ولید بابر ایڈووکیٹ

غالباً 2005 ستمبر کا مہینہ تھا جب ہم نے گورنمنٹ کالج اصغر مال راولپنڈی میں گریجویشن میں داخلہ لیا تھا-ہمارا تعلق پاکستانی زیر انتظام کشمیر کے دور افتادہ دیہات سے ہے جہاں تعلیم کے ذیادہ مواقع نا ہیں اس لیے اکثر نوجوان کالج ، یونیورسٹی کے لیے راولپنڈی کا رخ کرتے ہیں سو ہم بھی اعلی تعلیمی حصول کے لیے راولپنڈی آگئے۔ راولپنڈی کے انتخاب کے لیے ہمارے پاس دو وجوہات تھیں۔ ایک راولپنڈی بڑا شہر ہے اور کشمیر کی نو آبادیاتی حثیت کے باعث تمام اضلاع کے لوگوں کا دارومدار اسی شہر پر ہے اس لیے سیاسی کام کے لیے یہاں سے روابط استوار کیے جا سکتے ہیں- دوسرا انتخاب پروفیسر یوسف حسن تھے۔ ہم نے اپنے ابتدائی زمانہ تعلیم علمی میں ان کا ایک انٹرویو روزنامہ پاکستان میں پڑا تھا اور دوستوں سے بھی ان کے متعلق معلوم ہوا تھا کے پکے سرخے ہیں اور اپنےانہی نظریات کی وجہ سے فوجی اور سویلین ادوار میں زیرے عتاب رہے ہیں اور بے شمار مسائل کا سامنا کر چکے ہیں۔

زمانہ طالب علمی میں نظریات سے زیادہ جذبات حاوی ہوتے ہیں اس لیے دل میں پروفیسر یوسف حسن کے لیے ایک ان دیکھی محبت،احترام اور عقیدت کا جو رشتہ استوار ہوا ساری زندگی اس میں کمی نہ آئی۔

خیر کالج میں پہلے دن ہم اپنی کلاس سے فارغ ہو کر پوچھتے پوچھتے شعبہ اردو کے دفتر پہنچے اور پروفیسر صاحب کی بابت معلوم کیا تو ہمیں دیکھتے ہی ایک بزرگ پروفیسر صاحب نے پہلے تو ہماری خوب خبر لی اور بھڑک کے پوچھا تم کشمیر سے ہو کیا ؟ میں نے حیرت زدہ ہو کر جب ہاں میں جواب دیا توانہوں نے کہا کہ تم کشمیری یوسف حسن کے بڑے معتقد ہو۔ہماری کھلی آنکھیں دیکھ کر کہا باہر جا کر دیکھو بڈھا (پنجابی میں بوڑھا) ہاتھوں میں کتابیں آٹھائے جا رہا ہو گا ابھی ابھی نکلا ہے۔ یہ سنتے ہی ہم الٹے پاؤں بھاگے کیونکہ اس بڈھے کو لفٹ کرائے بغیر ہم راستے میں چھوڑ آئے تھے۔ یوسف حسن صاحب نے شاہد اخبار نویس کو جواں عمری کی تصویر دی ہو گی جو ان کے انٹرویو کے ساتھ چھپی تھی اسی لئے چھریرے بدن کے بڈھے پروفیسر کو ہم پہچان نہ پائے۔

کالج گرونڈ کے وسط تک ہم نے پروفیسر صاحب کو آن لیا ۔لپک کے پیچھے سے سلام کیا تو ہمارا چہرہ دیکھتے ہی پوچھا کشمیری ہو؟ ہمارے ہاں کے اشارے پر آبائی گاؤں کا اور سیاسی تنظیم کا پوچھا۔ ہم نے جموں کشمیر پیپلز نیشنل پارٹی کا نام لیا تو جیسے انھیں اطمینان سا ہو گیا ہو۔ بیرسٹر قربان کے متعلق اور ہماری رہائش گاہ کا پوچھا اور جلدی جلدی کہا یہاں بات نہیں ہو سکتی بہت مسائل ہیں اپنے گھر کا ایڈریس اور فون نمبر دے کر کہا گھر آنا وہاں بات کریں گئے۔

دو چار دن بعد ہی ہم ان کے بتائے ہوے پتہ پر پہنچ گئے گھر اندر داخل ہوتے ہی ہمیں گھر کم کباڑ خانہ زیادہ نظر آیا۔بکھری پڑی کتابیں’ سگریٹ کا دھواں اور ردی چاروں اور پڑی تھی۔ دروازے پر ہی کہا نکر کے ہوٹل سے دو چائے دو سگریٹ لے آؤ۔ ہم پروفیسر کے عالی شان گھر کے جو سپنے دل میں لیے ان کے گھر گئے تھے دھڑم سے سب گر گئے اور اس سادگی نے ہمارا دل موہ لیا۔

اس کے بعد ہم جیسے پروفیسر صاحب کے گھر کے ہی ہو کر رہ لیے۔دو دن سے زیادہ ناغہ ہو جاتا تو فون کر کے کہتے تمہاری بھابھی پوچھ رہی تھی ،اچھا کھانا پکتا تو ہمیں بلایا جاتا، بچوں کے رشتوں کے ہم سے مشورے ہوتے اور تو اور بھابھی ہمارے لیے بھی رشتے کی تاک میں لگ گئیں۔

ہم نے پروفیسر صاحب سے باضابطہ مارکس ازم سکھینے کی درخواست کی تو انھوں نے بھی ہمیں اپنی شاگرد گی میں لے لیا۔ پروفیسر صاحب نے سیاسی معشیت، سیاسیات،فلسفہ،تاریخ،سماجیات،ادب،شاعری و دیگر کئی موضوعات پر لکچر دیے اور ہم سے نوٹس بنوائے جو آج تک ہمارے پاس محفوظ ہیں۔برطانیہ کی کیمونیسٹ پارٹی کا نصاب مجھے باضابطہ طور پر پڑھایا جو آگے کئی دوستوں کو فوٹو کاپی کر کے فراہم کیا۔

ہمارا تعلق ریاست جموں کشمیر سے ہے اور ہمارے خطے کے ترقی پسند قوم پرست نہ صرف خود بلکہ پاکستان کی دوسری قوموں کے استحصال کا ذمہ دار پنجاب کی استہماری اسٹبلشمنٹ کو سمجھتے ہیں اور پنجابی ترقی پسند قوتوں نے بھی پنجاب کے اس رول پر کوئی جاندار آواز بلند نہیں کی یہی وجہ ہے کہ پنجاب اور پنجابیوں کے متعلق خاصے تحفظات پانے جاتے ہیں مگر اسی پنجاب کے ایک پنجابی دانشور سے ترقی پسند مظلوم قومیتوں کا اس قدر لگاؤ اس بات کی غمازی کرتا ہے کہ تمام قوموں کے مظلوم طبقات کے درمیان ایک بین الاقوامی ربط موجود ہے استحصال ظالم طبقات کرتے ہیں اور نفرت بھی وہی طبقات پروآن چڑھاتے ہیں وگرنہ ایک غریب پنجابی بھی اتنا ہی مظلوم ہے جتنا کے ایک سندھی،پٹھان،بلوچ یا کشمیری ۔

پروفیسر صاحب نے قوموں کے حق خود ارادیت بشمول حق علیحدگی پر سرکاری دقیانوسی موقف کے بجائے اصولی مارکسی موقف اپناتے ہوئے پسے ہوئے طبقات کے لیے اپنی تمام زندگی وقف کر دی اور ادبی ‘سیاسی اور عملی زندگی میں اس کا بھرپور مظاہرہ کیا تبھی تو ستر سال سے زائد عمر میں وہ ماما قدیر اور ان کے ساتھوں کے لانگ مارچ میں خوشآمدید کے لیے راولپنڈی میں اپنی آنکھیں نچھاور کیے تعظیم کے لیے کھڑے تھے۔

پروفیسر یوسف حسن زمانہ تعلیم علمی میں ترقی پسند نظریات سے منسلک ہوئے اور تا عمر انہی نظریات پر کاربند رہے۔ وہ لاہور میں حبیب جالب کی انتخابی مہم کا حصہ رہے جبکہ احمد ندیم قاسمی شاعری میں ان کے استاد تھے۔ انقلابی اصولوں اور ترقی پسند نظریات کے باعث وہ تمام عمر زیر عتاب رہے-کالج میں جمعیت کے طلباء ان کی زندگی کے مصائب میں اضافہ کرنا اپنے ایمان کا حصہ سمجھتے اور کالج سے باہر عملی زندگی میں جمعیت اور مذہبی جذبات کی آبیاری کرنے والے “سرپرست”کوئی کسر نہ چھوڑتے حتی کہ ریٹائیرمنٹ کے بعد پنشن تک روک لی جس بابت انھیں شدید مالی مشکلات کا سامنا رہا مگر کسی کے سامنے آف تک کی نہ ہی اپنے اصولوں سے پیچھے ہٹے بلکہ اپنے حق میں فیصلہ لے کر ہی دم لیا۔

پروفیسر یوسف ایک بہترین شاعر (ان کی کتاب کی اشاعت میں تاخیر کے باعث ہمیشہ اختلاف رہا۔ مواد دس کتب سے زائد کا تھا مگر وہ کمال پرستی perfectionism کے قائل تھے) شفیق استاد کے ساتھ ساتھ ایک اعلی پائے کے محقق بھی تھے۔ تاریخ کی کھوج لگانی ہو یا فلسفے کی گتھی سلجھانی ہو انھیں ہر شعبہ میں یکتہ حاصل تھی۔ ان کے خیال میں پاکستان میں مارکسزم پر خاص کام نہ ہوا تھا۔ اصل ٹیکسٹ کم پڑھا اور سمجھا گیا ہے اور مارکسزم کے نام پر تراجم میں ترمیم پسندی ذیادہ غالب رہی ہے اس لیے وہ مارکسزم میں نئے رحجانات کو سمجھنے ‘مارکسزم کو کلچرلاز کر کے اپنے معروض کے ساتھ جھوڑنے پر زور دیتے تھے-

زندگی کے اعلی مقاصد انسان کو کبھی جکنے نہیں دیتے بلکہ ہر دم بلند حوصلہ اسے انسانیت کے اس معراج پر فائز کر دیتا ہے جہاں انسان کا ظاہر و باطن شفاف،اجلا اور حسین ہو جاتا ہے وہ نفع و نقصان سے بےنیاز ہو کر صرف اپنا کام کرتا جاتا ہے کے اسے علم ہے آنے والا وقت اس کی فتحیابی کاہے-انسانی بقاء،فلاح اور بہتری کے لیے کیا گیا کام انسان کی موت کے بعد بھی اسے زندہ رکھتا ہے اور وہ یوسف کو اس قدر حسن بخشتا ہے کے وہ اس چاشنی میں تمام عمر گزار دیتا ہے-