عفاف اظہر

 

مغرب کے سینیئرز ہومز یا اولڈ ہومز کی بابت ہمارے ہاں بہت بڑا مغالطہ پایا جاتا ہے۔ دوسرے الفاظ میں مغرب کے معاشرے کو بدکردار، بد فعل و بد اخلاق ثابت کرنے کے لیے ایسی غلط فہمیاں جان بوجھ کر پیدا کی جاتی چلی آ رہی ہیں۔ پہلی بات تو یہ ہے کہ یہاں مغرب میں ان مراکز کو اولڈ ہوم کہنا بھی بد اخلاقی کے زمرے میں آتا ہے۔ اس لیے انہیں یہاں سینیئرز ہوم/ سینٹرز کہا جاتا ہے۔ ہمارے ہاں ایسی غلط فہمیاں بہت جلدی ذہنوں میں گھر کر جاتی ہیں کیوں کہ ہم انسانی فطرت سے کلی طور پر نا واقف لوگ ہیں یا کم از کم اس بابت علمی سطح پر نہایت پست۔ ورنہ زندگی کی سب سے بنیادی حقیقت تو یہی ہے کہ والدین اور بچوں کی محبت ہر جان دار کا فطری و بنیادی جزو ہے، تو پھر کیسے ممکن ہے کہ مغرب میں جن کی معاشرتی و خان دانی طرز زندگی فطرت سے ہم آہنگی کا مظہر ہے، وہاں اس معاشرتی عمارت میں اس بنیادی جذبے ہی سے روگردانی کی جائے؟

 

میں نے ایک نوجوان کولیگ جو یہاں پیدا ہو کر پلی بڑھی، برسوں کام سے ایک گھنٹا بغیرتتنخواہ لیے چھٹی لے کر باقاعدہ سینیئرز ہوم جاتے دیکھا ہے کیوں کہ اس کی دادی کو بڑھاپے کے سبب ہر لمحہ طبی نگہداشت کی ضرورت تھی۔ دادی یادداشت کھو چکی تھیں اور کسی کے ہاتھ سے کھانا نہیں کھاتی تھی، سوائے اپنی پوتی کے جس کو انہوں نے پالا تھا اور پوتی کا صبح کام پر آنے سے پہلے سینیرز ہوم جانا اور اپنی دادی کو ناشتہ کروا کر دفتر آنا، دوپہر کو ایک گھنٹے کے لیے پھر دفتر سے دادی کے پاس جاکر انہیں کھانا کھلانا اور کام کے بعد پھر وہاں سے ہو کر گھر جانا، برسوں اس کا معمول رہا۔

میری ایک بوڑھی ہم سائی پاگل پن کی حد تک ڈپریشن کی مریضہ تھی، بچے آخری لمحوں تک اس کی دیکھ بھال کرتے رہے، جب معامله ہاتھ سے نکلا اور خطرناک ہوا تو انہیں سینیئرز ہوم منتقل کرنا پڑا۔ کوئی نہ کوئی روزانہ وہاں ضرور جاتا اور ہر ویک اینڈ پر دو دن کے لیے انہیں گھر  لایا جاتا۔ اب یہاں سوال یہ اٹھتا ہے کہ یہاں سینیئرز ہومز کے قیام کا آخر مقصد کیا ہے؟

سینیئرز ہومز بھی یہاں موجود کمیونٹی سینٹرز کی ہی ایک شاخ ہیں، جو ہر علاقے میں قائم ہوتے ہیں اور اچھا خاصا فنڈ ان کے لیے حکومت کی طرف سے مقرر ہوتا ہے۔ موسم کی سختی، کام کی تلخی  اور زندگی کے اس تسلسل سے چلتے پہیے میں۔ نوجوان طبقہ تو اپنی پوری قوت و توانائی سے ہر پل بھاگتا دوڑتا رہتا ہے۔ ہاں مگر کم زور افراد کا یہاں موسم کی تلخیوں سے متاثر ہونا بہت آسان ہے اور یہی وجہ ہے کہ بچوں کے لیے کمیونٹی سینٹرز اور بزرگوں کے لیے سینیئرز ہوم قائم کیے جاتے ہیں۔

سال بھر میں فقط تین ماہ کی گرمیوں کے بعد نو ماہ کا طویل ترین عرصہ سخت سردی کا ہے، جس میں زندگی کے کام لیکن کہیں نہیں رکتے، ہاں مگر بزرگوں اور بچوں جن کی عمر کی بنا پر زندگی کا انحصار بہت حد تک بیرونی حالات پر ہوتا ہے، انہیں ایسی حالت میں مدد کی ضرورت ہوتی ہے۔

شدید سردیوں کی وجہ سے اگر کوئی اچھا خاصا بھاگتا دوڑتا انسان ناکارہ ہو کر گھر بیٹھ جائے تو ذہنی تناؤ اور ڈپریشن خود بہ خود پیدا ہونے لگتا ہے، اسی لیے کمیونٹی سینٹرز اپنے اپنے علاقے کے بچوں کے لیے ان کی عمر کی مناسبت سے ایسی بہت سی جسمانی سرگرمیاں بڑھا دیتے ہیں، جن میں حصہ لینے سے  ان بچوں کی ذہنی اور جسمانی نگہداشت ممکن ہو۔

ہو بہ ہو اسی طرح یہاں سینیئرز ہومز بھی ہیں، جہاں بزرگوں کی جسمانی و ذہنی صحت کے مطابق ہر سہولت موجود ہوتی ہے۔ ایک ہی چھت تلے ان کی عمر کی مناسبت سے پورا ایک نظام موجود ہوتا ہے۔ ان کے ہم عمر بزرگوں کے گروہ وہاں آپس میں ملتے گپ شپ کرتے ہیں، جسمانی طور پر ان کی صحت کے مطابق انہیں مختلف کھیل کھلائے جاتے ہیں۔ حتی کہ بزرگ خواتین کو اون، کپڑے اور مردوں کو طرح طرح کے آلات دیے جاتے ہیں کہ وہ وہاں فارغ اوقات میں اکٹھے بیٹھ کر گپ شپ کے دوران اپنے ہاتھوں سے گرم سویٹر، کپڑے، ٹوپیاں، کھلونے اور اپنی من پسند دیگر اشیاء بتاتے رہیں۔

چلڈرن ایڈ سوسائٹی، یہاں لاوارث بچوں کی کفالت کا حکومتی ادارہ ہے، جسے سب سے زیادہ سرمایہ ہر سال انہی سینئرز ہومز سے ہاتھ کے بنے کپڑوں اور کھلونوں کی وجہ سے ملتا ہے اور جن بزرگوں کی ذہنی و جسمانی صحت کو کسی نگہبان کی ضرورت درکار ہوتی ہے،  انہیں گھروں میں رکھنا یہاں کی زندگی کے حساب سے سراسر زیادتی کے زمرے میں آتا ہے۔ سینیئرز ہومز میں ہر وقت ڈاکٹرز  اور تجربہ کار نرسز کے ساتھ ساتھ ان کی عمر اور موسم کی تلخیوں کے حساب سے تمام تر سہولیات ایک ہی جگہ پر موجود ہوتی ہیں۔

اور بچے فقط ایسے ہی والدین کو وہاں منتقل کرتے ہیں، جن کی بڑھاپے کے سبب ذہنی و جسمانی حالت کو مستقل طبی نگہداشت کی ضرورت ہو۔

حقیقت پسندی سے اگر دیکھا جائے تو یہ ان کی بےحسی نہیں بلکہ احساس ہے۔ ہاں مگر یہاں کی زندگی کو وہاں کی نظر سے دیکھنا محض ہماری کوتاہ نگاہی ہے۔ البتہ وہی معاملات اگر وہاں بھی نظر آئیں تو یہ یقینا لمحۂ فکریہ ضرور ہے۔ ایک طرف کھڑے پانی کے جوہڑ کی صورت جامد تو دوسری جانب سمندر میں ٹھاٹھیں مارتی لہروں کی طرح رواں دواں زندگی۔ دو مختلف سماج، دو الگ سمتیں اور نظریات میں مشرق و مغرب کا فرق۔ موسم، معاشرہ، حالات، طرز زندگی، سب کچھ الگ۔ مگر ہمارے معاشرے میں ایدھی سینٹرز میں سینیئرز ہومز تو گھروں کے بدترین حالات سے لڑتے لاچار و لاوارث بزرگوں سے بھی بھرے پڑے ہیں۔ یہاں کے سینیئر ز ہومز میں کبھی چکر لگائیے  اور مشاہدہ کیجیے کہ بزرگ کس طرح اس عمر میں بھی اپنی زندگی بھرپور انداز سے جی پا رہے ہیں اور پھر ایک نظر ایدھی سینٹرز پر نظر ڈالیے، جو فرق ملے گا وہ یہ کہ یہاں کا بڑھاپا بھی رنگوں سے بھرپور اور وہاں کا بڑہاپا فقط ایک طعنہ اور صعوبت۔

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here