مہناز اختر

یہ حقیقت ہے کہ طالبان ایک تشدد پسند مسلح گروہ ہے جو “لا اکرہٰ فی دین” ( دین میں جبر نہیں) کے اصول کو بالائے طاق رکھتے ہوئے پہلے افغانستان و پاکستان پھر پوری دنیا میں جبرو تشدد کے ذریعے شریعت کا نفاذ چاہتا ہے۔ القاعدہ، طالبان، داعش اوردیگر ذیلی تشدد پسند جماعتیں دراصل ایک ہی فکر کے مختلف زاویے ہیں۔ عام طور پر طالبان کا نام ذہن میں آتے ہی وہابیت اورسلفیت جیسے الفاظ یوں ذہن میں وارد ہوتے ہیں کہ گویا ان ناموں اور طالبان کا آپس میں کوئی گہرا تعلق ہو۔

برصغیر میں برطانوی سامراج کے دور میں دوسری اقوام کی طرح مؤحدین ہند نے بھی انگریزوں کے خلاف علم جہاد بلند کیا کیونکہ یہ نجد کے سلفی عالم محمد بن عبدالوہاب اور ان کے پیروکاروں کی طرح غیر مقلد تھے، اس لیے انگریزوں نے سب سے پہلے مؤحدین ہند کی شناخت کے لیے لفظ ’’وہابی‘‘ کا استعمال کیا۔ بعدازاں اس جماعت نے برطانوی حکومت سے باقاعدہ احتجاج کیا اور سرکاری طور پر خود کو اہل حدیث رجسٹر کرواکر لفظ ’’وہابی‘‘ کو رد کروایا۔ آج بھی اہل حدیث، سلفی یا مؤحد اپنی جماعت کے لیے لفظ وہابی کو ناپسند کرتے ہیں۔ یہ تقلید و بدعت کو ناجائز مانتے ہیں۔ برصغیر کے غیر مقلدین نے بڑی قوت کے ساتھ برطانوی سامراج کے خلاف باقاعدہ تحریکیں چلائی تھیں اور باغی کہلاتے تھے۔ یاد رہے کہ ایک طرف تو برطانیہ ہندوستان میں غیرمقلد باغیوں کو طاقت سے کچل رہا تھا مگر دوسری طرف نجد میں دوسرے غیر مقلدوں کو سلطنت عثمانیہ کے خلاف مضبوط، مربوط و مسلح کرنے میں برطانیہ نے ہی اہم کردار ادا کیا تھا۔

پاکستان میں جنرل ضیاء کے ’’اسلامی انقلاب‘‘ میں بہت بڑا حصّہ سعودی مالی امداد کا بھی تھا۔ سعودی حکومت نے پہلی بار ضیاء دور میں مساجد اور مدارس کی امداد کا باقاعدہ آغاز کیا تھا اور یہ امداد مخصوص مکتبہ فکر کی مساجد اور مدارس تک ہی محدود تھی۔ سعودی عرب نے اس دور میں امام خینی کے مقابلے میں جنرل ضیاء الحق کو عالم اسلام کا مرد مجاہد بنا کر پیش کرنے میں بھی اہم کردارادا کیا۔ جنرل ضیاء نے پاکستان میں بڑے منظم طریقے سے مذہبی شدت پسندی کو فروغ دیا، تعلیمی نصاب میں بڑے پیمانے پر تبدیلی کی اور ملک میں شریعت کا نفاذ کیا اور چند مکتبہ فکر کی سرکاری سطح پرسرپرستی کی۔

یہ جنرل محمد ضیاءالحق، سعودی عرب اور امریکا کا مشترکہ منصوبہ تھا کہ افغانستان کی سرزمین کو سویت یونین کی قبر بنایا جائے اور اس منصوبے کا سب سے بھیانک پہلو یہ تھا کہ اس میں دنیا بھر کے مسلمانوں اور خاص طور پر پختونوں کی قبائلی جنگجو فطرت اور جذبہ ایمانی کو استعمال کیا گیا اور سلفیت کے اندر چھپی تقلید و بدعت کی مزاحمت کو خونی اور متشدد رویے میں تبدیل کردیا گیا .پاکستانی مدارس کوجہادی ٹرینگ کیمپس میں تبدیل کر کے جدید امریکی ہتھیاروں سے لیس مجاہدین کی فوج تیار کی گئی. ایک ایسی فوج جس نے امریکہ کے خواب کو پورا کردکھایا اور سویت یونین کے ساتھ ساتھ ایک نظام بھی افغانستان کی سرزمین پر زمین بوس ہوگیا بلکل ایسے ہی جیسے برطانیہ کی مدد سے محمد بن عبدالوہاب کے پیروکاروں نے نجد میں خلافت عثمانیہ کو آخری ہچکی لینے پر مجبور کردیا تھا۔

سویت یونین پر مجاہدین کی فتح کو اسلامی تہذیب کی فتح قرار دے کر مجاہدین اور ان سے متاثر مسلمانوں کو اس جھوٹے زعم میں مبتلا کردیا گیا کہ مسلمان طاقت وجبر کے بل بوتے پر بڑے سے بڑے دشمن کو شکست دے سکتے ہیں۔ اس تاریخی فتح کے بعد مجاہدین اپنے اتحاد اور ایمانی حریت کو برقرار نہ رکھ پائے اور انتشار کا شکار ہوگئے جس سرزمین کی حفاظت کی خاطر وہ اکھٹے ہوئے تھے بعد میں انہوں نے اسی زمین پر خانہ جنگی کا ماحول پیدا کردیا. ایسے ہی ماحول میں ملّا عمر کی قیادت میں طالبان کی پیدائش ہوئی۔ ملاّ عمر کو ایک منصوبہ بندی کے تحت انتہائی طاقتور، منصف، ماورائی اور مقدس ہستی بنا کر پیش کیا گیا لیکن ملاّ عمر کے ہاتھوں کابل فتح ہونے کے بعد افغانستان کی عوام نے ایک ایسا اسلام دیکھا جو مسلمانوں کو تعلیم اور ترقی سے دور رکھ کر انہیں جانوروں سے بدتر زندگی گزارنے پر مجبور کر رہا تھا۔ دوسری جانب غیر مسلموں تو الگ شیعہ و ہزارہ برادری کی زندگی بھی جہنم بنا دی گئی تھی۔ طالبان کا آئندہ ہدف پاکستان میں ایسی ہی شریعت کا نفاذ تھا ستم بالائے ستم یہ کہ طالبان کے قائدین کو مدارس کے ذریعے مقدس “مجاہدین” کا درجہ دے کراسلام اور عالم اسلام کا نجات دہندہ قرار دیا جانے لگا۔

افغانستان میں سویت یونین کی شکست سے لے کر اب تک لاکھوں بے گناہ انسانوں کا خون اسلام کے نام پر بہایا گیا اور لاکھوں لوگوں جبری مہاجرت پر مجبور ہیں. اگر امریکی آفیشلز, پاک افواج اور خفیہ ادروں کے سابق سربراہوں کے اعترافات پر غور کریں تویہ جاننے میں دیر نہیں لگے گی کہ طالبانیت کا آغاز کب اور کیسے ہوا . مانا کہ اس پورے کھیل میں امریکہ کے اس خطے میں اپنے مفادات تھے مگر اس وقت پاکستانی اداروں کا مفاد صرف امریکی و سعودی دولت نہیں تھی بلکہ پاکستان میں ایک مخصوص قسم کے اسلام کی لانچنگ بھی تھی۔ جنرل ضیاءالحق، جنرل حمید گل، طالبان کے پاکستانی روحانی رہنماؤں کے نظریات، جماعت اسلامی اور طالبان حامی سیاسی و مذہبی جاعتوں کا ایجنڈا اور زید حامد کے نظریات کا ایک تسلسل سے جائزہ لینے پر حقیقت روز روشن کی طرح عیاں ہوتی ہےکہ اس پوری منصوبہ بندی کے پیچھے کون سا مقصد کارفرما تھا۔

فی زمانہ پاک افواج انہی شدت پسندوں کے خلاف آپریشن کررہی ہے مگر اس آپریشن سے دیرپا نتائج حاصل نہیں ہورہے کیونکہ طالبانیت کا پرچار کرنے والی شخصیات آج بھی پاکستان اور افغانستان میں موجود ہیں۔

جب کبھی طالبان یا طالبانیت کے خلاف بات کی جاتی ہے تو مذکورہ مکتبہ فکر اور ان کے حامی افراد فوراً خدشات کا شکار ہو کر انکے دفاع کے لیے میدان میں اتر کر یہ تاثر دیتے ہیں کہ طالبان پر تنقید انکے مکتبہ فکر پر تنقید ہے۔ اس کے برعکس غیر سیاسی سلفی علماء ان دہشت گردوں سے لاتعلقی کا اظہار کرکے ان کا شمار خوارج میں کرتے ہیں۔

یہی وہ دلیل ہے جو مجھے طالبانیت کو ایک علیحدہ متشدد فرقہ تسلیم کرنے کا جواز بھی فراہم کرتی ہے۔ طالبان کو سب سے زیادہ تعاون اور حمایت پاکستان کی مذہبی سیاسی جماعتوں کی طرف سے ملی ہے اور یہ سب پاکستان کی اسٹیبلشمنٹ کے آشیرباد سے ہوا ہے اور نتیجتاً پاکستان میں شدت پسندی میں دن بدن اضافہ ہوتا چلا گیا۔

طالبان دہشت گردانہ کاروائیوں کو جائز اور عین اسلام قرار دیتے ہیں اور اس کا جواز انہیں ان کے مسلکی عقائد سے ملتا ہے۔ مدارس میں پڑھنے والا ہر طالب علم یا استاد طالبان نہیں ہوتا مگر یہ بھی حقیقت ہے کہ طالبان اسی مخصوص مکتبہ فکر کا پرچار کرتے ہیں۔ ایک اور اعتراض جو اکثر اٹھایا جاتا ہے کہ مدارس میں صرف پختون نہیں بلکہ دوسری قومیتوں کے افراد بھی تعلیم حاصل کرتے ہیں تو پھر صرف پختون قوم کو ہی دہشت گرد کیوں کہا جاتا ہے ؟

درست مگربات دراصل یہ ہے کہ پاک امریکا و سعودی برانڈ کے نام نہاد جہاد کی وبا کے اثرات کوسب سے زیادہ پختونوں نے بحیثیت قوم قبول کیا اور منشیات کلچر کے ساتھ سعودی ثقافت و عقائد کی ترویج بحیثیت اسلام کرنے میں سب سے اہم کردارادا کیا اور طالبان کے ساتھ قومیت و مذہب کی بنیاد پر ذاتی اور کاروباری مراسم قائم کرکے جانے انجانے میں ملک بھر میں ان کی رسائی کو ممکن بنایا۔ آج پختون قوم کی موجودہ حالت کے ذمہ دار یہی مدارس اور ریاستی ادارے ہیں۔ آج پختونوں اور مذکورہ مسالک کے پیروکاروں کو اسی مصنوعی اور متشدد “اسلام” سے قطع تعلق کی ضرورت ہے تاکہ ہم طالبانیت کا رد اور تدارک مل جل کر حکمت کے ساتھ کرسکیں۔
یہاں اگر طالبانیت کا پرچار کرنے والے مدارس کو دینی تعلیم دینے والے مدارس سے الگ کرنے کی بات کیجائے تو فوراً ہی ایک سوال داغ دیا جاتا ہے کہ بتائیں یہ جنرل ضیاء, حمید گل , اسامہ بن لادن کون سے مدارس سے تعلیم یافتہ تھے ؟

اور اگر یہ مدارس سے فارغ التحصیل نہیں تھے تو دہشت گردی کے الزاموں کا سارا نزلہ مدارس پر ہی کیوں گرایا جاتا ہے؟ تو اس کا سادہ سا جواب یہ ہے کہ مسئلہ مدارس نہیں بلکہ نظریہ ہے جہاں اس مکتبہ فکر کی تعلیمات کو شدت پسندی کی شکل دے کر فلسفہ جہاد سے منسلک کردیا گیا اور ظاہر سی بات ہے کہ اس فکر کا سب سے مؤثر پرچار مساجد و مدارس سے ہی ہوتا ہے اسی لیئے مؤحدین پاک و ہند اور دیگر مذہبی تنظیموں کی یہ ذمہ داری بنتی ہے کہ ان شدت پسنوں کو اپنی صفوں سے علیحدہ کرلیں تاکہ انکی شناخت آسان ہوجائے اور ہم اپنی آنے والی نسلوں کو شدت پسند بننے سے محفوظ رکھ سکیں۔

10 COMMENTS

    • جہاد بالسیف کسی بھی جدوجہد کا منتہا ہے جب اسکے سوا کوئی چارہ نا ہو, آج دنیا بدل چکی ہے اور جمہور علماء ںے متفقہ طور پر ریاست کو چلانے کے لیئے اسی جمہوری نظام کو اضافی اصلاحات کے ساتھ قبول کرلیا ہے . دنیا بھر میں مسلح افواج کا ادارہ دفاع اور جنگ کے لیئے مخصوص کردیا گیا ہے,اسی طرح اسلامی حکومتوں میں جہاد بالسیف کی ذمہ داری افواج کے پاس ہے اور اسکا فیصلہ صرف ریاست کرسکتی ہے مگر اس سے پہلے جہاد “جہاد” ہے بھی یا نہیں اسکا تعین بھی ضروری ہے. آپ نے پوچھا جہاد سنت ہے یا فرض, تو ایک بات واضح کردوں فقہ میں تو واجبات کی بات ہوتی ہے تو پہلے طے کرلیں کہ فی زمانہ عام شہری پر جہاد واجب ہے بھی یا نہیں. آپ شاید اس مضمون کا مقصد سمجھ نہیں پائے مگر پھر بھی میں وضاحت کر دیتی ہوں کے یہ مضمون جہاد کی مخالفت پر نہیں بلکہ مخصوص مفادات کے حصول کے لیئے نظریہ جہاد کے استعمال پر ہے.

  1. Aaapky Nazar ma Jihaad-bil Saif Konsa aor kesa jihaad hy aor yeh kab Farz,Waajib, Sunnat ya Nafl Amal hy??

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here