداز کی سینسر شپ، صحافیوں کو دھمکیوں، ٹی وی چینلز کو دھونس اور حراسانی کا سامنا اس وقت ہے، اس سے قبل ویسا صرف مارشل لا کے ادوار میں دیکھا گیا تھا۔ اس وقت معاملہ یہ ہے کہ مختلف کالم نگار ہر روز اپنے اپنے کالم سوشل میڈیا پر اس جملے کے سے پوسٹ کرتے ہیں کہ ان کا آج کا کالم اخبار نے شائع نہیں کیا۔
شہری آزادیوں کی ضمانت ملکی دستور دیتا ہے اور ہر رکن پارلیمان، وزیر، اسپیکر یعنی مقننہ اور اعلیٰ ترین انتظامی عہدوں پر فائز کوئی عہدیدار اپنے اپنے منصب کا حلف اٹھاتے ہوئے قسم کھاتا ہے کہ وہ اس ملک کے دستور کا تحفظ یقینی بنائے گا۔ دوسری جانب فوج کا ہر افسر یہ قسم کھاتا ہے کہ وہ ملکی سیاست میں مداخلت نہیں کرے گا۔ ہم فوجیوں کی جانب سے سیاست میں مداخلت کا نوحہ اور ان کا اپنے حلف کا مان نہ رکھنے کا دکھ تو مناتے رہتے ہیں، مگر سیاست دانوں اور خصوصاﹰ حکومتی عہدیداروں کی حالت بھی نہایت دگرگوں ہے۔ مزے کی بات یہ ہے کہ ان میں سے بھی کوئی شخص اپنے منصب کے لیے اٹھائے گئے کسی حلف کو خاطر میں لانے کو تیار نہیں۔

محترمہ مریم اونگزیب کو یہی معلوم نہیں کہ بہ طور وزیر یہ ان کی ذمہ داری ہے کہ وہ اس سلسلے میں واضح احکامات جاری نہ کریں اور جو جو فرد یا ادارہ ان احکامات کو ماننے سے انکار کرے، اس کے خلاف دستور اور قانون کے مطابق سخت ترین کارروائی کی جائے۔ تاہم اس ملک پر جس انداز کے سیاسی رہنما اتارے گئے ہیں، ان کی حالت یہ ہے کہ وہ ہر واقعے پر اپنے بے اختیار ہونے کا رونا تو روتے ہیں مگر واضح الفاظ میں نہ عوام کو یہ بتاتے ہیں کہ انہیں دستور کی خلاف ورزی کرتے ہوئے بے اختیار کس نے بنایا اور نہ ہی اپنا عہدہ چھوڑنے پر آمادہ ہوتے ہیں۔

پاکستان میں اقتدار کی کرسی پر کوئی عجیب سی ایلفی لگی ہوئی ہے، جو بیٹھ جائے، اسے لگتا ہے جیسے نشست اس کے وجود کا حصہ ہے اور شاید اب اسے اسی کرسی کے ساتھ لحد میں اتارہ جائے گا۔

وزیراطلاعات و نشریات، جن کا بنیادی فرض ملک میں اطلاعات و نشریات کے بہاؤ کو متاثر ہونے سے روکنا، آزادی اظہار کی دستوری ضمانت کا تحفظ اور آزادی صحافت کو یقینی بنانا ہے، اگر وہ یہ کہیں کہ ملک میں آزادی اظہار رائے اور آزادی صحافت تو محدود ہو چکی ہے، مگر وہ اس پر خود کوئی بیان دینے کی بجائے معاملہ پارلیمان میں لے جائیں گے۔ ساتھ ہی وہ یہ بھی فرما رہی ہیں کہ وہ اپنے عہدے سے مستعفی بھی نہیں ہوں گی۔

اس سے قبل وزیرداخلہ احسن اقبال صاحب، جنہیں چند روز قبل گولیاں ماری گئیں (اللہ انہیں جلد از جلد مکمل صحت یاب کرے) اسی انداز کی حماقت انگیز گفت گو فرما چکے ہیں۔ وزیرداخلہ کو احتساب عدالت میں داخلے سے رینجرز اہلکاروں نے روک دیا تھا اور وہ گیٹ کے باہر کھڑے ہو کر مکمل بے بسی کے ساتھ اپنے بے اختیار ہونے کا ماتم کر رہے تھے اور پھر صحافیوں سے ایک مختصر گفت گو میں انہوں نے حواس باختگی اور غصے کے عالم میں کہا کہ ریاست کے اندر ریاست کی اجازت نہیں دی جائے گی۔
ان صاحب سے کوئی پوچھے کی ریاست کے اندر ریاست کسی نے آپ سے اجازت لے کر بنائی ہے یا بنانا ہے؟

ہونا تو یہ چاہیے تھے کہ جب احسن اقبال صاحب کو رینجرز کے اہلکار روکنے کی کوشش کرتے اور انہیں احتساب عدالت میں داخلے نہ ہونے دیتے، تو وہ وہیں کھڑے کھڑے ان تمام اہلکاروں کی گرفتاری کا اعلان کرتے اور ساتھ ہی ساتھ یہ بھی کہتے کہ انہیں روکنے کی ہدایات کرنے والوں کو بھی گرفتار کر لیا جائے۔ اور پھر ان اہلکاروں پر مقدمہ چلایا جاتا اور اس پورے معاملے کا عوام کو بتایا جاتا ہے کہ احکامات کس نے دیے، وزیرداخلہ کو کیوں معلوم نہ ہوا اور یہ کیسے ممکن ہے کہ ملک کا وزیرداخلہ جس کے ماتحت تمام سکیورٹی ایجنسیاں اور فورس آتی ہو، وہ اپنے ہی سربراہ کا حکم ماننے سے انکار کر دیں۔

اور اگر حالت ایسی ہی بے بسی والی تھی، تو وہ وہیں کھڑے کھڑے ایسی بے اختیار وزارت داخلہ کے قلم دان پر لعنت بھیجتے ہوئے عوام سے کہتے کہ میں بے اختیار وزارت اپنے نام نہیں کر سکتا۔

یعنی یہ معاملہ کیوں مشکل ہے کہ اختیارات کے بغیر ذمہ داری نہیں لی جا سکتی اور ذمہ داری کے بغیر عہدہ کسی کام کا نہیں ہوتا۔ اگر آپ وزیرداخلہ ہیں اور آپ کے ماتحت فورسز ہی آپ کا حکم ماننے کو تیار نہیں، تو پھر یا تو ان تمام اہلکاروں کو سزا دلوائی جاتی یا پھر عہدہ چھوڑ دیا جاتا۔ مگر حالت یہ ہے کہ بے اختیار کے باوجود عہدہ بھی رکھنا ہے، گالیاں بھی کھانا ہیں، مگر منصب نہیں چھوڑنا۔
ن لیگ کی حکومت اور ان وزراء کی موجودگی میں کبھی پشتون تحفظ موومنٹ کے جلسوں کی کووریج غیرقانونی طور پر روکی گئی، کبھی انٹرنیٹ سروس معطل کی گئی، کبھی منظور پشتین کو جہاز میں سوار ہونے سے روکا گیا، کبھی ٹی وی چینلز کو براہ راست دھمکا کر مواد پر سینسر شپ نافذ کی گئی، صحافیوں کو خفیہ اداروں کی جانب سے لفافے بانٹے گئے، عسکری پیسوں پر پلنے والے ’دفاعی تجزیہ کاروں‘ کو ٹی وی چینلز سے کہہ کر ٹائم دلایا گیا، صحافیوں کو دھمکیاں دی گئی، کیبل آپریٹرز کو دھمکیاں دے کر ’نافرمان چینل‘ بند کرائے گئے، جمہوریت کے لیے آواز اٹھانے والوں کو لاپتا کیا گیا، حقوق کے لیے بولنے والوں کو ’نامعلوم‘ افراد نے قتل کر دیا، مگر کسی وزیر کا کوئی واضح پیغام کسی بھی غیردستوری کام پر سامنے نہیں آیا۔ حالاں کہ ان کے حلف میں درج تھا کہ انہوں نے ملکی دستور کی حفاظت کرنا ہے۔

اس ملک میں کھچڑی دونوں طرف سے قریب ایک جیسی ہی ہے، سیاست دان اور حکومتی رہنماؤں نے قسم کھائی تھی کہ وہ اس ملک کے دستور، شہری آزادیوں اور عام کے حقوق کے تحفظ کو یقینی بنانے کے لیے تمام ممکنہ اقدامات کریں گے، وہ اپنے اس حلف اور وعدے سے منہ موڑ گئے اور دستور ان کی نگاہوں کے سامنے ٹوٹتا رہا۔ دوسری جانب ملک کے ’مقدس ادارے‘ ہیں، جنہوں نے حلف اٹھایا تھا کہ وہ سیاست میں مداخلت نہیں کریں گے، وہ پورے زور و شور سے سیاسی پارٹیاں بھی بنا رہے ہیں، جمہوریت پسندوں کو اٹھا بھی رہے ہیں، شہری آزادیوں کو محدود بھی بنا رہے ہیں اور عدالتوں اور صحافیوں کو دھمکانے میں مصروف رہے۔

تیسری طرف عدلیہ ہے، جس کے ذمے کام تھا کہ وہ ملک میں شہری حقوق کی دستوری ضمانتوں کو یقینی بنائے، مگر حالت یہ ہے کہ ستر برس سے اس ادارے کا کام قوم کے حقوق کے تحفظ اور دستور کی بالادستی کی بجائے، جی ایچ کیو کے احکامات بجا لانا ہے اور وہ سلسلہ اب بھی جاری ہے۔ عدلیہ کے جج اب بھی اسی انداز سے فیصلے کر رہے ہیں، جیسے پی سی او کے تحت حلف اٹھا رکھا ہو۔
ریاست کا چوتھا ستون میڈیا ہے اور حالیہ کچھ عرصے میں میڈیا کا جو کردار رہا ہے اور میڈیا کو جس انداز کے دباؤ کا سامنا کرنا پڑا ہے، یا میڈیا اور صحافی جس انداز سے اس دباؤ کا مقابلہ کرنے کی بجائے اس کے سامنے سجدہ ریز ہوئے ہیں، اس کی مثال بھی پاکستانی تاریخ میں نہیں ملتی۔

صحافی اور وکلا وہ افراد تھے، جنہوں نے اس ملک میں ظالمانہ مارشل لا اور آمریتوں میں بھی کبھی سر نہیں جھکایا تھا۔ انہیں ڈنڈے مارے گئے، جیل بھیجا گیا، کوڑے لگائے گئے، مگر یہ ملکی دستور اور شہری حقوق کے لیے کھڑے رہے، مگر آج یہ دونوں طبقے بھی ظالم کے سامنے کھڑے ہونے اور مقابلہ کرنے کی بجائے سر جھکائے احکامات لے رہے ہیں۔

ایسے میں ریاست اور ریاست کے مستقبل کی بابت صرف دعا کی جا سکتی ہے۔ خدا پاکستان کی حفاظت کرے!