وقاص احمد

میری ایک بہت محترم جاننے والی فیملی ہے۔ میاں اور ان کی بیگم دونوں خدا ترس اور دردمند قسم کے لوگ ہیں۔ ان کے گھر میں ایک بہت مذیدار قسم کا تماشہ تقریباً ہر وقت چلتا رہتا ہے۔ بیگم صاحبہ چونکہ چائلڈ لیبر کے شدید خلاف ہیں اس لیے کسی بھی صورت اپنی گھر میں کوئی کم عمر ملازمہ رکھنے کو تیار نہیں۔ اپنی سہولت کے لیے جب بھی گھر میں انہوں نے ہیلپر رکھی ہے وہ جوان لڑکی کو ہی رکھتی ہیں۔ اپنے گھر کے طور طریقے، کام کاج سکھانے میں انہیں 2-3 مہینے لگ جاتے ہیں۔ دوسری طرف میاں صاحب ایک وکھری ٹائپ کے غریب پرور بندے ہیں۔ بیگم صاحبہ جس بھی لڑکی کو ملازمت پر رکھتی ہیں یہ صاحب اگلے سال، چھے مہینے کے اندر اس لڑکی کے جہیز کا انتظام کر کے اس کے گھر والوں کو دیتے ہیں اور بصا اوقات کوئی مناسب سا رشتہ بھی ڈھونڈ دیتے ہیں اور بیگم صاحبہ پھر خالی ہاتھ رہ جاتی ہیں۔ ان کا ہمیشہ سے ایک ہی شکوہ رہا ہے کہ جس جس لڑکی پر جان مار کر وہ اس کو اپنے کاموں کے لیے تربیت دیتی ہیں، میاں صاحب اس کی شادی کروا دیتے ہیں۔

ان دونوں اچھے لوگوں سے ملے مجھے عرصہ ہو چلا، امید ہے یہ کام ابھی بھی چل رہا ہوگا۔ مگر مجھے یہ قصہ کل رات اچانک ذہن میں موجودہ الیکشن کے نتائج دیکھ کر آیا۔

اس ملک میں بھی وزیراعظم ملازمین کے طور پر بھرتی کیے جاتے ہیں۔ بھٹو سے لیکر عمران تک سب ایک ہی طریقہ سے آئے ہیں۔ بیچ میں جونیجو، بے نظیر اور نوازشریف ہی قابلِ ذکر نام ہیں۔ باقی وزرائے اعظم کے نام بھی کسی کو یاد نہیں۔ مسئلہ تب پڑتا ہے کہ وزیراعظم بننے کے فوراً بعد یہ لوگ جب عوام میں جاتے ہیں تو ان پر انکشاف ہوتا ہے کہ وہ تو عوام کے ملازم ہیں،خلائی مخلوق کے نہیں۔ عوام ان کو پیار دیتی ہے، ان کو ٹریننگ دیتی ہے، ان کو سمجھاتی ہے کہ طاقت کا مرکز ہم ہیں، خلائی مخلوق نہیں۔ مگر جیسے ہی یہ وزرائے اعظم عوامی سیاست میں ماہر ہو جاتے ہیں، خلائی مخلوق ڈنڈا ڈولی کے ذریعے ان کا نکاح کسی پھانسی کے تختے، کسی جلا وطنی، کسی خودکش حملے یا کسی نا کسی اڈیالہ جیل سے پڑھا دیتی ہے اور ساتھ ہی نیا ملازم وزیراعظم بھرتی ہوجاتا ہے۔

تازہ ترین ملازم عمران ہے، اپنے دود ملازمت میں صرف اور صرف اس کنفیوژن کی بنا پر وزارت عظمیٰ اس سے دور رہی کہ وہ عوامی اور اسٹیبلشمنٹی اختیار کے درمیان پنڈولم کی طرح جھولتا رہا۔ 15 سال اس کنفیوژن میں گزارنے کے بعد 2010 میں جیسے ہی خاں صاحب کے تمام کانسپٹ کلیئر ہوگئے کہ وزارت عظمیٰ کیسے ملنی ہے، ساتھ ہی ان کا دور عروج شروع ہوا اور آخر کار نجانے کب سے طوعاً و کرہاً برداشت کئے جانے والا عوامی ملازم نواز شریف فارغ ہوا۔

عمران کی محض 110-115 سیٹوں پر “فقیدالمثال” کامیابی پر جھوم جھوم کر ادھ موئے ہوئے مریدین کو اطلاع ہو کہ کبھی ایک “جینیئس بھٹو” بھی ہوتا تھا، کبھی ایک “چاروں صوبوں کی زنجیر بے نظیر” بھی ہوتی تھی، ایک “دو تہائی اکثریت” کی طاقت والا نواز شریف بھی ہوتا تھا۔ تینوں نے ایک ہی غلطی کی اور قریباً ایک جیسے انجام سے دوچار ہوئے۔ سو پاکستان کی بہتری، پاکستان میں استحکام اور آل یوتھ کے روحانی پیشوا کی ترقیوں اور کامیابیوں کے لیے میرے کچھ پرخلوص مشورے حاضر خدمت ہیں۔

1- خاں صاحب! آپ وزیراعظم رہنا چاہتے ہیں تو اپنا قبلہ و کعبہ کی درست سمت متعین کر لیں، آج دوپہر 12 بجے بنی گالہ کی چھت پر کھڑے ہو کر پنڈی کا رخ کریں اور اپنے سیاسی سجدوں کی مارکنگ کر لیں۔

2- کبھی بھولے سے بھی اس آل یوتھ کو اپنی طاقت نا سمجھ بیٹھنا کہ جتنا پڑھا لکھا، جوان، انقلابی اور گرم خون کا ووٹر بھٹو اور بے نظیر کو ملا تھا آپ کے پاس اس کا 10٪ بھی نہیں اور جتنے ووٹ اور سیٹیں نواز شریف نے ہر دور میں حاصل کیے ہیں آپ اس کے آدے پر بھی نہیں تینوں کا انجام مدنظر رکھیں۔

3- خلائی مخلوق کو خوش کرنا زیادہ مشکل نہیں، پتہ نہیں پرانے وزرائے اعظم اس آسان سے کام کو کیوں نا کر سکے۔ ان کی صرف دو تین بنیادی اور معصومانہ خواہشات ہیں۔ ایک یہ کہ آپ جو کچھ کمائیں ان کے قدموں میں ڈھیر کردیں کہ جتنا انہیں پسند ہو وہ رکھ لیں باقی ہمیں دان کر دیں۔ دوسرا یہ کہ وہ دنیا کے اہم ترین ممالک سے روابط میں آپ کی جاہلانہ input نہیں چاہتے سو اس سے پرہیز کریں۔ اور تیسرا یہ کہ اوپر والے دونوں کاموں پر ان سے کوئی سوال جواب اور احتساب وغیرہ کی بکواس نا ہو۔

4- جن ٹی وی چینلز نے آپ کو اٹھا کر یہاں پر بٹھایا ہے ان کے چند مخصوص اینکرز کی باتوں اور باڈی لینگویج پر پوری نظر رکھیں۔ خلائی مخلوق کے پاس بعض اوقات اتنا ٹائم نہیں ہوتا کہ دو ٹکے کے وزیراعظم کو براہِ راست اپنی توقعات سے آگاہ کریں۔ اس کے لیے انہوں نے ان میڈیا پرسنز کو ایسے ہی رکھا ہوا ہے جس طرح پنڈ کے چوہدری مراثیوں کو خط و کتابت کے لیے استعمال کرتے ہیں۔

5- خلائی مخلوق سے منسلکہ کسی متنازع خبر پر آپ یا آپ کے وزیر اطلاعات کا وضاحتی بیان ڈی جی آئی ایس پی آر سے پہلے آنا چاہیے۔ اس وفاداری کے مظاہرے سے خلائی مخلوق کے دل میں آپ سے محبت کا عنصر بڑھے گا۔

6- اپوزیشن اگر “ہر ایک کا احتساب” ٹائپ کوئی بکواس کرتی ہے تو آپ نے صرف ووٹنگ سے اسے ریجکٹ نہیں کرنا بلکہ علی محمد خان سے فوجی قربانیوں پر پر آشوب تقریر کروا کر اپوزیشن کو غداری اور مودی کی یاری کے فتوے بھی بانٹنے ہیں۔ یہ بھی قرب محبوب کے لیے نہایت ضروری ہے۔

7- روزانہ کے معمولات، مثلاً کھانا پینا، ٹائلٹ جانا, جادو ٹونے اور گنڈا پوری شہد وغیرہ کے استعمال کے علاوہ دیگر تمام معاملات میں خلائی مخلوق کی اجازت بہت ضروری ہے۔

8- بہتر ہے کہ خلائی مخلوق کے سربراہ کو وزیراعظم ہاؤس میں آنے کی زحمت کم سے کم دی جائے، ان کو اچھا نہیں لگتا۔ ویسے بھی چند کلومیٹر کا فاصلہ ہے اور ماشاءاللہ جتنے آپ فٹ ہیں، اتنے کلومیٹر تو آپ جاگنگ کرتے ہوئے بھی جا سکتے ہیں۔

9- اوپر والی تمام احتیاط کے باوجود اپوزیشن پر نظر رکھیں، اگر اچانک کوئی مذہبی, لسانی یا علاقائی جماعت خصوصاً طاہر القادری صاحب دھرنا دیکر بیٹھ جائیں تو ان کے ظاہری مطالبات کے بجائے بادی النظر مطالبات پر غور کریں۔ کوئی دھرنا مناسب وقت سے زیادہ بڑھ جائے تو فوراً سے پہلے خلائی مخلوق کے ریسرچ سنٹر سے دوائی کے لیے رابطہ کریں۔

10- عام طور پر پرائیویٹ نوکریوں میں باس حضرات اپنے ماتحتوں کی اچھی کارکردگی کا سہرا اپنے سر باندھ لیتے ہیں اور ناکامیاں ماتحتوں کے سر منڈھ دیتے ہیں۔ باس کو ماتحت کی اضافی کارکردگی بھی اچھی نہیں لگتی کیونکہ اس سے اس کی اپنی سیٹ خطرے میں پڑ جاتی ہے۔ اس نوکری میں بھی ایسا ہی ہے۔ ایک اچھے ملازم کی طرح آپ سے اس بات کی توقع کی جاتی ہے کہ آپ باس کے کچھ کہنے سے پہلے اپنی حکومت کی تمام تر achievements کا سہرا باس کے سر باندھ دیں چاہے اس کا اس سے تعلق ہو یا نا ہو۔ اور تمام ناکامیوں کی ذمہ داری فوراً سے پہلے قبول کر لیں چاہے آپ کا اس سے تعلق ہو یا نا ہو اور ہر ممکن حد تک پرفارمینس کے چھکے چوکوں سے پرہیز کریں کیونکہ خلائی مخلوق کا جوابی چھکا آپ کو وزیراعظم ہاؤس سے اڈیالہ جیل سے لا پھینکے گا۔

قصہ مختصر، اس ملک کی بیماریوں کا واحد علاج “تسلسل” ہے کیونکہ تسلسل ہی استحکام دیتا ہے۔ اگر آپ کو قسمت نے اٹھا کر یہاں بٹھا دیا ہے تو کوشش کریں کہ اگلے پانچ سال سکون سے گزریں۔ اپنی نوکری پوری کریں۔ پانچ سال بعد مجھ جیسے سرپھرے ووٹ کی عزت کے لیے کچھ دیر دوبارہ اپنا خون جلا لیں گے۔ تب تک موج ماریں۔