عزیر سالار

ان دنوں خاتون اول کے انٹرویو پر مختلف پہلوؤں سے تنقید کی جا رہی ہے، ایک مکتبہء فکر ان کی مخالفت پر اور دوسرا دفاع پر اتر آیا ہے، اگرچہ یہ صحت مندانہ عمل ہے لیکن اس موضوع میں سب سے پیچیدہ اعتراض ان کے حق انتخاب، چاہے وہ رشتوں کی صورت ہو یا لباس کی، اٹھایا جا رہا ہے دوسری طرف اس اعتراض کو سرے سے بوگس کہہ کر حوصلہ شکنی کی جا رہی ہے۔

اسی مشکل موضوع کو اختصار کے ساتھ سمجھنے کی کوشش کرتے ہیں۔

سوال: کیا کسی کے حقِ انتخاب پر تنقید ہو سکتی ہے؟

جواب: جی ہاں! حقِ انتخاب سے اگر معاشرے میں مسائل پیدا ہونے کا اندیشہ ہو تو تنقید کی گنجائش نکلتی ہے، آپ جائز تنقید کو کس بنیاد پر روک سکتے ہیں؟

سوال: تو پھر تو ہمیں ہر ایک کا یہ حق تسلیم کرنا پڑے گا کہ اگر اُسے میرے حق انتخاب سے کوئی مسئلہ ہے تو وہ تنقید کر سکتا ہے؟

جواب: ظاہر ہے کر سکتا ہے، اور کرتا بھی ہے، یاد رکھیں تنقید سے کوئی روشن خیال نہیں ڈرتا، تنقید سے فرسودہ خیال رکھنے والے ڈرتے ہیں۔

ہم جانتے ہیں کہ تنقید ہی اول مباحثے کو جنم دیتی ہے، مباحثہ وقت گزرنے کے ساتھ مکالمہ بن جاتا ہے اور مکالمے سے گفتگو کا آغاز ہوتا ہے چونکہ گفتگو انسانیت کی معراج ہے تو اس سے لازماً نتائج نکلتے ہیں، taboo ٹوٹتے ہیں۔

انسانوں نے آج تک جو کچھ بھی achieve کیا ہے ، اس میں سے بڑا حصہ گفتگو کا ہی نتیجہ تھا اور جیسا کہ ہم سمجھ چکے ہیں کہ گفتگو تنقید سے شروع ہوتی ہے مباحثے سے ہوتی ہوئی مکالمے تک جاتی ہے اور نتیجہ خیز بنتی ہے۔

سوال: اس کا مطلب تنقید کو نا روکا جائے اور جس کے منہ میں جو آئے کہتا رہے؟

ج: جی اصولاً تو تنقید کسی پر بھی ہو سکتی ہے…، یہی روشن خیالی اور آزادی اظہار رائے ہے!

لیکن ناقد کو تنقید کرتے وقت معاشرے میں عدم استحکام پیدا ہونے، نقص امن یا کسی نقصان کا اندیشہ ہو تو ایسی تنقید کو ’’ہیٹ سپیچ‘‘ یا ’نفرت انگیزی‘ کے زمرے میں لا کر ممنوع قرار دیا جا سکتا ہے، لیکن یاد رکھیے ییٹ سپیچ کا کوئی معیار نہیں سوائے اس سے کہ وہ سوسائٹی کے امن کو مجروح کرتی ہو، یہی وجہ ہے کہ دنیا بھر میں ہیٹ سپیچ کے مقامی معیارات رائج ہیں۔

بعید از قیاس نہیں کہ آنے والے وقت کا انسان اتنا باشعور (صوفی یا مشینی) ہو جائے گا کہ ہیٹ سپیچ بھی اس کے لئے کوئی معنی نہیں رکھے گی۔