سردار اشفاق عباسی

 

کشمیر جوکہ چندانسانوں یاکسی بھی ایک ملک کا مسئلہ نہیں ہے بلکہ دوکروڑ کشمیریوں کی زندگی اورمستقبل کامسئلہ ھے جوکہ تقسیم پاک وہندسے اب تک پچھلے 70سال سے پاکستان اور انڈیا نے دونوں اطراف کے بے سہارا کشمیریوں کو اپنے زیرکنٹرول رکھ کر عالمی دنیا کیلیے بھی بہت بڑی الجھن بنارکھی ھے اور اس مسئلے کاحل بھی نکالنے کے بجاے دن بدن الجھاے جارہے ہیں دونوں اطراف بےگناہ کشمیریوں پرظلم وجبر کے پہاڑ توڑجا رہے ہیں انڈیا جو ایک بڑی ڈیموکریسی والاملک ھونے کادعوہ کرتاھے وہ مقبوضہ کشمیر میں کوہی بھی موقح ہاتھ سے جانے نہیں دیتا جس میں روزانہ کی بنیاد پر کتنے معصوم نوجوانوں، بوڑھوں خواتین وبچوں کو ہراساں کرتے، عزتیں لوٹتے اور فیک انکونٹر میں قتل کردیتے ہیں لیکن ان کو غلط ثابت کرنے کیلیےجھوٹ کا سہارا لیکر ان کو دہشت گردی کالیبل لگاتے پھرتے ہیں اور پھرانڈین میڈیا اور باقی ادارے جھوٹوں کادفاع کرتے نطرآتے ہیں ہر روز ہزاروں کشمیری مرد وخواتین انڈیا کے آے روز بڑھتے مظالم سے تنگ آکر روزانہ آزادی کے حق میں لاشیں اٹھاکر مظاہرے کرتے ہیں پوری دنیا اس بربریت کو سرعام دیکھ رہی ہے لیکن یہ بات سمجھ سے بالاتر ھے کہ عالمی ادارہ حقوق انسانیت UNO اور انسانی حقوق کےلیے سرگرم تنظیمیں بھی یہ دیکھنے سے قاصر ہیں یاپھر آنکھوں پر پٹی باندھے ہوئے ہیں یا انسانیت کانام بیچ کر صرف سوئس بینکوں کوبھرنے کیلیے بناہی گہی ہیں اور ان کے افراد بھی انسانی ہمدردی سے بالکل ناآشنا ہیں حالانکہ آئے روز والدین اپنے جوان بیٹوں کی لاشیں اپنے ہاتھوں سے دفن کرتے ھیں تو قیامت سے پہلے ان پر قیامٹ ٹوٹ پڑتی ھے اور وہ زندگی اور موت کی کشمکش میں پل پل مرتے ہیں وہ اپنی درد بھری داستانیں ہرفورم کے تھرو عالمی دنیا تک پہنچانے کی کوشش کرتے ہیں لیکن آخر ان غریب اور بے سہارا کشمیریوں کی آواز سنے کون؟

بھلا ان کشمیریوں سے کوئی پوچھے یہ دھرتی تمھارے لیے توبنی ہی نہیں یہاں پیداہی کیوں ھوے تھے اس دلھن سی سجی دھرتی جسے دنیا میں جنت کے نام سے جاناجاتا ھے یہاں تو بڑے بڑے رہیسوں اور عظیم ساہنسدان اسٹیفن ہاکنگ کوپیدا ھونا چاہیے تھا جو دنیا کو اس دھرتی کی خوبصورتی اور دخاہر کے بارے میں بتاکر یہاں راغب کرسکتا اور توجہ حاصل کرسکتا لیکن ایسا اب ناممکن ھے عالمی دنیا یہ جانتے ھوے بھی کہ آر پار دونوں قابض ممالک اس جنت سی دھرتی کے وساہل تولوٹ رھے ہیں لیکن جن بدقسمتوں کے وساہل لوٹے جارھے ہیں ان کو محروم تورکھے ہی ھوے ھے لیکن ساتھ ہی ان کے جان کے دشمن بھی بنے ھوے ہیں تقسیم وپاک وہند سے لیکر اب تک 70 سال سے مظالم کے بازار گرم کررکھے ھوے ہیں ان دونوں ممالک کی پالیسیوں سے بالکل واضح پیغام اس دیس کے باسیوں کیلیے ھے کہ یہ کشمیریوں کیلیے نہیں بلکہ کشمیر کی زمین کے لیے لڑ رھے ہیں ۔

قوم پرست اور نظریہ مقبول بٹ شہید کے نظریے کی حامی تنطیم JKLF نے گھرگھر پمفلیٹ تقسیم کرکے ایک کمپین لانچ کی کہ 16مارچ 2018 کولاہن آف کنٹرول پر فاہرنگ سے شہید اور زخمی اور بے گھر ھونے والے افراد سے اظہار یکجہتی کیلیے مدار پور سے تتہ پانی (پاکستانی زیرانتطام) کشمیر میں پیدل امن مارچ کرنے کی کال دی گہی جوکہ متاثرین سے یکجہتی کرنے اور ان کیلیے متبادل بستیاں بسانا، بروقت طبی سہولیات فراہم کرناتھا پاکستانی زیرانتطام کشمیر میں پہلی بار ایسا دیکھنے کو ملاھے کہ تمام کشمیری قوم پرست تنظیمیں نوجوان،عورتیں بچے اور ہرخاص وعام نے اس مارچ میں بڑھ چڑھ کرحصہ لیا جو کہ ہزاروں کی تعداد میں تھا۔

مارچ کے شرکاء مرد وخواتین اتنے پرجوش نطرآتے تھے کہ بالکل یہاں بھی سرینگر کاسا سماں بناھواتھا خیال کرنا ایک علحیدہ بات لیکن حقیقت میں تب وہاں کا ماحول ایک دم تبدیل ھوگیا جب امن مارچ کے شرکاء پر پولیس کی طرف سے پتھراو، آنسوگیس اور ڈاہریکٹ فاہرنگ شروع کردی گہی اس امن مارچ کی قیادت کرنے والے اور حق پرست جماعتوں کے سنہیر قاہدین نے باضابطہ طور پر یہ پیغام دیا تھا کہ مارچ بالکل پرامن ھوگا اور تصادم سے پاک ھوگا اس کے باوجود آزادکشمیر گورنمنٹ نے متعلقہ اضلاع کے سنیر پولیس افسران کوحکم دیاکہ کوٹلی (پاکستانی زیرانتطام) کشمیر میں دفعہ 144نافز کرکے تمام داخلی اور خارجی راستے ناکے لگاکر بندکردہیں پھربھی مارچ کی سنیر قیادت وہاں سے نکل کر مارچ میں شرکت کرنے میں کامیاب ھوگہی کشمیر کے تمام اضلاع سے بڑےبڑے قافلے جوق درجوق شرکت کرنے کیلیے تتہ پانی اور مدارپور پہنچ رھے تھے جگہ جگہ سے آزادی کے متوالے اپنے دیس کی آزادی کیلیے فلک شگاف نعرے (بندکرو بندکرو کشمیریوں کاقتل عام بند کرو، ہم کیاچاہتے آزادی) لگاتے ھوے کنٹرول لاہن کیطرف بڑھ رھے تھے اور جب مدار پور(پاکستانی زیرانتظام کشمیر) کے قریب سہرپل کے پاس پہنچے تو پولیس نے وہاں سے آگے جانے سے منح کردیا لیکن مارچ چونکہ LOC پرجاناتھا جس کامقصد بھی LOCپر متاثرین سے یکجہتی کرناتھا تو انھوں نے انکار کر دیا حالانکہ اتنا بڑا انسانوں کاسمندر دیکھ کر ملحقہ انڈین آرمی کی پوسٹوں پر بھی سفید رنگ کے جھنڈے لہرا دہیے گہے لیکن پھر بھی پولیس پل کوگھیرے میں لے کر مارچ کے شرکاء پر بالکل سیدھی فاہرنگ شروع کردی جس سے حالات بہت کشیدہ ھوگہے جس کیوجہ سے بہت سے پیسفل مظاہرین زخمی بھی ھوے جن میں صحافی اور خواتین و مرد بھی شامل ہیں(Jklf کے ایک عہدارنعیم بٹ آج تیسرے دن بھی اسلام آباد PIMS ہسپتال) کومے میں ہیں۔

سوشل میڈیا پرموجود درجنوں تصاویر اور ویڈیوز اس کا منہ بولتا ثبوت ہیں کہ شرکاء کیطرف سے اعلان بھی کیاجارہاھے کہ ہم پرامن ہیں انتطامیہ ھوش کادامن ہاتھ سے نہ چھوڑے لیکن پولیس کی بندوقوں کے منہ ایسے آگ اگل رھے تھے کہ آج مدار پور (پاکستانی زیرانتظام کشمیر) بھی بالکل دوسرا سرینگر بنا ھوا تھا اور ہربندوق سے نکلنے والی گولی کشمیریوں کو یہ پیغام دے رہی تھی کہ دونوں ممالک کشمیریوں کے محافظ نہیں بلکہ ان کے خون کے پیاسے ہیں جس کے بارے میں JKLF کے چہیرمین یاسین ملک نے سرینگر سے اقوام متحدہ کو ایک خط میں واضح طور پر پیغام دیا ھے کہ اس امن مارچ پر ھونے والے مظالم کی تحقیقات کراہی جاے دونوں اطراف دونوں ممالک اولیاء کی سرزمین کشمیر پر پہلے سے ہی اپنی افواجوں کے زریعے قبضے جماے ھوے ہیں لیکن اب اس دھرتی پربھی مکمل کنٹرول چاہتے ہیں حالانکہ انڈیا کی نسبت پاکستان ایک جمہوری اور اسلامی ملک ھے اور دوقومی نظریے کی بنیاد پر بنایاگیاتھالیکن کونسی جمہوریت اور کون سانظریہ جہاں کسی پاکستانی کوتو کیا ایک علیحدہ ریاست جموں وکشمیر کی عوام کوبھی اظہار راے کی آزادی حاصل نہیں ھے اگر کوہی اپنے وطن کی آزادی کی بات کربھی لے تو دہشت گرد اور انڈین اور پاکستانی ایجنٹ کا خطاب دیا جاتاھے اور اپنے وطن میں رھتے ھوے بھی وفاداری کے سرٹیفیکیٹ دینے پڑتے ہیں ایسی باتیں سمجھ سے بالکل بالاتر ہیں آخر آزادی کی بات کرنا کون سا اور کتنا بڑاجرم ھے۔؟

حالانکہ حکومت عزاب کشمیر کو چاہیے تھا کہ امن مارچ کے قدم سے قدم ملاکر متاثرین کیساتھ اپنی ہمدردیاں جتاتے لیکن حالات امید سے بالکل مختلف نکلے لیکن آنے والے وقت میں اس کے عوض سنگین نتاہج برآمد ھونگے جوکہ قابضین کی صحت کیلیے مضر ثابت ھوں گے مطلب ایسے کہاجاے کہ پاکستان میں بھی تحریک آزادی کشمیر جوپہلے ٹوٹ پھوٹ کاشکار تھی اب کی بار تمام قوم پرست جماعتیں منظم ھوکر ایک بھوکے شیر کی طرح حملہ آور ھونے کیلیے اپنا پلان تیار کرہی ہیں جس کے اثرات دونوں اطراف کشمیر اور دنیا کے مختلف ممالک میں اگلے چند روز سے دیکھنے کو ملے گا۔
(میرے وطن توایک نہ ایک دن ضرور آزاد ھوگا
مقبول بٹ شہید)

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here