مہناز اختر

رسک لے کر یا غفلت برت کر ’’اللہ مالک ہے‘‘ یا ’’دیکھا جائے گا‘‘ کہنا توکّل نہیں ہماری مجرمانہ غفلت ہے ۔ توکّل اونٹ کو بیابان میں کھلا چھوڑ کر غافل ہونے کا نام نہیں بلکہ اونث کی حفاظت کا اہتمام کرنے کے بعد بے فکر ہونا توکّل کہلاتا ہے۔ من حیث القوم حادثات کی ذمّہ داری  معاشرے پر ڈالنا ہماری عادت بن چکی ہے۔ معاشرہ افراد اور خاندانوں کے مجموعے کا نام ہے اور خاندان ماں اور باپ مل کر بناتے ہیں۔ ریاست اور معاشرے سے پہلے اولاد کی نگہداشت اور حفاظت والدین کی ذمّہ داری  ہے۔ میں آپ کی توجہ زینب کی ماں کے دکھ کے ساتھ ساتھ اس کے والد کے غیر ذمّہ دارانہ رویّے کی طرف بھی دلانا چاہتی ہوں، جسے شاید وہ اور مذہبی الجھن کا شکار کنفیوز طبقہ روحانیت اور توکّل کا نام دیتا ہے۔  ایک انٹرویو کے دوران زینب کی والدہ کے الفاظوں پر غور کیجیے، ’’ہم مدینہ میں تھے، زینب کے پاپا کے پاس کال آئی کہ زینب گم ہو گئی ہے تو میں نے امین صاحب سے کہا گھر چلتے ہیں۔ انہوں نے کہا کے ‎ اللہ کے گھر کو چھوڑ کر زینب کے پاس جانا چاہتی ہو اور جب اس کی لاش ملنے کی خبر ملی تو انہوں نے کہا کے میں نے زینب کو رسول اللہ صلی اللہ وسلم کے حوالے کر دیا۔  زینب کچھ عرصے سے چپ چپ سی  تھی، آخری بار ملاقات ائیرپورٹ پر ہوئی، جہاں زینب مجھے دیکھ رہی تھی اور میں بھی بار بار پلٹ کر اُسے دیکھ رہی تھی۔ میری زینب نے قربانی دے دی ہے اب کسی کے ساتھ ایسا نا ہو اللہ کرے وہ ظالم زمین میں دھنس جائے۔‘‘

اولاد کی نگہداشت اور حفاظت والدین کا فرض ہے ، فرض ترک کر کے نفل عمرے کا اہتمام شاید آپ کے تئیں باعث ثواب ہو مگر آپ کی جنّت کی خواہش نے آپ کی معصوم بیٹی کو ننھی سی عمر میں جیتے جی جہنم دکھا دی۔ کیا اللہ مکہ اور مدینہ تک محدود تھا، جو آپ کو یہاں نہ ملتا؟ آپ جانتے تھے کے آپ شہر قصور میں رہتے ہیں، جو بچّوں کے ساتھ جنسی زیادتی کے حوالے سے مشہور ہے پھر بھی ایسی لاپرواہی؟

جنّت کمانے کے شارٹ کٹ نے ہی آج ہمیں تباہی کے دہانے پر کھڑا کردیا ہے۔ زینب کے ساتھ کی گئی سفاکی کسی ایک شخص کا اضطراری عمل نہیں تھا بلکہ اسطکے پیچھے جنسی شکاریوں کا منظّم گروہ ہے، جس نے یقیناً آپ کے عمرے پر جانے کی خبر سن کر زینب کی مکمل ریکی کی ہو گی۔ زینب کی گمشدگی کے بعد جتنا آپ اداروں پر دبا‍‌ؤ ڈال سکتے تھے اتنا آپ کے رشتہ دار نہیں۔

تمام ماہر سماجیات اس بات پر متّفق ہیں کہ بڑھتی ہوئی آبادی معاشی و معاشرتی مسائل کو جنم دیتی ہے ۔ گنجان آباد شہر نفسیاتی مسائل اور جرائم کی آماج گاہ ہوتے ہیں۔ جرائم کی روک تھام کی ذمّہ داری  یقیناً قانون نافذ  کرنے والے اداروں پر عائد ہوتی ہے مگر جرائم کی بڑھتی شرح اور اسباب کا پتا لگانا محکمہ سماجی بہبود اور علاقے کے سیاسی نمائندوں کا فرض ہے۔ سانحہ زینب کے بعد سے بچوں کی جنسی حملوں سے بچاؤ کے حوالے سے تربیت کی مانگ زور و شور سے کی جا رہی ہے مگر تربیت کی ضرورت والدین کو بھی ہے ۔ حکومت کی جانب سے ایسے اقدامات اور آگاہی مہم کی ضرورت ہے، جس کے ذریعے ہر نئے جوڑے کوتربیت دی جائے کے وہ کب اپنی اولاد کو دنیا میں لائیں اور بحیثیت والدین ان کی کیا کیا ذمّہ داریاں ہیں اور وہ اپنی اولاد کے حقوق کی بابت ریاست کو جوابدہ ہیں اور ریاست بھی عوام کو جوابدہ ہے۔ ہمارے یہاں جب بھی پاپولیشن کنٹرول یا فیملی پلاننگ کی بات کی جاتی ہے تو مذہبی الجھن کا شکار کنفیوز طبقہ اسے قتل اولاد کے موضوع سے جوڑ دیتا ہے، جو سراسر کم علمی ہے۔ قتل اولاد غیر ضروری اسقاط حمل کا مدّعا ہے اور فیملی پلاننگ حمل سے گریز کا موضوع ہے۔ نئے جوڑے کو اس بات کی آگا ہی دی جانی چاہیے کہ وہ چار بچوں کی بہ نسبت دو بچوں کی پرورش و حفاظت بہتر طریقے سے کر سکتے ہیں اور خود بھی معاشی دباؤ سے آزاد نسبتاً زیادہ بہتر زندگی گزار سکتے ہیں۔

ہمارے معاشرے میں بچّہ اور بچّی ، مرو و زن دونوں ہی استحصال کا شکار ہیں اور یہاں وسائل کے ساتھ ساتھ آگہی کا بھی فقدان ہے۔ یہ ایک تلخ حقیقت ہے کہ غریب اورترقی پذیرممالک میں بچوں کو کار آمد شے تصور کیا جاتا ہے۔ غریب اور غربت کی سطح سے نیچے زندگی commodity گزارنے والے خاندانوں میں بچوں کو کام پر لگادیا جاتا ہے، جہاں بچوں کا معاشی و جنسی استحصال عام بات ہے۔ دیہاتی اور قبائلی معاشروں میں بیٹی بیاہنے کے بدلے لڑکی کا باپ لڑکے سے رقم وصول کرتا ہے، لڑکی جتنی کم عمر ہوگی رقم اتنی زیادہ ہوگی۔ پہلے ماں باپ رحمت سمجھ کر اولاد پیدا کرتے ہیں بعد میں برے نصیبوں یا وسائل کی کمی کا رونا روکر اپنے بچوں کی زندگی کو زحمت بنا دیتے ہیں۔ آپ کبھی غریب علاقوں میں قائم جیل نما مدرسوں کا دورہ کریں، جہاں اکثریت غریب بچوں کی ہوتی ہے۔ ان مدرسوں کے بچوں کے چہرے سپاٹ اور تھکن زدہ نظر آتے ہیں اور حفظ قرآن اور دینی تعلیم کے نام پر بچوں کو ہر قسم کے تشدد کا نشانہ بنایا جاتا ہے اور والدین جنّت  میں سونے کا تاج پہننے کی سعادت، مفت خوراک و رہا‏‏ئش اور وظائف کے لالچ میں اپنی اولاد کو جہنم میں جھونک دیتے ہیں۔

ایسا نہیں ہے کہ مسائل اور آگہی کا فقدان صرف غریب اور نچلے طبقوں میں پایا جاتا ہے، امیر اور متوسط طبقے کے والدین بھی اولاد کے حقوق اور تربیت سے غافل ہیں۔ ہمیں اپنے معاملات اللہ پر چھوڑنے اور اپنے مسائل قالین کے نیچے ڈالنے کی عادت پڑچکی ہے۔ میں زینب کی والدہ اور ان جیسے تمام والدین کو کہنا چاہتی ہوں کے زینب کی قربانی رائیگاں گئی کیونکہ زینب نے قربانی نہیں دی اس پر ظلم ہوا تھا اور زینب کے بعد بھی چار بچوں کے ساتھ درندگی کے واقعات رپورٹ ہو چکے ہیں۔ ظالم نہ ہی  زمیں میں دھنسے ہیں اور نا ہی ان پر اللہ آسمان سے ‏عذاب بھیجے گا کیونکہ دنیا میں انصاف اورظلم کے خلاف اٹھ کھڑے ہونے کی ذمّہ داری ہمیں دی گئی ہے، ہمارے عمل سے ہی یہ دنیا جنّت یا جہنّم بن سکتی ہے، ہمیں اپنے بچّوں کوصرف زینب ہی نہیں بلکہ شکاری درندہ بننے سے بھی بچانا ہے یہ درندے آسمان سے نہیں اترتے یہ اسی معاشرے کی پیداوار ہیں۔ ہمارے اداروں کی مجرمانہ غفلت، ہماری کوتاہیاں اور فی سبیل اللہ یا خون بہا لے کر معاف کرنے کی روایت نے ان ظالموں کو مضبوط بنایا ہے۔ خدارا خواب غفلت سے بیدار ہوں اور اپنے بچّوں کی حفاظت کریں اور اپنی غفلت اور کمزوریوں کو تقدیر، صبر اور توکّل کا نام دینا بند کریں۔

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here