عاطف توقیر

یہودیوں کے قتل عام پر افسوس کیوں؟ وہ تو ظلم کر رہے ہیں

میری نظم ’’آؤشوِٹس‘‘ پر بعض عمومی اور سطحی ذہنیت والے دوستوں کا یہ تبصرہ کئی مقامات پر دکھائی دیا۔ یہ تبصرہ کچھ لحاظ سے منطقی مگر بڑے حد تک جہالت کا عکاس ہے۔

منطقی اس طرح سے کہ اسرائیل کی ریاست کی جانب سے فلسطینیوں کے خلاف جاری مظالم، ان کے گھر مسمار کرنا، مقبوضہ علاقوں میں یہودی آباد کاری اور اس طرز کے دیگر اقدامات نہایت قابل مذمت ہیں اور اس سلسلے میں کسی بھی لکھنے والے کوئی کسی بھی طرح کی کوتاہی نہیں برتنا چاہیے۔ مشرقِ وسطیٰ میں قیام امن کا واحد حل، وہاں دو آزاد ریاستوں کا قیام ہے اور اس حوالے سے اسرائیل کو تمام مقبوضہ علاقوں کو خالی کرنا چاہیے اور انہیں فلسطینی ریاست کے حوالے کرنا چاہیے۔ ان علاقوں میں مشرقی یروشلم کا وہ حصہ بھی شامل ہے، جہاں مسلمانوں کا تیسرا مقدس ترین مقام اور قبلہء اول مسجد الاقصیٰ قائم ہے۔ وہ تمام علاقے جو اسرائیل نے عربوں کے خلاف سن 1967 کی جنگ میں اپنے قبضے میں لیے، ان علاقوں کو عالمی برادری مقبوضہ مانتی ہے اور ان پر اسرائیل کا کسی طرح کا کوئی اختیار نہیں بنتا۔

مگر نظم کا موضوع اسرائیل ہر گز نہیں تھا، نظم کا موضوع ’’آؤشوِٹس‘‘ کا حراستی اور اذیتی مرکز تھا۔ یہ مرکز پولینڈ میں موجود ہے، جہاں دوسری عالمی جنگ میں ہٹلر اور اس کی نسل پرست فورسز نے لاکھوں یہودیوں اور دیگر افراد کو فقط نسل اور مذہبی فرق کی بنا پر قتل کیا۔ پھر یہی نہیں ہٹلر کے دور میں معذروں اور بیماروں کو بھی یہ کہہ کر قتل کیا جاتا رہا کہ وہ ریاست پر بوجھ ہیں۔

انسانی تاریخ کے یہ بدترین مظالم ہر ممکن انداز سے قابل مذمت ہیں اور ان پر مذمت کی جانا چاہیے۔

اس سلسلے میں پاکستان میں چوں کہ عام افراد کو معلومات دستیاب نہیں، اس لیے ان کی نذر کچھ گزارشات ضروری ہیں۔

پہلی بات جرمنی بہ طور ریاست خود اعتراف کرتا ہے کہ اس نے اپنے اعداد وشمار کے مطابق لاکھوں یہودیوں کو قتل کیا۔ اس پورے عمل کو ہولوکاسٹ کہا جاتا ہے اور اس سلسلے میں ہلاک کیے جانے والے افراد کی باقاعدہ فہرستیں تک موجود ہیں۔

جرمنی بھر میں وہ تمام گھر، جن سے یہودیوں کو اٹھایا گیا اور ہلاک کیا گیا، ان تمام مکانات کے مرکزی دروازوں کے باہر گلی میں زمین میں پیتل کی ایک پلیٹ سی کسی چھوٹی سی اینٹ کی طرح نصب ہوتی ہے، جس میں اس گھر سے اٹھائے جانے والے یہودیوں کے نام، تاریخ پیدائش درج ہوتے ہیں۔

یہ بدقسمتی ہے کہ ہمارے ہاں کسی بھی معاملے پر گفت گو ہو تو موضوع کو یک سر تبدیل کر کے کچھ سے کچھ بنا دیا جاتا ہے، سو یہی کچھ اس نظم کے ساتھ بھی ہوا۔ اس نظم کا موضوع ہولوکاسٹ کو وہ مظلوم اور متاثرہ افراد تھے، جنہیں جرمنی نے بہ طور ریاست قتل کیا۔ اس نظم کا مدعا اسرائیل نہیں تھا۔

ہمارے معاشرے کا ایک اور معاملہ کسی بھی موضوع پر پائی جانے والی عمومیت پسندی سے عبارت ہے، یعنی ہمارے ہاں اگر جارج بش عراق میں غیرقانونی حملہ کرے، تو یہ سمجھ لیا جاتا ہے کہ پوری امریکی قوم اس کی ذمہ دار ہے، یا برطانیہ عراق میں ہزار ہا انسانوں کے قتل عام میں اس کا ساتھ دے، تو سمجھا جاتا ہے، جیسے تمام گورے اس کے حق میں تھے۔ یہ نہایت بھیانک اور نادرست سوچ ہے۔ پہلی بات تو یہ سمجھ لیجیے کہ کسی فرد یا حکومت کے کسی اقدام پر پوری کی پوری قوم کو موردالزام نہیں ٹھہرایا جا سکتا۔ امریکا اور برطانیہ میں عراق میں فوجی مداخلت اور دیگر جنگوں کے حوالے سے عوام نے بہت بڑے بڑے مظاہرے بھی کیے تھے، ان مظاہروں میں شریک افراد بھی امریکی اور برطانوی شہری ہی تھے۔ ابھی جب ٹرمپ انتظامیہ نے چھ مسلم ممالک کے باشندوں پر امریکا میں داخلے پر پابندیاں عائد کیں، تو وہ امریکی شہری ہی تھے، جو ہر شہر میں ان احکامات کے خلاف مظاہرے کر رہے تھے۔

بہت سارے انسانی حقوق کے یہودی گروہ ہیں، جو فلسطینیوں کے حقوق کے لیے کام کر رہے ہیں اور جو ریاستی پالیسیوں پر شدید تنقید کرتے ہیں۔ یعنی اسرائیل کی ریاستی پالیسیوں کی بنا پر تمام یہودیوں کو نفرت کی ایک ہی چکی میں پیس دینا، ایک نہایت نادرست کو غلط عمل ہے۔

اس کی مثال اس طرح سے ہے کہ اگر کوئی مسلم دہشت گرد کسی مقام پر دہشت گردی کرے اور اس کا الزام تمام مسلمانوں پر عائد کر دیا جائے، تو یہ ایک نہایت غلط عمل ہو گا۔ جرم کا ذمہ دار فقط مجرم ہوتا ہے، نہ اس کی بیوی، نہ اس کے بچے، نہ اور کا خاندان اور نہ اس کی قوم۔ اسی طرح ظلم کا ذمہ بھی صرف اور صرف ظالم پر عائد ہوتا ہے۔ اسرائیلی ریاست کے جرائم یا مظالم کا دوش تمام یہودی افراد کو دینا یا تمام یہودیوں سے نفرت کرنا، ایک نہایت گندا اور قبیح فعل ہے۔

ہمارا ایک اور معاملہ یہ بھی ہے، جس پر میں متعدد مرتبہ پہلے بھی قلم چلا چکا کہ ہم کسی ظلم کی مذمت بھی فقط اس وقت کرتے ہیں، جب ظالم سے ہماری کوئی رشتہ داری یا تعلق نہ نکلتا ہو۔ مثال کے طور پر ہمیں برما میں روہنگیا پر ہوتا ظلم نظر آتا (جو نظر آنا بھی چاہیے) ہے، مگر یمن میں مرتے ہوئے بچوں پر افسوس نہیں ہوتا۔ ہمیں کشمیر میں بھارتی مظالم دکھائی دیتے ہیں (جو دکھائی دینا بھی چاہیئں) مگر شام میں بلکتے بچے ہم صرف نظر کر دیتے ہیں۔

ہمیں فلسطینیوں پر ڈھائے جانے والے مظالم پر شدید رنج ہوتا ہے (جو کہ ہونا بھی چاہیے) مگر ترک میں کرد بچوں کے قتل پر ہم دوسری طرف دیکھنا شروع کر دیتے ہیں۔ یہ تمام مظالم چاہے وہ برما میں ہوں یا یمن میں، شام میں ہوں یا ترکی میں کشمیر میں ہوں یا فلسطین میں، نائجیریا میں ہوں یا عراق میں، افغانستان میں ہوں یا جنوبی سوڈان اور برونڈی میں، یہ تمام بھیانک ہیں، انسانیت سے محبت کرنے والا کوئی بھی شخص ان میں سے کسی میں کوئی تمیز کیے بغیر ہر مقام پر ہر ظالم کی مذمت کرے گا۔

ایک اور بات اہم ہے اور وہ یہ کہ جب ہم خود ظالموں ہی صفوں میں شامل ہوں، تو خود ہمارے اپنے ہاتھوں سے کسی دوسرے ظالم کی مذمت کا جواز بھی جاتا رہتا ہے۔ ہمارے ہاں غیرمسلم اقیلتوں کے ساتھ جس انداز کی صورت حال ہے (جس پر ہم شرم کرنے کی بجائے پورے فخر سے یہ تک کہتے ہیں کہ پاکستان میں اقلتیں مکمل طور پر محفوظ ہیں) اور جسے ہم ماننے تک کو تیار نہیں، تو پھر ایسے میں ہم اگر کسی اور مقام پر انسانی حقوق کی بات کریں، تو سننے والا ہمیں کب سنجیدہ لے گا۔ ہمیں زیادہ سے زیادہ یہی سننے کو ملے گا کہ اپنے گھر کو ٹھیک کرو۔

بات سادہ سی ہے، اسرائیل ہو یا ترکی، سعودی عرب ہو یا ایران، پاکستان ہو یا امریکا، برطانیہ ہو یا کوئی اور ملک، ریاستوں کا اقتدار ایک خاص طبقے ہی کے پاس ہے اور اس کا واحد ہتھیار وہ نفرت ہے، جس کے تحت وہ انسانوں کو مذاہب، رنگوں، نسلوں، فرقوں اور برادریوں میں توڑ کر اس تقسیم سے پورا فائدہ اٹھاتا ہے۔

انسانوں کے درمیان ہر طرح کا فرق اس زمین پر انسانی تنوع کا نمونہ ہے، کیوں کہ فطرت نے زندگی تنوع اور فرق ہی میں رکھی ہے۔ میں اور آپ کسی نظریے سے تو اختلاف کر سکتے ہیں، کسی شخص کے اقدام سے بھی، کسی شخص کے خیالات سے بھی، مگر ان اختلافات کی بنیاد پر انسانوں سے نفرت کرنا وہ رویہ ہے، جس نے انسانی تاریخ کو ہمیشہ خون آلود کیا ہے۔ یہی رویے نسل پرستی، عوامیت پسندی، نفرت انگیزی اور انسانیت دشمنی سے عبارت ہیں۔ اختلاف رائے ضرور کیجیے، مگر اختلاف رائے کی بنا پر انسانوں سے نفرت ترک کیجیے۔

 

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here