عاطف توقیر

ہم ملک میں اس خاک و خون کی بنیاد بننے والی پالیسیوں پر سوال اٹھائیں، تو دوسری جانب سے ہمارے ہی نوجوان وردی پوش بیٹوں اور بھائیوں کی لاشیں ہمارے سامنے لا کر کہتے ہیں کہ ہم تو اپنے ’خوب صورت جوان‘ قربان کر رہے ہیں۔ ہم پوچھیں کہ ہمیں یہ جوان قربان کیوں کرنا پڑ رہے ہیں، تو جواب آتا ہے، آپ غیرملکی اشارے پر یہ سوال اٹھا رہے ہیں۔ یعنی کہا یہ جا رہا ہے کہ وردی میں ملبوس جوان میدان حرب میں اور عام شہری اس دیس میں مر رہے ہیں، تو مرتے رہیں، سوال مت کیجیے۔ کیوں کہ یہ خون بہتا رہے اور ہم قربانیاں دیتے رہیں، تو ٹھیک ہے، دوسری صورت میں ملک کی سلامتی خطرے میں پڑ جائے گی۔ یہ عجیب قسم کی سلامتی ہے، جس میں قوم کی سلامتی خطرے میں ہے۔ یعنی ہم اس ملک کو وسیع تر قومی مفاد میں تباہ کر رہے ہیں، ہمیں مت روکیے۔ اس بات کو سمجھنے کے لیے ذرا تفصیل سے ڈالر کے اس کھیل کو دیکھنا ہو گا۔

پاکستان بننے کے بعد ہمارے پاس تین راستے تھے، ایک تو یہ سوویت روبل پر اقتصادیات چلائیں، دوسری ڈالر سے جیب بھریں اور تیسری اپنے پیروں پر کھڑے ہوں اور روپے کو قدر دیں۔ مصیبت یہ تھی کہ روبیل لیتے تو ڈالر ناراض ہو جاتے اور ڈالر لیتے تو روبیل برہم ہو جاتا۔

ہم نے اس وقت ’وسیع تر قومی مفاد‘ میں ڈالر لینے کو ترجیح دی اور پھر ڈالر لیتے چلے گئے۔ بھارت نے اس دوران تیسرا راستہ اختیار کیا اور اپنی اقتصادیات پر توجہ دی، نتیجہ یہ نکلا کہ بہت بڑی آبادی اور ہم سے (کئی اعتبار سے) نہایت کم وسائل کے باوجود اس کی معیشت اپنے پیروں پر کھڑی ہو گئی اور دوسری جانب وہ روبیل دکھا کر ڈالر اور ڈالر دکھا کر روبیل بھی جیب میں اینٹھتا چلا گیا۔ اس دوران خصوصاﹰ طویل آمریتوں میں جرنیلوں کے ’وسیع تر قومی مفاد‘ کے نعرے میں قومی مفاد ایک اضافی چیز تھی، زیادہ ضرور ’وسیع تر‘ پر تھا۔

ملک ٹوٹ جانے اور ایک نئی فیڈریشن کے قیام کے دس سال امریکا کی بابت سخت غصہ رہا۔ بھٹو صاحب بھی مشرقی پاکستان میں امریکی عسکری مداخلت نہ ہونے اور فوج کے ہتھیار ڈالنے پر مجبور ہو جانے پر امریکا پر برہم تھے اور یہ وہ وقت تھا کہ ڈالروں کی آمد کا سلسلہ بند ہو گیا اور اسی دوران کچھ روبیل پاکستان آئے۔

تاہم ڈالر کا چسکا منہ کو لگ جائے، تو کسی اور کرنسی کا ذائقہ جی کو نہیں بھاتا۔ اس لیے بھٹو کو ’وسیع تر قومی مفاد‘ میں پھانسی پر لٹکایا گیا اور واشنگٹن سرکار کو مشورہ دیا گیا کہ اگر وہ ڈالروں کا سلسلہ دوبارہ شروع کرے، تو ہم اپنے ملک کی سلامتی داؤ پر لگانے کو تیار ہیں۔ ڈالر تواتر سے ملتے رہے، تو ہم روبیل کو ختم کر دیں گے۔ واشنگٹن کو یہ بات پسند آئی اور اپنے بدترین دشمن کے خاتمے کے لیے اس نے ضیاالحق کے لیے ڈالروں کے ڈھیر لگا دیا۔

جرنیل صاحب نے قوم کو بتایا کہ اسلام کو روبیل سے خطرہ ہے اور اس کا تحفظ صرف اور صرف ڈالر سے ہو سکتا ہے اس لیے ڈالر کے لیے جہاد کرو۔ پورا ملک جہاد سازی کی فیکٹری بنا دیا گیا۔ اسکولوں کے نصاب تبدیل ہوئے، ٹی وی پر نسیم حجازی چھا گئے اور ایئروولف جیسی امریکی فلمیں، جب کہ امریکا ہیلی کاپٹر سوویت یونین کے مگ جہاز بھی مار گراتا تھا۔

جب امریکا کی بندوق، امریکا کے گولوں، امریکا کے ٹینکوں اور اسٹنگر میزائلوں اور ہماری ذہنی اور جسمانی لاشوں کے میناروں پر  سوویت روبیل دریائے آمو میں دفن ہو گیا، تو ڈالر پھر بند ہو گئے۔ ادھر گھر کا پچھوڑا خون میں نہاتا چلا گیا۔ ہم نے کسی عادی ہیرونچی کی طرح دھائیاں دیں کہ خدارا ڈالر بند نہ کریں، مگر انکل سیم نے ہمارے ڈالروں کے نشے میں ٹوٹتے جسم کی پروا نہ کی اور اپنا کام نکلوا کر چلتا بنا بلکہ الٹا براؤن اور پریسلر ترمیم لا کر پاکستان پر ڈالروں کی پابندی تک لگوا دی، مقصد یہ تھا کہ پاکستان جوہری پروگرام بند کر دے۔

جیسے تیسے کر کے پاکستان نے لیکن جمہوری دور میں ایٹم بم پر کام جاری رکھا اور جمہوری دور میں جس پروگرام کی بنیاد رکھی گئی تھی اور اور جمہوری دور میں دھماکے کر کے جوہری طاقت بھی بن گیا۔

ادھر نئے جرنیل پرویز مشرف صاحب نے دیکھا کہ دھماکوں کے بعد تو ڈالروں پر پابندی طویل ہو سکتی ہے، اس نے کارگل میں حملہ کر دیا۔ پھر اس کے بعد فوراﹰ اقتدار پر قبضہ کر لیا کہ کسی طرح سے ’چیف ایگزیکٹیو‘ کی سیٹ پر بیٹھ کر ڈالروں کی آمد ورفت کا کوئی سلسلہ بنایا جائے۔

اس دوران امریکا میں گیارہ ستمبر کے حملے ہوئے، تو جنرل مشرف نے اپنے فوجی اڈے، ملکی سالمیت، پاکستانی شہری اور سرزمین سب کچھ امریکا کے حوالے کر کے ڈالروں کے لیے اپنے ٹوٹتے نشے کو سکون بخشا۔

اس دوران ڈروان پاکستانی قبائلی علاقوں میں ہزاروں افراد کو دہشت گرد قرار دے کر ہلاک کرتے رہے اور مزے کی بات یہ ہے کہ یہ سارے دہشت گرد بھی وہی تھے، جو خود جرنیلوں ہی نے ڈالر لے کر تیار کیے تھے۔ قبائلی علاقوں میں سینکڑوں مکانات، اقتصادی ڈھانچا، مال مویشی سب کچھ تباہ کروا دیا گیا، مگر ایک طرف ڈالر لیتے رہے اور دوسری طرف شدت پسندوں کو اپنا اسٹریٹیجک اثاثہ قرار دے کر بچائے بھی رکھا کہ شاید مستقبل میں پھر ڈالر درکار ہوں، تو یہ یہ مروانے کے کام آئیں۔

ہم نے تو جب سے ہوش سنبھالا ہے قبائلی علاقوں کو ’علاقہ غیر‘ ہی سنا ہے، جیسے یہ علاقہ پاکستان نہ ہو غیروں کا ہو۔ یعنی علاقہ بھی غیر اور اس پر رائج قانون ایف سی آر بھی غیروں کا بنایا ہوا۔

یہ جو دہشت گردی ہے اس کے پیچھے کوئی نہ کوئی تو ضرور ہو گا؟ کوئی نہ کوئی تو اس کا ذمہ دار ہے؟ کوئی نہ کوئی تو ہے، جس کی وجہ سے اس قوم نے 20 ہزار فوجی جوانوں سمیت 70 ہزار انسانوں کی لاشیں اٹھائی ہیں۔ سوال ایسے میں یہ آتا ہے کہ ملک میں شدت پسندی کو فروغ کس نے دیا؟ ملک میں دہشت گردی کہ وبا کون لایا؟ ملک میں جہادی کس نے بنائے؟ ملک میں ان جہادیوں اور کالعدم تنظیموں کو اپنا اثاثہ کس نے قرار دیا؟ ملک میں نصاب میں تبدیلیاں کر کے ہمارے بچوں کے ذہنوں کو شدت پسندی کی جانب مائل کس نے کیا؟ ہمارے شہروں، دیہات، مسجدوں، مندروں، گرجاگھروں، اسکولوں، جامعات، بازاروں، سڑکوں، حکومتی اداروں، عسکری تنصیبات اور اقلیتوں پر حملوں کے درپردہ کون سی پالیسیاں تھیں اور ان پالیسیوں کو بنانے والے کون تھے؟

ڈالر لے کر پاکستان کی پرامن فضا کو کس نے برباد کیا؟ ڈالر لے کر ہماری مقدس سرزمین پر عسکری اڈے امریکا کو کس نے دیے؟ ڈالر لے کر ہمارے شہریوں کو گوانتانامو کس نے بھجوایا؟ ڈالر لے کر ہماری سرزمین پر ڈرون حملوں کی اجازت کس نے دی؟ ڈالر لے کر دہشت گرد تنظیموں کے سر پر ہاتھ کس نے رکھا؟ ڈالر لے کر اس ارض پاک کے سارے وجود کو لہولہان کس نے کیا؟ ڈالر لے کر ہمارے فوجی جوانوں اور عام شہریوں کو قربانی کا بکرا کس نے بنایا؟ اپنے آپ سے یہ سوال پوچھیے اور جب جواب مل جائے، تو اس جواب سے یہ خالی جگہ خود ہی بھر دیجیے۔

نعرہ ہے یہ جو دہشت گردی ہے، اس کے پیچھے ______ ہے
خیر ان سوالات اور ان کے جوابات یا ملک میں تباہی کی اصل وجوہات پر تو آپ سوچتے رہیں گے۔ مگر میرے خیال میں دہشت گردی کے پیچھے ایک چیز بڑی واضح ہے اور وہ ہے، ڈالر۔ یہ نعرہ یوں بھی لگایا جا سکتا ہے، یہ جو دہشت گردی ہے، یہ ڈالر کی مرضی ہے۔

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here