عاطف توقیر

فوجی تعلقات عامہ کے جنرل آصف غفور کا کہنا ہے کہ پشتونوں کے ساتھ تعصب کا کوئی وجود نہیں اور یہ سب اصل میں پروپیگنڈا ہے، جس میں غیرملکی قوتیں ملوث ہیں۔ یعنی اب پشتونوں کی حقوق کی تحریک کی حمایت سے بھی ہاتھ کھینچ لیجیے، ورنہ آپ بھی غیرملکی آلہ کار قرار دے دیے جائیں گے۔

ہمارا معاشرہ جہاں پہلے ہی کسی کی حق تلفی کی مذمت کے لیے بھی اس فرد یا برادری کے ساتھ کوئی نجی تعلق کی روایت ہے، یہ بیان یہ بتا رہا ہے کہ ایک طرف تو پشتون اپنے حقوق کی جائز اور قانونی جدوجہد چھوڑ دیں اور دوسری طرف دیگر برادریوں سے تعلق رکھنے والے افراد بھی ان سے دور ہو جائیں۔

دیس میں یہ ایک عجیب روایت پڑ گئی ہے کہ مسلک، رنگ، نسل اور فرقوں کی بنیاد پر قتل کی مذمت عموماﹰ وہی کرتا ہے، جس کا تعلق اسی مسلک، رنگ، نسل اور فرقے سے ہو اور دوسرے مکاتب کے افراد ایسے کسی قتل عام کے موقع پر قاتلوں کے دفاع میں لگ جاتے ہیں۔

بلوچستان میں ہزارہ برادری کے لوگوں پر ٹرک بم حملے ہوئے، تو لوگوں کی جانب سے مذمت ایک طرف مگر ساتھ ہی فوراﹰ وہ احباب بھی ہر جانب متحرک ہو گئے، جو اس انتہائی مفلوک الحال برادری کے قتل کو ’ہزارہ کافر ہیں‘ کے نعرے کے ساتھ جائز قرار دیتے ملے۔

شیعہ مسلک کے افراد کو کوئٹہ، کرم اور پارا چنار میں صرف فرقہ واریت کی بھینٹ چڑھایا گیا، تو پھر یہ آوازیں آنے لگیں کہ ’شیعہ تو ویسے بھی کافر ہیں‘۔
احمدیوں کو ان کی عبادت کے دوران قتل کیا گیا، تو آواز آئی ’اچھا ہوا‘۔مسیحیوں کے گرجا گھر جلائے گئے تو صدا آئی کہ ’کون سا غلط ہوا۔لعل شہباز قلندر کے مزار پر دھماکا ہوا، تو آواز بلند ہونے لگیں کہ ’دھمال حرام ہے اور مرنے والوں کے ساتھ ایسا ہی سلوک ہونا چاہیے تھا۔‘‘ ڈرون حملے ہوئے تو کہا گیا، ’’اچھا ہے دہشت گرد مارے گئے۔‘‘

ہندوؤں کی بیٹیاں اٹھا کر انہی جبری طور پر مسلمان بنایا گیا تو کہنے والے کہہ رہے تھے کہ ’ہندوستان میں بھی تو مسلمانوں کے ساتھ سلوک اچھا نہیں ہوتا۔‘‘
بلوچستان میں ماورائے آئیں و قانون لوگوں کو اغوا کیا گیا، ان کی مسخ شدہ لاشیں ملیں، تو کہا جاتا رہا کہ ’اچھا ہوا، سارے غیرملکی ایجنٹ ہیں۔‘‘کراچی میں قانون کو پامال کر کے لوگوں کو ماورائے آئین قتل کیا گیا، تو صدا آئی، ’اچھا ہے سب را کے ایجنٹ اور دہشت گرد ہیں۔‘‘

قانون کی حکمرانی کی بات کی گئی، تو کہا گیا کہ عدالتیں دہشت گردوں کو چھوڑ دیتی ہیں اس لیے لوگوں کو مقدمات چلائے بغیر قتل کر دینا ہی بہتر ہے۔
ظلم کے ہر واقعے پر ظالم کے حق میں آواز بلند ہو تو سمجھ لیجیے ہم ایک نہایت خوف ناک دور سے گزر رہے ہیں۔ ہمارا اصل مسئلہ ابہام کا ہے۔ جس سماج میں حسین اور یزید کے معرکے میں بیک وقت حسین اور یزد دونوں درست ہوں، ایسے معاشرے میں ظالم کا ساتھ دینے والے، قاتلوں کو تحفظ دینے والے ہر جگہ موجود ہوتے ہیں اور یہ ہماری اپنی صفوں میں موجود دراڑوں کی عکاسی ہی ہے کہ ہم کسی ظلم پر بلامشروط مذمتی جملہ تک نہیں کہہ سکتے۔
وجہ صرف یہ ہے کہ پچھلے ستر برس میں ہم نے سڑکیں بنانے، پل بنانے، ایٹم بم بنانے اور میزائل بنانے پر تو توجہ دی، مگر قوم بنانے کا خیال ہمارے حکمرانوں اور آمروں کو کبھی نہ آیا۔
فوجی جرنیلوں سے لے کر سیاسی لٹیروں تک تمام نے دکھاوے کی ترقی پر وقت صرف کیا اور قوم کی حقیقی ترقی پر کبھی توجہ نہ دی۔ آج اس آگ اور خون کے کھیل کے اصل ذمہ دار وہ تمام حکمران ہیں جو ملک کے وجود میں آنے سے لے کر آج تک صرف اور صرف اپنی جیبیں بھرنے، اپنے اقتدار کو طوالت دینے اور زیادہ سے زیادہ طاقت جمع کرنے کے راستے پر رواں ہیں اور اس بیچ اس بات سے قطع تعلق ہیں کہ قوم کا مستقبل خون ہو چکا ہے۔

جب کسی ریاست میں انسانوں کے درمیان دستور مین طے کردہ مساوات کوُ نظراندازُ کیا جاتا رہے اور ریاست کے باسیوں کو تعلیم، صحت، روزگار اور سلامتی و تحفظ جیسے بنیادی حقوق مہیا نہ کیے جائیں، تو ایک خلا پیدا ہوتا ہے، ایک دراڑ جنم لیتی ہے۔ وہ دراڑ کبھی کبھی خوف ناک مظاہروں کی صورت میں برآمد ہوتی ہے یا ہو سکتی ہے اور کبھی یہ معاملہ انتہائی خون ریز شکل بھی اختیار کر سکتا ہے۔ ستر برس تک ملک کے مختلف صوبوں کے درمیان عدم مساوات کی یہ کیفیت یا سوچ اگر پنپ رہی ہے اور اسُ کا علاج عسکری آپریشنز کے ذریعے کیا جا رہا ہے، تو سمجھ لیجیے کہ زمین موزوں ہے اور اب ایسے میں کوئی دشمن ملک واقعی اس دراڑ کو بڑھاوا دے یا چنگاری پر تیل پھینکے تو اس کو خلاف توقع سمجھنا فقط ذہنی پستی ہے۔

دشمن ملک ضرور اس صورت حال کا فائدہ اٹھا رہے ہوں گے مگر بنیادی سوال یہ ہے کہ دشمن ممالک کو ایسی کسی کارروائی کا موقع کیوں فراہم کیاُ گیا؟ اور اب ایسی صورت میں بھی دستور پاکستان کی بالادستی کی بجائے ملبہ فقط دشمن پر ڈالنے سے کون سا مسئلہ حل ہو گا؟

اصل میں اس ابتری کی وجہ نہ وہ غریب ہے جو تھک ہاتھ کر آخر حقوق کے نعرے کے ساتھ گھر سے باہر نکل آیا، نہ وہ شیعہ ہے جو امام بارگاہ میں مارا گیا، نہ وہ ملنگ ہے جو دھمال کرتے ہوئے جان سے گیا، نہ وہ احمدی ہے، جو عبادت کرتے ہوئے گولیوں سے چھلنی ہوا، نہ وہ مسیحی ہے، جو امان کے لیے گرجا گھر پہنچا مگر وہاں آگ اور خون اس کے منتظر تھے، نہ وہ ہندو لڑکی ہے، جس اٹھا لیا گیا اور نہ وہ دہشت گرد ہے، جس کی جنت لوگوں کے قتلِ عام میں ہے۔ اس ابتری کی ذمہ دار ہماری عسکری، سیاسی اور مذہبی اشرافیہ ہے، جس کے لیے قوم مال مویشیوں کے جتھے جیسی ہے، جن کا کام صرف دودھ اور گوشت دینا ہے۔ اس تباہی کی ذمہ داری ریاست ہے، جس نے پچھلے ستر برس سے ہمیں قوم بنانے کی بجائے اپنی توجہ بم بنانے پر مرکوز رکھی۔ اس بربادی کی ذمہ دار وہ ریاستی پالیسیاں ہیں، جن کی نگاہ میں قومی سلامتی کا مطلب قوم کی سلامتی کی بجائے اپنے اختیارات، اقتدار اور سرمایے کی سلامتی ہے۔ آئین اور قانون کی پامالی کرنے والے وہ رویے اس قوم کے قاتل ہیں، جو اس پامالی پرعدل و انصاف کے لیے آواز اٹھانے کی بجائے ظلم کی حمایت میں صدا بلند کرتے ہیں۔ یاد رکھیے قتل کوئی شدت پسند کرے، کوئی کالعدم تنظیم کرے، کسی لسانی یا نسلی بنیاد پر ہو یا ریاستی آشیرباد سے ہو، وہ قتل ہے اور قتل کی مذمت صرف اور صرف غیرمشروط ہوتی ہے۔ کوئی قتل کبھی جائز نہیں ہوتا۔ نہ مظلوم کا نہ ظالم کا۔ اور ظلم کے حق میں بلند ہونے والی آوازوں کو چاہے وہ آپ کے اپنے دوستوں کی جانب سے بلند ہوں، انسانی تکریم کی دلیل سے رد کیجیے۔

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here