ہم اپنی غلطیوں سے کب سیکھیں گے؟

0
301

عاطف توقیر

جب پاکستان وجود میں آیا تھا، تو اسے مملکت خداد کہا جاتا تھا۔ اس لفظ کے درپردہ دو باتیں بتائیں جاتی تھیں ایک تو یہ کہ پاکستان کا قیام نہایت مشکل تھا، مگر محمد علی جناح کی رہنمائی میں ایک سیاسی جدوجہد نے پاکستان قائم کر دیا اور دوسرا یہ کہ یہ ملک خدا کا دیا ہوا تحفہ ہے۔ اس کے علاوہ ابتدائی دنوں میں پاکستان ہمشیہ کے لیے بنا ہے، یعنی یہ ملک دوبارہ کبھی تقسیم نہیں ہو گا جیسے جملے بھی سننے کو ملتے تھے۔

وقت آگے بڑھا تو ہمارے حکمرانوں کی عیاشیوں اور آمر جرنیلوں کی ملک اور قوم کی بجائے اپنے اقتدار کو طوالت دینے کی کوششوں نے ان جملوں کے درپردہ حقائق تبدیل کر دیے۔ عجیب بات یہ ہے کہ تمام تر تباہی اور بربادی کے باوجود نعرے اب بھی ویسے ہی اپنی جگہ موجود ہیں۔

پاکستان کا نصف حصہ ٹوٹ کر الگ ہو گیا۔ مگر قومی سلامتی کے خواب بیچنے والوں نے نصف قوم توڑ کر الگ کر دینے کے باوجود پاکستان ہمیشہ کے لیے بنا ہے کہ رٹ لگائے رکھے۔ ستر برس سے قوم کو جاہل اور غریب رکھا ہی اس لیے گیا تھا کہ یہ قوم کبھی سوال نہ کرے۔

اپنے ہی ملک کے شہریوں پر انہی کے پیسوں کی بندوق اور گولی کا استعمال کیا گیا، تو مغربی پاکستان میں صرف ایک آواز حکمرانوں کے پروپیگنڈا نظام اور بیانات سے عوام تک پہنچی کہ بنگال کے لوگ غدار ہیں اور بھارت کے ایجنٹ ہیں۔ بنگال کے لوگوں نے پاکستان سے الگ ہو کر اپنا ملک بنا لیا مگر ایک قوم جس کا نصف بدن کٹ چکا تھا۔ وہاں اپنے جرائم پر شرم ساری کی بجائے سینہ تان کر یہاں تک کہا جاتا رہا کہ اچھا ہوا بنگلہ دیش پاکستان سے الگ ہو گیا اور اچھا ہوا جان چھوٹی۔ کوئی قوم یا باقاعدہ ریاست ہوتی، تو ہوش کے ناخن لیتی اور اپنی پالیسیوں کو سرے درست کرنے پر زور دیتی کہ دوبارہ ایسا ظلم نہ ہو۔ 

یہ طے ہو جانا چاہیے تھا کہ آئندہ پاکستان کی فوج پاکستان کے شہری کے خلاف استعمال نہیں ہونے دی جائے گی اور ملک میں قانون نافذ کرنے کے لیے پولیس کو مضبوط بنایا جائے گا اور اسے غیرسیاسی رکھا جائے گا۔ اور اگر کسی علاقے میں فوج استعمال کرنے کی ضرورت پیش بھی آئی تو اس کا فیصلہ بھی صرف اور صرف عوام کی نمائندہ پارلیمان کرے گی کہ دستور میں یہی لکھا ہے۔ سبق یہ سیکھا جانا چاہیے تھا کہ کسی بھی صورت میں حقوق کے لیے آواز اٹھانے والوں کے خلاف عسکری قوت استعمال نہیں کی جائے گی اور باقی بچ جانے والے ملک میں بسنے والے تمام افراد اور تمام اکائیوں کے ساتھ برابری کا رویہ اختیار کیا جائے گا۔

مگر ہوا بالکل مختلف۔ نہ اشرافیہ کے رویوں میں کوئی ندامت آئی، نہ جرنیلوں کے پھولے سینوں کی کوئی ہوا نکلی۔ نہ آمروں کی اقتدار کی ہوس کم ہوئی، نہ عوام کی زندگیوں میں کوئی تبدیلی آئی اور نہ ملک کے حالات میں کوئی بہتری پیدا ہوئی۔ بلوچستان میں حقوق مانگنے پر وہاں بھی فوج چڑھا دی گئی۔ امریکا اور سوویت یونین کی جنگ میں غیرجانبدار رہنے کی بجائے امریکا کا ساتھ دیتے ہوئے پورے ملک کو دہشت گردی اور مذہبی شدت پسندی کے اڈے میں تبدیل کر دیا گیا اور دین امن کے ماننے والوں کے مدارس عسکری تربیت گاہوں میں تبدیل ہو گئے۔ اور نصابی کت میں نفرت کا زہر گھول دیا گیا۔

سکوت ڈھاکا کے اس سنگین گھاو کے بعد ملک میں ایک قوم تشکیل دینے کی بجائے تفریق در تفریق اور دراڑ پر دراڑ پیدا ہوتی چلی گئی اور پھر صوبائیت اور ثقافتی و لسانی مسائل کے ساتھ ساتھ مذہبیت اور فرقہ واریت کے مزید رنگ اگتے چلے گئے۔ اب حالت یہاں تک پہنچ چکی ہے کہ اس اشرافیہ نے اس قوم کو اتنے ٹکڑوں میں توڑ دیا ہے اور باہمی رنجشیں بلکہ نفرتیں اس حد تک بڑھ چکی ہیں کہ پاکستان کے اندر کئی ملک بن چکے ہیں۔

بلوچستان میں مِرے لوگ غائب ہو رہے ہیں، ان کی سربریدہ اور مسخ شدہ لاشیں مل رہی ہیں۔ فاٹا میں قانون اور حکومت نام کی کوئی چیز دکھائی نہیں دیتی۔ گلگت بلتستان کی حالت آپ کے سامنے ہے۔ کراچی کی صورت حال آپ کی نگاہ میں ہے۔ 

ملک میں غربت، جہالت، شدت پسندی، مہنگائی، افراط زر، صحت، تعلیم اور ہر وہ شے عوام کے لیے ایک بحران کی سی ہے، جس کا تعلق کسی بھی طرح بہتر زندگی، یا بہتر زندگی بھی کیا، زندگی سے ہے اور ملک کے کونے کونے سے ہر شخص ریاست سے شکایت کرتا ملتا ہے۔ 

یہ بات کچھ یوں ہو رہی ہے کہ پارہ چنار واقعے کے بعد وہاں اپنی سلامتی کے لیے احتجاج کرنے والوں کے خلاف ریاستی طاقت کا استعمال کی ویڈیوز سے سماجی رابطے کی ویب سائٹس بھری پڑی ہیں اور اس واقعے اور احتجاج پر میڈیا کی خاموشی کا نتیجہ یہ ہے کہ سوشل میڈیا پر کئی احباب یہ تک لکھتے دکھائی دیتے ہیں کہ پارہ چنار پر حملہ ہوا تو وزیراعظم کا غیرملکی دورے پر کوئی فرق نہ پڑا مگر پنجاب میں ٹینکر میں آتش زدگی سے لوگ ہلاک ہوئے، تو وزیراعظم فورآ پاکستان آگئے۔ کسی نے لکھا کہ وزیراعظم نے بہاولپور کے زخمیوں کی عیادت تو کی مگر پارہ چنار نہ آئے۔ کسی نے تو تک لکھا کہ اب پھر سے دو قومی نظریہ بنا دیا گیا، جو ہے سنی اور شیعہ یا پنجابی اور پختون۔ یہ جملے شاید پڑھنے اور دیکھنے والے سرسری سی نگاہ ڈال کر آگے بڑھ جائیں، مگر یہی وہ دراڑیں ہیں، جن سے ملکی وحدت نقصان اٹھاتی ہے۔

 یہ انتہائی دکھ انگیز بات ہے۔ یہ انتہائی خوف ناک معاملہ ہے۔ ریاست کے اندر مختلف اکائیوں میں پیدا ہونے والے ایسے جذبات انتہائی خوف ناک ہوتے ہیں اور ان کا فائدہ ہمیشہ ملک دشمن قوتوں کو ہوتا ہے۔ ریاست کے لیے یہ بات کسی صورت اہم نہیں ہونا چاہیے کہ مرنے والے کا تعلق کس علاقے سے تھا یا مرنے والا کس فرقے، مسلک یا مذہب سے تعلق رکھتا تھا۔ ہر وہ شخص جو دستور پاکستان کے مطابق اس ملک کا شہری ہے، ریاست اس کے لیے ماں ہے اور ماں اپنے بچوں کے درمیان تفریق نہیں کر سکتی۔ اور اگر ایسا کرے، تو وہ گھرانہ کبھی یکجا نہیں رہ سکتا۔

پاکستان کی سالمیت اور بقا کے لیے رنگ نسل گروہ، برادری، زبان، مسلک اور فرقوں سے بالاتر ہو کر ایک قوم بننے کے لیے ایک دوسرے کے دکھوں میں ساتھ کھڑے ہونا اور ایک دوسرے سے محبت کے جذبے سے جڑے رہنے ہی سے پاکستان کی بقا ہے۔ دستور پاکستان اکائیوں کو جوڑنے کا نام ہے، ملکی دستور کو پامال ہونے سے بچائیے، تمام شہریوں سے مساوی سلوک کے لیے آواز اٹھائیے۔

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here