شعیب کیانی

نواز شریف نے ممبئی حملوں میں پاکستانی مجاہدین کے ملوث ہونے کا اقرار کر کے نئی بحث چھیڑ دی ہے۔ جس پر وہ ڈان لیکس کے بعد والی پوزیشن پر جا کھڑے ہوئے ہیں۔ آخر ہم اپنی بنائی ہوئی مسلح تنظیموں کے وجود سے ہمیشہ انکار کیوں کرتے ہیں؟ ہم جس طرح نجی محفلوں میں مجاہدین کی کاروائی پر جشن مناتے ہیں عالمی سطح پر اپنی فتح کو قبول کیوں نہیں کرتے؟ اس موضوع کو سمجھنے کے لیے ہمیں فوج اور مسلح تنظیموں کے درمیان کچھ بنیادی فرق سمجھنے کی ضرورت ہے۔

1۔ فوج ایک قومی ادارہ ہے جسے پوری قوم کا اعتماد حاصل ہوتا ہے شیعہ، سنی، وہابی، ہندو، قادیانی، عیسائی اور سکھ سب فوج پر اعتماد کرتے ہیں۔

جبکہ نجی مسلح تنظیم کا تعلق کسی نہ کسی مذہبی گروپ سے ہوتا ہے جس پر اس کے اپنے مسلک کے چند لوگوں کے علاؤہ کوئی اعتماد نہیں کرتا۔

2۔ فوج کے سپاہی کے ساتھ پوری قوم کھڑی ہوتی ہے وہ کسی مصیبت میں ہو تو پوری قوم اس کا ساتھ دیتی ہے جیسے بھارتی عوام اور حکومت کلبوشن یادیو کے ساتھ کھڑی ہے یا اکہتر میں ہم اپنے بھارت میں قید نوے ہزار فوجیوں کے ساتھ کھڑے تھے۔
جبکہ مسلح تنظیم کے جنگجوؤں کے ساتھ اس کی اپنی تنظیم بھی مصیبت میں کھڑی نہیں ہوتی اجمل قصاب اور اس کے ساتھیوں کو ان کے امیر نے بھی پہچاننے سے انکار کر دیا تھا۔ زیادہ سے زیادہ کوئی تنظیم اپنے مجاہد کا غائبانہ نماز جنازہ پڑھا کر بتاتی ہے کہ وہ ان کا بندہ تھا لیکن حکومتیں اس کی پشت پناہی کے باوجود اس کی مذمت کرتی ہیں اور اس سے کسی قسم کا تعلق ظاہر نہیں کرتیں۔

3۔ سپاہی کے پاس سرکاری لائسنس یافتہ اسلحہ ہوتا ہے۔جس کا حساب رکھا جاتا ہے۔ ایک ایک گولی واپس لی جاتی ہے۔ یہاں تک کہ چلی ہوئی گولیوں کے خول بھی گنے اور جمع کیے جاتے ہیں۔ جبکہ نجی مسلح تنظیموں کے پاس بغیر لائسنس کے اسلحہ ہوتا ہے جس کا کوئی ریکارڈ نہیں ہوتا۔ جب جہاں جتنا چاہیں استعمال کر لیں۔ یعنی یہ اسلحہ ذاتی دشمنی کے لیے بھی استعمال ہو سکتا ہے۔

4۔سپاہی اور افسران بہت چھان بین کے بعد بھرتی ہوتے ہیں ان کے کوائف دیکھنے کے باوجود ان کے گھر جا کر تسلی کی جاتی ہے اور ان سے متعلقہ تھانے کا کریکٹر سرٹیفکیٹ لیا جاتا ہے۔ ان کی ذہنی اور جسمانی فٹنس کا معائنہ کیا جاتا ہے۔ جبکہ نجی مسلح افراد کو تنظیم میں رکھتے ہوئے بس کلمہ اور جنگی جذبہ دیکھا جاتا ہے۔

5۔فوج کے سپاہی کی عالمی جنگی قوانین کے مطابق تربیت ہوتی ہے اور وہ مشکل سے مشکل حالات میں بھی جنگی قوانین کا پابند ہوتا ہے۔ جبکہ ملیٹینٹس کے لیے کوئی قوانین وضع نہیں کیے گئے۔ اور زیادہ تر ممالک نے یہ تنظیمیں اسی لیے بنا رکھی ہیں تا کہ ان سے وہ کام لیا جا سکے جس کی اجازت فوج کا قانون نہیں دیتا۔ اسی لیے پاکستانی حکومت نے کبھی یہ تسلیم نہیں کیا کہ کشمیر میں کوئی پاکستانی مسلح تنظیم کام کر رہی ہے۔

6۔فوجی کو تنخواہ دی جاتی ہے اس کے گھر والوں کی اس کی شہادت کی صورت میں کفالت کی جاتی ہے۔ جبکہ مسلح تنظیموں کے افراد کے شہید ہونے کی صورت میں کی فیملیز کو الٹا بعد میں ایجنسیاں تنگ کرتی ہیں۔

7۔ فوجی کم از کم میٹرک پاس ہوتا ہے۔ جبکہ مسلح تنظیموں کے جنگجو کے لیے پڑھا لکھا ہونا شرط نہیں ہے کوئی ایسا انسان جس نے قرآن بھی نہ پڑھا ہو وہ بھی جنگ کرنے جا سکتا ہے۔

8۔فوجی کا اور اس کے بچوں کا علاج اچھے ہسپتالوں میں ہوتا ہے۔ مسلح تنظیم کے لوگوں کے گھر والے بھوکے بھی مر جائیں تو حکومت ان کی مدد نہیں کرتی۔

9۔فوجی کے ذہن میں اپنی قوم، ملک، مذہب اور انسانیت جیسے کئی تصورات پیدا کیے جاتے ہیں جو جنگ کے دوران اس کے ذہن میں ہوتے ہیں۔ جبکہ ملٹنٹ کو صرف اس کی اپنی آخرت تک محدود کیا جاتا ہے اور اسے بار بار شہادت کے رتبے اور مجاہدین کی بہادری کے قصے سنائے جاتے ہیں اور شہادت کے منصب کے بارے میں بتایا جاتا ہے۔ اس وجہ سے اس کے لیے باقی ہر چیز بعد میں ہوتی ہے شہادت کا رتبہ اور جنت میں ملنے والا شہید کا مقام اہم ہوتا ہے۔

10۔اسلامی نقطہ نظر سے دیکھیں تو فوج نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے سے لے کر خلفائے راشدین تک ریاستی ادارہ رہی ہے اور ہر مہذب معاشرے اور مذہب میں دفاع حکومت کی ہی زمہ داری ہے۔وصال نبوی کے بعد زیادہ تر عرصہ حضرت خالد بن ولید رضی اللہ عنہ نے اسلامی فوج کی قیادت کی اور فوج کبھی خلیفہ کی اجازت کے بغیر کوئی کاروائی نہیں کر سکتی تھی۔ حضرت عمر رضہ اللہ عنہ کے دور میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے مقرر کردہ جرنیل حضرت خالد بن ولید معطل بھی ہوئے۔ جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ فوج حکومت کا ماتحت ادارہ تھا۔ جبکہ قومی فوج کے علاوہ کبھی کسی مسلح گروہ کو پرائیویٹ جہاد کی اجازت نہیں دی گئی۔ جس کے دل میں دشمن سے لڑنے کا جذبہ ہوتا وہ باقاعدہ تربیت حاصل کر کے قومی فوج میں شامل ہوتا تھا۔

فوج اور مسلح تنظیموں میں سب سے اہم فرق یہ ہے کہ:

11۔ فوج کو کبھی کسی کو یہ نہیں بتانا پڑا کہ فوج کیوں بنائی گئی ہے، اس کے مقاصد کیا ہیں۔ نہ ہی فوج کے بارے میں کبھی عوام کو ایک دوسرے کو تاویلیں دینا پڑتی ہیں۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ فوج ایک قومی اور قانونی ادارہ ہے جسے عوام کی بنائی ہوئی حکومت عوام کے دفاع کے لیے بناتی ہے۔ عالمی برادری ہر ملک کی فوج کو تسلیم کرتی ہے۔ جب کہ مسلح تنظیموں کو اپنے رسالے، کتابیں، اخبارات اور آڈیو ویڈیو لٹریچر کے ذریعے عوام کو اپنے بارے میں قائل کرنا پڑتا ہے اس کے باوجود ایک بھاری اکثریت ان پر اعتماد نہیں کرتی۔ نہ ہی آئینِ پاکستان میں غیر سرکاری لوگوں کو جنگ کرنے کی اجازت ہے۔

جہاد یا جنگ صرف اور صرف فوج کی زمہ داری ہے۔ فوج کا کام ہے بارڈر پر لڑے، جبکہ سول لوگوں کا کام ہے کہ وہ سرحد کے اندر حکومت، بینک، سیمنٹ فیکٹریاں، کالج، یونیورسٹیاں، ہسپتال وغیرہ چلائیں۔ لیکن اگر عام غریب شہری نجی تنظیموں کے ماتحت دشمن سے لڑنے نکل پڑیں گے تو پھر حکومت سے لے کر سیمنٹ فیکٹریوں تک ان کے سارے کام فوج ہی کرے گی اور معاشرہ ویسا ہی ہو گا جیسا ہمارا ہے۔

اس بد ترین صورتِ حال میں بھی ہمیں مسلح تنظیموں کو فوج پر ترجیح نہیں دینی چاہیے۔ فوج جتنی بھی کرپٹ ہو جائے ہمیں اس کی عزت کرنی چاہیے اس کے متوازی فوج بنانے کے بجائے اسی کا احتساب کرنا چاہیے بالکل ویسے ہی جیسے باقی اداروں کا ہوتا ہے۔ فوج پر اعتماد کرنے والا انسان کبھی کسی اور دوسرے عسکری گروپ کی حمایت نہیں کر سکتا۔

کسی زمانے میں جہاد بالنفس سب سے بڑا جہاد ہوتا تھا، ظالم حکمران کے سامنے کلمہ حق بلند کرنا سب سے بڑا جہاد ہوا کرتا تھا، جہاد بالعلم اور جہاد بالقلم بھی ہوا کرتے تھے۔لیکن آج کل جہاد کے معنی یہ ہو گئے ہیں کہ ایک ایسا انسان جس کو اپنی آخرت کا نہیں پتا وہ آپ کو جنت کی بشارت دیتے ہوئے بم باندھ کر عام شہریوں کو اپنے ساتھ لے اڑنے کا حکم دے دیتا ہے۔

اسلام کے جنگی قوانین وہی ہیں جو اس وقت عالمی جنگی قوانین ہیں بچوں، عورتوں، بیماروں، بوڑھوں، معذوروں اور ان لوگوں کو نہیں مارا جا سکتا جو آپ کے خلاف لڑ نہیں رہے۔ لیکن ہمیں ان قوانین سے ہٹ کر کاروائیاں کرنے کے لیے مسلح گروپوں کا سہارا لینا پڑتا ہے اور جب وہ ڈیڑھ سو شہریوں کو گولیاں مار کر فخر سے ممبئی پولیس کو بتاتے ہیں کہ ہم نے جہاد کیا اور مزید کریں گے تو ہم منہ چھپاتے پھرتے ہیں۔ ابھی بھی وقت ہے حکومت اور اس کے ماتحت ادارے اپنی ذمہ داریاں پوری کریں ورنہ ہم پوری دنیا کے ساتھ ساتھ اللہ کی نظر میں بھی ناقابلِ اعتماد قوم بن جائیں گے۔