جاوید قریشی

یہ حقیقت ہے کہ زیادہ تر یورپی اور پہلی دنیا کے عوام خوش و خرم رہتے ہیں اور بھر پور انداز میں زندگی سے لطف اندوز ہوتے ہیں۔آپس میں لڑائی جھگڑا کم کرتے ہیں، حسد کم کرتے ہیں، ایک دوسرے کی ٹانگیں کم کھینچی جاتی ہیں۔ بس مرد عورتیں بچے بوڑھے سب مل جل کر زندگی سے لطف اندوز ہوتے ہیں۔ سوال یہ ہے کہ آخر ہم ایسا کیوں نہیں کرتے؟ کیا ہم نسلی طور پر اس طرح ہیں یا کچھ اور اسباب ہیں؟

میرے نزدیک اس کی واضع طور پر مادی وجوہات ہیں، لیکن کچھ کلچرل بھی ہو سکتی ہیں۔ لیکن میں آج مادی وجوہات پر ہی بات موقوف رکھتا ہوں۔ یورپ میں لوگ ویک اینڈ اس طرح مناتے ہیں جس طرح شاید ہم عید بقرعید کا تہوار بھی کیا مناتے ہوں گے۔ ان کے شہروں قصبوں محلوں اور گلیوں تک کا ایک علیحدہ علیحدہ تہوار منانےکارواج ہے۔

اسپین تو میلے ٹھیلے منانے کے لیے پوری دنیا میں مشہورہے۔ ان کے بعض تہواروں میں ٹماٹر ایک دوسرے پر مارتے ہیں اور سو ٹن سے زائد ایک دوسرے پر ٹماٹر پھینکتے ہیں، سبزیاں ۔آٹا۔ پھینکے کا علیحدہ تہوار منایا جاتا ہے۔بس یوں سمجھیے کہ یہ یورپی قوم تہوار منانے اور ناچ گانے کے بہا نے تلاش کرتی رہتی ہے۔ اس کے پیچھے ایک بہت بڑی وجہ ان کی خوشحالی ہے۔ یہاں مزدور کم سے کم بھی اتنا کما لیتا ہے کہ وہ عزت کی زندگی بسر کر سکے۔ اگر میاں بیوی دونوں کام کر رہے ہیں تو پھر تو ایک اچھی خاصی رقم بھی بچ جاتی ہے۔اگر ایک کا کام ختم ہو جائے تو دوسرے ساتھی کا چلتا رہتا ہے اور اگر دونوں کا بھی ختم ہو جائے تو بے روزگاری الاؤنس ملنا شروع ہو جاتا ہے۔

مہلک بیماری یا بڑے چھوٹے آپریشن میں ان کا ایک یورو خرچ نہیں ہوتا۔ پھر ہر وقت کام بھی آسانی کے ساتھ مل جاتا ہے، اس پر ماں باپ کی پینشن بھی ہوتی ہے، بہن بھائی کے پاس بھی کام ہوتا ہے، اس لیے کسی کی مالی مدد کرنے کا بھی مسئلہ نہیں ہوتا۔ پھر کچھ رقم ان کی جیب میں ہر وقت موجود ہوتی ہے اور خرچے پانی کی پرواہ زیادہ ہوتی نہیں۔ اس کے علاوہ مستقبل بھی ہر لحاظ سے محفوظ ہوتا ہے اور ذہنی طور پر بھی یہ مطمئن ہوتے ہیں، یعنی نہ فکر نہ فاقہ۔ اب یہ لوگ زندگی انجوائے نا کریں تو اور کیا کریں۔

آج اگر ان کی مالی حالت خراب ہو جائے، تو یہ بھی ہماری طرح ہی ہو جائیں گے۔ جس کی واضع مثال مالیاتی بحران کا ان کی زندگیوں پر پڑھنے والا منفی اثر اور زندگی سے لطف اندوز ہونے سے متعلق سرگرمیوں میں کمی کی صورت میں نکلا تھا۔

لیکن خیر سے پہلے تو ہمارے ہاں پچاس فیصد عورتیں کام ہی نہیں کرتی اور ایک مزدور کی عمومی تنخواہ بھی زیادہ سے زیادہ 8 ہزار روپے ہے اور بے روز گاری الاؤنس کا تصور بھی نہیں۔ اگر کوئی بڑا طبی مسئلہ آن پڑے، تو چھوٹی موٹی جائیداد تک فروخت کرنا پڑ جاتی ہے اور بے روزگاری اتنی ھے خدا کی پناہ۔ پھر بوڑھے ماں باپ اور شادی بیاہ کے رسم و رواج بھی اس طرح بن چکے ہیں کہ بندہ انھیں میں مر کھپ جاتا ہے۔
لیکن یہ بات اپنی جگہ حقیقت ہے کہ زندگی سے لطف اندوز نہ ہونے کی بنیادی وجہ، اصل میں غربت ہے۔ اس میں رسم و رواج کا عمل دخل بہت کم ہے۔

مزے کی بات ہے کہ جو تارکین وطن یا مہاجرین پہلی دنیا آچکے ہیں، انہیں بھی خرچہ پانی بیوی بچوں اور ماں باپ کو روانہ کرنا ہوتا ہے، اس لیے وہ بے چارے پہلی دنیا میں رہتے ہوئے بھی زندگی سے لطف اندوز نہیں ہو پاتے۔

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here