وقاص احمد

بہت پرانی تاریخ ہے جھوٹ کی۔ اگر کھوجیں تو جنت میں آدم علیہ السلام کو ورغلانے والے شیطان نے بھی اسی کا استعمال کیا تھا۔ لیکن کمال یہ ہے کہ اس وقت سے لیکر آج تک اس جھوٹ نے سچائی پر کبھی دائمی فتح حاصل نہیں کی۔ زمانہ قدیم کے فلاسفروں سے لیکر زمانہ وسطیٰ کے سائنسدانوں تک، جس جس کو زمانے بھر نے جھوٹا کہہ کر واجب القتل ٹھہرایا ان کو سینکڑوں سال بعد ہی سہی لیکن وقت نے سچا ثابت کیا۔ آج ہم ان عظیم دانشوروں کے نام اور کام تو جانتے ہیں مگر ان بادشاہوں، ان مذہبی غنڈوں، ان نالائق، بکاؤ قاضیوں کا نام بھی کوئی نہیں جانتا جنہوں نے انہیں قتل کروایا، قید کروایا اور اپنے گھروں سے دربدر کیا۔

جھوٹ ایک ایسا ہتھیار ہے جس کو استعمال کرنا بے حد آسان ہے۔ اتنا آسان کی کوئی کند ذہن، بیمار سازشی ذہن بھی اس بہت آرام سے استعمال کرسکتا ہے۔ اور اگر وہ سازشی ذہن شاطر و چالاک بھی ہوں تو ایک دو بندے کیا، ایک ملک بلکہ پورے دنیا کو بھی اس جھوٹ کا اسیر کیا جاسکتا ہے۔ استعمال کا طریقہ بہت سادہ ہے۔ دو نکات میں سمجھا دیتا ہوں۔

1- ایسا جھوٹ بولو جس میں سنسنی، مرچ مصالحہ، ہوشربا اور ناقابلِ یقین باتیں بھری ہوئی ہوں۔

2- اعتماد سے جھوٹ بولو اور اتنا بولو، اتنا دہراؤ، اتنا پھیلاؤ کے وہ جھوٹ سچ لگنے لگے۔

ان دونوں باتوں کو ایک فرضی مثال سے سمجھاتا ہوں۔ مثلاً اگر کوئی میری ذات پر چوری یا کرپشن کا کوئی جھوٹا الزام لگانا چاہے تو اسے چند ہزار یا چند لاکھ کا الزام نہیں لگانا چاہیے۔ یاد رکھیں کہ چھوٹے موٹے الزامات کو نا لوگ اہمیت دیتے ہیں نا ہی اس پر کان دھرتے ہیں، لوگ سنسنی خیز خبر پسند کرتے ہیں۔ تو پہلے مرحلے میں آپ الزام یہ لگائیں کہ وقاص جس کمپنی میں ملازمت کرتا ہے وہاں اس نے کروڑوں روپے کا گھپلا کیا ہے، اس نے کنٹریکٹرز سے لاکھوں روپے کا ماہانہ خرچ بھی لگوایا ہوا تھا اور جعلسازی سے اپنی ہی ایک فرضی کمپنی کو کروڑوں کے ٹھیکے بھی دلوائے اور وقاص کی کمپنی میں اس کے خلاف تحقیقات بھی چل رہی ہیں۔

اب یہ وہ الزام ہے جس پر دنیا نا صرف چونکے گی بلکہ اس کی طرف متوجہ بھی ہوگی۔ یہاں آتا ہے دوسرا اور اہم ترین مرحلہ۔ “اعتماد اور تکرار”. ذہن میں رہے کہ اگر آپ نے “شاید” یا پھر “میرا خیال ہے” جیسے الفاظ استعمال کئے تو آپ کے جھوٹ کی عمارت دھڑام سے گر جائے گی۔ سو آپ کے الفاظ کچھ ایسے ہونے چاہیں:

“بھائی میں تو عینی شاہد ہوں اس کی کرپشن کا۔”
“یار میں نے تو اپنی آنکھوں سے وہ ثبوت دیکھے ہیں۔”
“جناب جو کنٹریکٹر اسے ماہانہ دیتے تھے انہوں نے میرے سامنے سب کچھ اگل دیا ہے” وغیرہ وغیرہ۔ اس کے بعد رہ جاتی ہے تکرار۔ سوشل میڈیا پر چند درجن پیجز بنائیں، واٹس ایپ گروپس اور اگر دشمنی زیادہ ہے تو کسی 2 روپے والے بلیک میلر اخبار یا کسی دو ٹکے کے صحافی کا سہارا لیں اور اس بات کو اتنا دہرائیں، اتنی تکرار کریں اتنا گھسیٹیں کہ لوگ لاشعوری طور پر اس بات کو اپنے دماغ میں جگہ دے دیں ایسے ہی جیسے بھری بس میں کراری نمکو یا ہاضمے کی پھکی بیچنے والا اپنے الفاظ کی تکرار، پراڈکٹ کی تعریفوں اور چرب زبانی استعمال کرتا ہوا بیشتر سواریوں کو اپنی گھٹیا پراڈکٹ آرام سے بیچ جاتا ہے۔ اگر آپ یہ دو مرحلے بتائے گئے طریقے کے مطابق مکمل کر لیں تو چاہے وہ کمپنی خود یہ تک کہہ دے کہ تحقیقات تو کیا، وقاص نام کا کوئی بندہ ہماری کمپنی میں کام ہی نہیں کرتا تو اس سے بھی کوئی فرق نہیں پڑے گا کیونکہ آپ الفاظ کی تکرار سے لوگوں کے لاشعور میں ایک فیصلہ کن بات بٹھا چکے ہیں کہ وقاص کرپٹ ہے اور اب ان کا اپنا ذہن خود اس دفاعی پوزیشن پر چلا گیا ہے کہ اگر انہوں نے تسلیم کرلیا کہ وقاص بے قصور ہے تو وہ غلط اور جھوٹے ثابت ہوجائیں گے جو انہیں کسی صورت قابلِ قبول نہیں۔

زمانہ حال میں یہ طریقہ واردات بے شمار مواقع پر انتہائی کامیابی سے استعمال ہوا۔ ایک عالمی مثال لے لیتے ہیں۔ جارج بش جونیئر نے کہا کہ عراق کے پاس weapon of mass destruction ہیں۔ کیمیائی اور ایٹمی ہتھیاروں کی عراق میں موجودگی نے پوری دنیا میں سنسنی پھیلا دی (پہلا مرحلہ: سنسنی خیزی). پھر اس جھوٹ کو عالمی میڈیا کے ذریعے اتنا پھیلایا، اتنا دہرایا اور اتنا راسخ کیا گیا کہ پوری دنیا یک زبان ہو کر عراق کے خلاف کاروائی پر متفق ہوگئی (دوسرا مرحلہ: اعتماد اور تکرار)۔ دنیا کی سب سے خوفناک امریکی جنگی مشینری حرکت میں آئی اور عراق پر پل پڑی۔ اربوں ڈالر کے میزائل، بم اور دیگر ہتھیار بارش کی طرح اس ملک پر برس پڑے اور دیکھتے ہی دیکھتے 10 لاکھ عراقی لقمہ اجل بن گئے۔

ایک جھوٹ، صرف ایک جھوٹ 10 لاکھ لوگوں کی جان لے گیا، ہنستا بستا ملک اجڑ گیا، ایک مستحکم حکومت ختم ہوگئی، ملک کا حکمران پھانسی چڑھ گیا اور خطہ ایک نامعلوم وقت کے لیے شدید عدم استحکام کا شکار ہوگیا۔

لیکن اتنے طاقتور جھوٹ کا بھی ایک مسئلہ ہے اور مسئلہ وہی ہے جو کالم کے شروع میں بتایا کہ جھوٹ کو سچ پر کبھی دائمی فتح نہیں ملی۔ اسی جھوٹ کے پھیلانے والوں میں سے ایک اہم ترین کردار ٹونی بلئیر کو اعتراف کرنا پڑا کہ عراق میں ان خطرناک ہتھیاروں کی موجودگی کی اطلاع ایک جھوٹ تھی جس پر وہ شرمندہ ہے۔ خیر اب ان کی شرمندگی نا تو ان مرے ہوؤں کو زندہ کر سکتی ہے نا ہی اس بدحال ملک کی خوشحالی لوٹا سکتی ہے۔

وطن عزیز میں بھی ایسے چند جھوٹ حال ہی میں بے نقاب ہورہے ہیں۔ جن میں سب سے اہم ترین وہ جھوٹ ہے جس کا پول ابھی چند دن پہلے اسلام آباد ہائیکورٹ میں کھلا۔ جھوٹ بنانے، لانچ کرنے اور پھیلانے والوں نے اوپر بتائے گئے دونوں مرحلوں کو انتہائی مہارت اور خوبصورتی سے مکمل کیا۔ 3000 کروڑ کی منی لانڈرنگ، 1800 ارب روپے کی کرپشن، کھربوں روپے کے فلیٹس، سات براعظموں میں کاروبار، 5 ارب ڈالر کی دشمن ملک میں انوسٹمنٹ، کھا گئے، پی گئے، ڈکار گئے، ہضم کر گئے، باپ کا مال سمجھا ہے، غدار، کافر، سکیورٹی رسک، کرپٹ، چور وغیرہ وغیرہ وغیرہ کی ہیجان خیز سنسنی پھیلائی گئی۔

2016 کے اوائل سے شروع کردہ اس ہیجان خیز ڈرامے نے چند ہم وطنوں کے دماغوں کو اتنا مفلوج کر دیا کہ کوئی یہ بھی نا سوچ سکا کہ جناب یہ “سینکڑوں ارب روپے” کی کرپشن کے الزامات ہیں، کوئی مرغی چوری کا الزام تو نہیں جس کا کھرا نا ملا سکے۔ آخر ملک کے مجموعی قومی پیداوار سے زیادہ مالیت کی کرپشن آپ نے ایک بندے سے منسوب کر دی ہے (جو بذات خود ایک مضحکہ خیز الزام ہے) تو یہ پیسے کہیں سے تو نکلے ہوں گے ناں؟ کسی کی تو چوری ہوئی ہوگی نا؟ کوئی منصوبہ ہی ہوگا نا جس میں کرپشن یا کک بیکس چلیں؟ یا کوئی محکمہ ہی ہوگا نا جس کے خزانے کو چوری کر لیا گیا؟ تو مدعی کون ہے، جرم کہاں ہوا ہے؟ رقم کس خزانے سے نکلی، چوری کہاں ہوئی ہے؟ کتنی ہوئی؟ انہی کا جواب دے دو۔

بہرحال ایک جھوٹ کے پروں پر اڑتا ہوا ایک مقدمہ دعوؤں، الزامات کی تکرار، میڈیا کی چیخ چنگاڑ، ناولوں اور فلاسفروں کے حوالوں، جے آئی ٹی کے کارناموں اور نیب کی جہالتوں سے گزرتا ہوا پہلی دفعہ، جی ہاں پہلی دفعہ ایک اعلیٰ عدالت میں پیش ہوا تو معلوم ہوا کہ نا تحقیقاتی ادارے کے پاس ثبوت تھے نا مرکزی گواہ کو یہ معلوم تھا کہ مبینہ طور پر اس کی اپنی سربراہی میں بننے والی رپورٹ کے اہم ترین حصے کس فرد واحد نے بنائے، کب بنائے اور کیسے بنائے۔ جے آئی ٹی کی آٹھ ہزار صفحات کی رپورٹ، نیب کی چھ مہینے کی خباثت، مشہور زمانہ “والیم 10” کی کل ملا کر اتنی ہی اوقات تھی کہ 4 پیشیوں کے اندر اندر تمام “مبینہ مجرم” ضمانت پر جیل سے باہر آ چکے ہیں اور اب ان کی اپیلوں کی سماعت جاری ہے۔ خیر اب چونکہ نیب کچھ نیا تو جمع کروا نہیں سکتا تو پرانے مال پر یہ ڈرامہ کتنی دیر اور گھسیٹ لیا جائے گا یہ معلوم نہیں۔

اس دوران پاکستان کی ٹیک آف کرتی معیشت، مالی اعداد و شمار، سٹاک مارکیٹ کی پروازوں، غیر ملکی انوسٹرز کی دلچسپیاں، روپے کی مستحکم قیمت، ترقیاتی منصوبے، سی پیک کی رفتار، عالمی مالیاتی اداروں کی طرف سے مثبت رپورٹس، غیر جانبدار مالیاتی اداروں کی طرف سے پاکستان کی مستحکم مالیاتی پوزیشن کی تعریف سب تباہ ہو چکا ہے۔ لیکن ہمیں کیا؟ یہ کون سا ہمارا ملک ہے؟ یہ ملک تو اس کا ہے جو ملکی بجٹ کا بڑا حصہ ڈکارنے کے بعد “ہل من مذید” کے نعرے لگاتا ہے اور انکار کرنے والوں کو عبرت کا نشان بنا دیتا ہے۔ یہ ملک اس خون آشام بلا کا ہے جو بھوک بڑھنے پر اپنی ماں کو ہی نوچ نوچ کر کھا جاتی ہے۔ کچھ لوگ ہیں جو اس جھوٹ کی حقیقت جانتے ہیں، کچھ ہیں جن میں ٹونی بلئیر کی طرح اخلاقی جرات ہے کہ مان سکیں کہ ہاں ہم ایک جھوٹ کا شکار ہوئے لیکن بدقسمتی سے زیادہ تعداد انہی لوگوں کی ہے جن کا دماغ اس دفاعی سٹیج پر پہنچ گیا ہے جہاں وہ کسی کے بولے ہوئے جھوٹ کو اپنی عزت اپنی انا کا مسئلہ بنا چکے ہیں۔ انہیں ڈر ہے کہ اگر انہوں نے تسلیم کرلیا کہ وہ جھوٹے تھے تو ان کی عزت کم ہوگی۔ وہ کل کے جھوٹ کو بچانے کے لیے روز نیا جھوٹ بولتے ہیں، روز نئی تاویل دیتے ہیں، روز نئی “خبر” گھڑتے ہیں مگر۔۔۔ مسئلہ وہی جو بولا ہے۔۔۔۔جھوٹ کو سچ پر کبھی دائمی فتح نہیں ملی۔